لکھنؤ ، (یواین آئی) سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے صدراورسابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو نے کہا ہے کہ اتر پردیش میں بی جے پی کے دورِ حکومت میں جرائم اور بدعنوانی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ قتل، لوٹ مار، چوری، ڈکیتی اور خواتین کے خلاف جرائم کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حکومت کا امن و امان پر زیرو ٹالرنس کا دعویٰ مکمل طور پر کھوکھلا ثابت ہوا ہے۔ یادو نے پیر کو جاری ایک بیان میں کہا کہ ریاست میں ہر روز کوئی نہ کوئی سنگین جرم سامنے آ رہا ہے۔ سیتا پور میں ریٹائرڈ لیکھ پال کے گھر اہل خانہ کو یرغمال بنا کر 17 لاکھ روپے کی ڈکیتی، امبیڈکر نگر کے اکبر پور علاقے کے گاندھی آشرم میں دن دہاڑے خاتون کا قتل اور ایٹہ میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کا قتل جیسے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ امن و امان کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور پوری حکومت جھوٹے اعداد و شمار اور گمراہ کن دعووں کے ذریعے سچائی چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ سماج وادی پارٹی(ایس پی) صدر نے الزام لگایا کہ مجرموں کو بی جے پی لیڈروں اور پولیس کی پشت پناہی حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے رہتے ہوئے نہ جرائم رک سکتے ہیں اور نہ ہی بدعنوانی، کیونکہ اقتدار کا نظام خود اس میں حصہ دار بن چکا ہے۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ خواتین کے خلاف جرائم اور سائبر کرائم کے معاملات میں اتر پردیش ملک میں سرفہرست پہنچ گیا ہے، جس کی براہ راست ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے بدعنوانی کے معاملات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جل جیون مشن میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور کئی اضلاع میں ٹنکیاں ٹوٹ کر گر چکی ہیں۔ چترکوٹ میں ٹریژری گھپلہ، گونڈہ میں یوپی کوآپریٹو بینک میں کروڑوں روپے کی بے ضابطگی اور گنگا کی صفائی کے نام پر بجٹ کے غلط استعمال جیسے معاملات حکومت کے طریقہ کار کو بے نقاب کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوڈین کف سیرپ جیسے کیسز اب ریاست سے باہر تک بحث کا موضوع بن چکے ہیں۔ مسٹر اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے دوران ریاست میں گھپلوں اور سرکاری فنڈز کی لوٹ مار کا سلسلہ مسلسل بڑھا ہے۔ عوام بدعنوانی اور نقص امن سے تنگ آ چکے ہیں۔












