• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
جمعرات, مارچ 5, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

پہچان کی سیاست اور اسد الدین اویسی

Hamara Samaj by Hamara Samaj
جنوری 22, 2026
0 0
A A
پہچان کی سیاست اور اسد الدین اویسی
Share on FacebookShare on Twitter

مسلمانوں کے درمیان ایک طبقہ اپنی سیاست اپنی قیادت کی بات کرنے والا رہا ہے ۔ اسی فکر کے تحت ملک میں آزادی کے بعد کئی تجربے ہوئے ۔ ڈاکٹر عبدالجلیل فریدی نے آل انڈیا مسلم مجلس بنا کر سیاسی قیادت فراہم کرنے کی کوشش کی ۔ وہیں مسلم جماعتوں نے مسلمانوں کو سیاسی طور پر بیدار کرنے کے لئے مشترکہ پلیٹ فارم مسلم مجلس مشاورت قائم کیا ۔ ملک میں رہ رہ کر کئی مسلم سیاسی جماعتیں وجود میں آئیں ، لیکن عام مسلمانوں نے ان میں بھروسہ دکھانے کے بجائے غیر مسلموں کو اپنا لیڈر تصور کیا ۔ شمال کی بات کریں تو مسلم مجلس کے بعد پیس پارٹی ہی اپنے چندامیدواروں جتا سکی ۔
روایتی طور پر مسلمان کانگریس کے ووٹر تھے ، لیکن کانگریس کے ذریعہ مسلسل مسلمانوں اور ان کے مسائل کو نظر انداز کئے جانے کی وجہ سے وہ سیکولر کہی جانے والی ریجنل پارٹیوں کے ساتھ چلے گئے ۔دلت اور مسلم کے ساتھ چھورنے کی وجہ سے ایک طرف کانگریس کزور ہوئی وہیں دوسری طرف ریجنل پارٹیاں مضبوط ہو گئیں ۔ دلتوں کو کانشی رام ، رام ولاس پاسوان اور اٹھاولے جیسے لیڈر ملے ، کوئری ،کرمی ،ملاح ، سینی اور او بی سی ذاتیں اپنے اپنے لیڈران کے ارد گرد گول بند ہو گئیں ۔ یہاں تک کے تین ، چار فیصد آبادی والی ذاتوں کے بھی اپنے لیڈر اور اپنی پارٹیاں ہیں ۔ صرف مسلمان ایسے ہیں جو چودہ فیصد آبادی ہونے کے باوجود اپنے آئینی حقوق سے محروم ہیں ۔
2014ء کے بعد مسلمانوں میں اور مایوسی پیدا ہوئی ۔ ترقی کے نام پر اقتدار میں آئی بی جے پی نےہندو اکثریت کو اپنے ساتھ جوڑنے کے لئے خود کو متشدد مسلم مخالف ہندو سیاسی جماعت کے طور پر پیش کیا ۔ اس کے نتیجہ میں سیکولر کہی جانے والی سیاسی جماعتیں بھی مسلمانوں کی بات کرنے ، ان کے ساتھ اسٹیج شیئر کرنے سے بچنے لگیں ۔ وہ خود کو ہندو ثابت کرنے میں لگ گئیں ۔ کانگریس جیسی سیکولر جماعت بھی سوفٹ ہندوتوا کے راستہ پر چل پڑی۔ مندروں کی پری کرما، پوجا پاٹ ، آرتی ،تلک اور جنیو دکھایا گیا ۔ لیکن اس کا انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ ان کی سیٹیں اور کم ہو گئیں ۔ یہاں تک کہ مایا وتی کی بی ایس پی اترپردیش کی سیاست سے ہی باہر ہوگئی ۔ ایسا لگنے لگا کہ ملک کی جمہوریت کو بچانے اور بی جے پی کو اقتدار سے ہٹانے کی ذمہ داری صرف مسلمانوں اور عیسائیوں کے کندھوں پر ہے ۔ سیکولر پارٹیاں ہارتی ہیں تو کہتی ہیں کہ اسے مسلمانوں نے ووٹ نہیں دیا اور بی جے پی کہتی ہے کہ اسے مسلمانوں کے ووٹ کی ضرورت نہیں اسی لئے وہ مسلمانوں کو ٹکٹ بھی نہیں دیتی ۔ وہ مسلم ووٹوں کو بانٹ کر بے اثر کرنے کے منصوبہ پر کام کرتی ہے ۔
مسلمانوں کو سیاسی طور پر گمراہ کرنے کے لئے آر ایس ایس نے ایک طرف مسلم راشٹریہ منچ کو مضبوط کیا ہے وہیں دوسری طرف مسلم دانشوروں کو اس بات کے لئے قائل کیا ہے کہ مسلمانوں کو آر ایس ایس سے مقالمہ کرنا چاہئے ۔مسلم راشٹریہ منچ کے ذمہ دار یا آر ایس ایس کے حلیف دانشور ، مسلمانوں کے خلاف ہجومی تشدد، پولس ،انتظامیہ اور عدلیہ کے دوہرے رویہ اور آئینی حقوق کی پامالی پر کبھی کوئی سوال نہیں اٹھاتے کیوں ؟ اس کی وجہ سے مسلمانوں کا بڑا طبقہ اب اپنی سیاست اپنی قیادت کے بارے میں شدت سے سوچنے لگا ہے ۔
اسد الدین اویسی سڑک سے پارلیمنٹ تک جس زبان کا استعمال کرتے ہیں اسے مسلمانوں میں پسند کیا جاتا ہے ۔ لیکن ابھی تک انتخابات میں انہیں متوقع کامیابی نہیں ملی ۔ بہار اسمبلی میں اسد الدین اویسی کی پارٹی نے 25 امیدوار اتارے تھے ۔ آل انڈیا اتحاد المسلمین نے جیت تو پانچ سیٹوں پر حاصل کی لیکن دو پر دوسرے اور بارہ پر تیسرے پر رہی ۔ اب مہاراشٹر میونسپل کارپوریشنوں کے الکیشن میں 125 سیٹیں جیت کر ریکارڈ قائم کیا ہے ۔ ریاست کی 29کارپوریشنوں میں سے 25 پر بی جے پی نے بھگوا لہرا دیا ۔ شیو سینا کے قلع بی ایم سی کو بھی بی جے پی نے فتح کر لیا ہے ۔ یہاں یہ اس وجہ سے ممکن ہوا کہ تمام سیکولر پارٹیاں اپنی ڈفلی اپنا راگ الاپنے میں لگی تھیں ۔ ادھو ٹھاکرے ، راج ٹھاکرے، شرد پوار اور اجیت پوار مل کر بھی کوئی کمال نہیں دکھا سکے ۔ شیو سینا (ادھو ٹھاکرے) کا کانگریس کے ساتھ کہیں اتحاد تھا اور کہیں نہیں ۔ مہاراشٹر کارپوریشنوں کا الیکشن کسی کو ہرانے کا نہیں بلکہ اپنے امیدوار کو جتانے کا تھا ۔ اس الیکشن میں مسلمان کنفیوز نہیں ہوئے ان کے سامنے صورتحال صاف تھی ۔ حالانکہ کچھ حلقوں میں ان کا ووٹ دوسری پارٹیوں کو بھی گیا لیکن اکثریتی حلقوں میں مسلمانوں نے اپنا ووٹ اے آئی ایم آئی ایم کو دیا ۔ یعنی یہاں ہندو ووٹ بٹ گئے اور مسلم ووٹ یکطرفہ اویسی کی پارٹی کو ملے نتیجہ کے طور پر انہیں بڑی جیت حاصل ہوئی ۔ اے آئی ایم آئی ایم نے وہی فارمولہ اپنایا جو مسلم اکثریتی حلقوں میں بی جے پی اپناتی رہی ہے ۔ جبکہ مالے گاؤں میں اسلام پارٹی نے مجلس اتحادالمسلمین کو نقصان پہنچایا لیکن پھر بھی اویسی کی پارٹی کو حیدرآباد کے بعد مہاراشٹر میں اتنی بڑی تعداد میں سیٹیں ملی ہیں جس کی انہیں امید نہیں رہی ہوگی ۔
اگر یہ فارمولہ مغربی بنگال ، اترپردیش ،آسام وغیرہ میں اپنایا گیا تو اے آئی ایم آئی ایم مسلمانوں کی قومی پارٹی اور اسد الدین اویسی قومی لیڈر بن کر ابھر سکتے ہیں ۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ مہاراشٹر کی جیت سیکولر پارٹیوں کے لئے پیغام ہے کہ مسلمانوں کو نظر انداز کرنا ان کو مہنگا پڑ سکتا ہے ۔ راج بھر ،نشاد ، کشواہا ، پاسوان ، مانجھی ، ساہنی ، کرمی ،یادو ، ملاح وغیرہ اپنے لوگوں کو اپنے جھنڈے کے نیچے جمع کرکے پہچان کی سیاست کر ان کے حقوق دلانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ایسے میں مسلمان کب تک دوسرون کی جھنڈا برداری کرتے رہیں گے ۔ وہ اسد الدین اویسی کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنے آئینی حقوق کے لئے جدوجہد کر سکتے ہیں ۔ اس پر کسی کو کوئی افتراض نہیں ہونا چاہئے ۔ دانشوروں کے ایک طبقہ کا یہ بھی خیال ہے کہ اس سے ملک میں ایک الگ طرح کا ماحول پیدا ہوگا ۔ بی جے پی جو ہندو ؤں کی پارٹی بننے کی کوشش کر رہی ہے ۔ وہ ہندو ہندو کرے گی دوسری طرف اویسی مسلم مسلم کریں گے ۔ اس سے ملک میں تناؤ پیدا ہوگا اور جمہوریت کو نقصان پہنچے گا ۔ ابھی ساٹھ فیصد لوگ بی جے پی کے خلاف ووٹ کرتے ہیں ، اس کا مطلب ہے کہ وہ بھاجپا ،آر ایس ایس کے نظریہ سے اتفاق نہیں رکھتے ۔ پھر یہ صورتحال بدل جائے گی ۔ ہمارے بزرگوں نے ملک کے الگ الگ طبقات ، ذاتوں ، زبانوں اور کثرت میں وحدت کو دھیان میں رکھ کر یہاں مذہب کے بجائے جمہوری نظام کو اپنایا تھا ۔ آئین میں برابری ، مساوات اور حقوق کی گارنٹی دی گئی تھی ۔ یہ ملک کو جوڑے رکھنے کا واحد ذریعہ ہے ، اس کے تانے بانے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے ملک کا شیرازہ بکھر جائے گا ۔ ملک دشمن طاقتیں کب سے اسے برباد کرنے کی فراق میں ہیں لیکن آئین نے اسے جوڑ کر رکھا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ایمانداری کے ساتھ آئین کو نافذ کیا جائے اور سب کے حقوق کی حفاظت ہو ۔ پہچان کی سیاست سے اتنا خطرہ نہیں جتنا سماج کو بانٹنے ، نفرت پھیلانے کے لئے مذہب کا استعمال ۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    سعودی ولی عہد کے بارے میں واشنگٹن پوسٹ کا جھوٹا پروپیگنڈہ : ڈاکٹر ارشد فہیم مدنی

    سعودی ولی عہد کے بارے میں واشنگٹن پوسٹ کا جھوٹا پروپیگنڈہ : ڈاکٹر ارشد فہیم مدنی

    مارچ 5, 2026
    انقلابِ ایران سے آج تک: قیادت، کشمکش اور مسلم دنیا کی بقا کی حکمت عملی

    انقلابِ ایران سے آج تک: قیادت، کشمکش اور مسلم دنیا کی بقا کی حکمت عملی

    مارچ 5, 2026
    فٹ بال ایشیا کپ 2027: سعودی عرب میں میزبانی کے مقامات کا اعلان

    فٹ بال ایشیا کپ 2027: سعودی عرب میں میزبانی کے مقامات کا اعلان

    مارچ 5, 2026
    آئی سی سی رینکنگ: اسمرتی مندھانا اور الانا کنگ دنیا کی نمبر ون کھلاڑی بن گئیں

    آئی سی سی رینکنگ: اسمرتی مندھانا اور الانا کنگ دنیا کی نمبر ون کھلاڑی بن گئیں

    مارچ 5, 2026
    سعودی ولی عہد کے بارے میں واشنگٹن پوسٹ کا جھوٹا پروپیگنڈہ : ڈاکٹر ارشد فہیم مدنی

    سعودی ولی عہد کے بارے میں واشنگٹن پوسٹ کا جھوٹا پروپیگنڈہ : ڈاکٹر ارشد فہیم مدنی

    مارچ 5, 2026
    انقلابِ ایران سے آج تک: قیادت، کشمکش اور مسلم دنیا کی بقا کی حکمت عملی

    انقلابِ ایران سے آج تک: قیادت، کشمکش اور مسلم دنیا کی بقا کی حکمت عملی

    مارچ 5, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist