کانپور،سماج نیوز سروس : معاشرے کی اصلاح، گھریلو نظام کے استحکام اور فرسودہ رسومات کے خاتمے میں خواتین کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر گھر کی خواتین بیدار ہو جائیں تو شادی بیاہ میں ہونے والی فضول خرچی اور جہیز جیسی لعنت کا خاتمہ چند لمحوں میں ممکن ہے۔ ان خیالات کا اظہار ناظم مدرسہ للبنات معظم نگر مولانا محمد کوثر ندوی نے جمعیۃ علماء کے زیر اہتمام شہری صدر ڈاکٹر حلیم اللہ خاں کی سرپرستی اور ریاستی ناظم اعلیٰ مولانا امین الحق عبد اللہ قاسمی کی نگرانی میں منعقدہ اجلاس معراج النبیؐ میں اجتماع خواتین بعنوان تربیت زوجین سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ مولانا کوثر ندوی نے اپنے فکر انگیز خطاب میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے خواتین کو وہ ایمانی طاقت اور قوتِ ارادی عطا کی ہے جس سے وہ بڑی بڑی تبدیلیاں لا سکتی ہیں۔ انہوں نے حضرت عمر فاروقؓ کے قبول اسلام کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بہن کی استقامت ہی تھی جس نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔ انہوں نے موجودہ دور کے المیے پر روشنی ڈالتے ہوئے قائد جمعیۃ مولانا محمود اسد مدنی کے حوالے سے بتایا کہ مسلمانوں نے گزشتہ 18/ ماہ میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ کروڑ روپے صرف شادیوں پر خرچ کیے ہیں، جو کہ ایک قوم کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ جو قوم شادیوں میں اسراف کرے اور اسکول کالج نہ بنائے، اس کی شکایتیں کبھی دور نہیں ہو سکتیں۔مولانا ندوی نے شادیوں میں تاخیر کو فتنوں کا سبب قرار دیتے ہوئے ماؤں اور بہنوں سے اپیل کی کہ وہ نکاح کو آسان بنائیں، جہیز کے مطالبات کو مسترد کریں اور بچیوں کی شادی میں رکاوٹ بننے والی دنیاوی رسومات کو ترک کریں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بیٹیوں کو جہیز کے نام پر لاکھوں روپے دینے کے بجائے وہ رقم ان کی اعلیٰ تعلیم پر خرچ کی جائے تاکہ وہ ایک باوقار زندگی گزار سکیں۔ نیز انہوں نے وراثت میں بیٹیوں اور بہنوں کو حصہ نہ دینے والوں کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اپنی بہن بیٹیوں کا شرعی حق دباتے ہیں، ان کی کمائی حرام اور ان کی عبادات اللہ کے یہاں ناقابل قبول ہیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہر کی عظیم دینی درسگاہ مدرسہ جامع العلوم پٹکاپور کے استاذ حدیث مفتی محمد سلطان قمر جامعی نے ”تربیت زوجین“کے موضوع پر نہایت جامع بیان دیا۔ انہوں نے قرآن کریم کی آیت ”وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو“ کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا کہ میاں بیوی کا رشتہ ایک دوسرے کے عیوب کی پردہ پوشی اور ایک دوسرے کے لیے باعثِ زینت و سکون ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ گھروں میں سکون دولت اور بنگلوں سے نہیں بلکہ خوفِ خدا اور باہمی احترام سے آتا ہے۔ اگر میاں بیوی ایک دوسرے کے حقوق اور جذبات کا خیال رکھیں تو گھر جنت کا نمونہ بن سکتا ہے۔












