• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
منگل, جولائی 28, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home ریاستی خبریں

آئی وٹنس(I witness) یعنی عینی شاہد کی گواہی اور ہندوستانی سیاست کے پوشیدہ باب

Hamara Samaj by Hamara Samaj
جنوری 28, 2026
0 0
A A
آئی وٹنس(I witness) یعنی عینی شاہد کی  گواہی اور ہندوستانی سیاست کے پوشیدہ باب
Share on FacebookShare on Twitter

شعیب رضا فاطمی
اردو صحافت کے معتبر نام شاہد صدیقی کی تازہ کتاب I, Witness: India from Nehru to Narendra Modi محض ایک خودنوشت یا یادداشت نہیں، بلکہ ہندوستانی سیاست کے ان مناظر کی روداد ہے جو طاقت کے ایوانوں کے اندر وقوع پذیر ہوئے اور جن تک عام تاریخ نگاری کی رسائی کم رہی۔ مصنف کا دعویٰ واضح ہے: “میں نے وہی لکھا ہے جو میں نے دیکھا، سنا اور محسوس کیا” یہی دعویٰ اس کتاب کو ایک عینی شاہد کی صف میں لا کھڑا کرتا ہے۔
کتاب کا آغاز روایتی انداز میں تقسیمِ ہند کے پس منظر سے ہوتا ہے۔ صدیقی لکھتے ہیں کہ تقسیم صرف سرحدوں کی لکیر نہیں تھی بلکہ “یادوں، رشتوں اور تہذیبوں پر کھنچی ایک گہری لکیر تھی” اس ابتدائی باب میں نہروئی ہندوستان کے جمہوری خواب، سیکولر وعدے اور ان کے گرد بنتی سیاسی نفسیات کا ذکر ملتا ہے۔ یہیں سے مصنف کا بیانیہ واضح ہو جاتا ہے کہ وہ تاریخ کو انسانی زاویے سے دیکھتے ہیں، محض تاریخِی واقعات کے طور پر نہیں۔
اس کتاب I, Witness کی بڑی طاقت یہ ہے کہ اس میں مصنف خود سیاست کے مرکز میں موجود رہا۔وہ ہندوستانی سیاسی سمندر کے کنارے پر موجود کوئی چٹان نہیں جو صرف لہروں کی تندی و تیزی کا معائنہ کرتا ہے بلکہ وہ لہروں کے اندرون میں موجود ارتعاش کی حقیقت سے بھی واقف ہے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ اقتدار کے ایوانوں میں فیصلے اکثر “آئین کی زبان سے کم اور طاقت کے توازن کی زبان سے زیادہ ہوتے ہیں”۔ نہرو، شاستری، اندرا گاندھی،وی پی سنگھ، راجیو گاندھی، اٹل بہاری واجپائی،نرسمہا راؤ ،منموہن سنگھ اور نریندر مودی سب کے ادوار پر گفتگو ملتی ہے، مگر یکساں تسبیح یا یکساں تردید کے بغیر۔
اندرا گاندھی کے ایمرجنسی دور پر وہ صاف کہتے ہیں کہ “نیت کچھ بھی ہو، ایمرجنسی نے جمہوریت کو کمزور کیا”
یہ جملہ مصنف کے اس رویے کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ شخصیات سے زیادہ جمہوری اقداراور اصولوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں ۔
نریندر مودی کے حوالے سے کتاب کے ابواب سب سے زیادہ زیرِ بحث آئے ہیں۔ صدیقی ایک مقام پر لکھتے ہیں کہ 2002 کے بعد کیے گئے انٹرویو کے تناظر میں “صحافی کا سوال اقتدار کو ناگوار گزرا، اور ناگواری جلد ہی دباؤ میں بدل گئی”۔ یہ اقتباس دراصل ہندوستان میں میڈیا اور اقتدار کے بدلتے رشتے کی علامت ہے۔اور اس حقیقت سے بھی پردہ اٹھاتا ہے کہ میڈیا پر کنٹرول کرنے کی سازش 2014کے پہلے ہی شروع ہوچکی تھی ۔
وہ موجودہ دور کو “طاقت کی مرکزیت اور بیانیے کی یکسانیت” کا دور قرار دیتے ہیں ۔ایک ایسی رائے جس سے اختلاف ممکن ہے، مگر اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ ایک ایسے شخص کی گواہی ہے جو صحافت اور سیاست دونوں کے اندر رہا۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ شاہد صدیقی بیک وقت صحافی بھی ہیں اور سیاسی رہنما بھی اور اسی لئے وہ اس سب کے معتبر گواہ بھی ہیں ۔
شاہد صدیقی کی زندگی اس کتاب کی تفہیم کے لیے ناگزیر ہے۔ وہ اردو صحافت کے معتبر ادارے ’نئی دنیا‘ کے بانی مدیر رہے، پارلیمنٹ کے رکن بھی بنے، اور مختلف سیاسی جماعتوں کے قریب رہ کر کام کیا۔ اسی دوہری حیثیت پر وہ خود لکھتے ہیں: “صحافی ہونے کے ناطے سوال میرا حق تھا، اور سیاست میں ہونے کے ناطے ان پر سوال نہ اٹھنا بھی غیر فطری تھا۔چونکہ ان کی شخصیت میں سیاست سے زیادہ صحافت کا عنصر ہے اور جو ان کو ورثہ کے طور پر ملا ہے ،اس لئے ان سے سے خاموشی کی توقع فضول سی بات تھی ۔اور ان کی یہی خوبی /خرابی ، یہی کشمکش اس کتاب کا داخلی تناؤ بھی ہے۔
یہ کہنا درست ہوگا کہ I, Witness مکمل معنوں میں دستاویزی تاریخ نہیں۔ بعض مقامات پر یادداشت کا غلبہ ہے اور قاری مصنف کی رائے سے اختلاف بھی کر سکتا ہے۔ مگر غور کریں تو ہماری تاریخ بھی کہاں حکومت وقت کے جبر سے مبرا ہے ۔حالانکہ خود صدیقی اس اعتراض کا جواب یوں دیتے ہیں کہ “یہ کتاب فیصلے صادر نہیں کرتی، گواہی پیش کرتی ہے”۔ چنانچہ اسے اسی معیار پر پڑھا جانا چاہیے۔
دراصل I, Witness ہندوستانی سیاست کی وہ کتاب ہے جو سرکاری بیانیے سے ہٹ کر عینی مشاہدے کی بنیاد پر لکھی گئی ہے۔ یہ کتاب قاری کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں، بلکہ سوال پوچھنے، اختلاف رکھنے اور یادداشت کو محفوظ رکھنے کا عمل بھی ہے۔ شاہد صدیقی کی یہ کاوش پسند کی جائے یا اس سے اختلاف کیا جائے، نظرانداز نہیں کی جا سکتی۔یہ کتاب ہندوستانی سیاست کے کئی گمشدہ باب کی کھڑکیاں کھولنے کا کام کرتی ہے ۔جسے تحقیق کے تیشہ سے در بنانا نئی نسل کے سنجیدہ اسکالر کی ذمہ داری ہے ۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    شہریوں کو کتوں کے حملوں سے محفوظ ماحول میسر ہو

    شہریوں کو کتوں کے حملوں سے محفوظ ماحول میسر ہو

    مئی 20, 2026
    کڑکڑڈوما کورٹ سے عمر خالدکو شدید جھٹکا

    کڑکڑڈوما کورٹ سے عمر خالدکو شدید جھٹکا

    مئی 20, 2026
    قربانی کے موقع پر تنازع سے بچنا چاہئے

    قربانی کے موقع پر تنازع سے بچنا چاہئے

    مئی 20, 2026
    جب چھپانے کیلئے کچھ نہیں ہے تو ڈرنے کی کوئی بات نہیں :راہل

    جب چھپانے کیلئے کچھ نہیں ہے تو ڈرنے کی کوئی بات نہیں :راہل

    مئی 20, 2026
    شہریوں کو کتوں کے حملوں سے محفوظ ماحول میسر ہو

    شہریوں کو کتوں کے حملوں سے محفوظ ماحول میسر ہو

    مئی 20, 2026
    کڑکڑڈوما کورٹ سے عمر خالدکو شدید جھٹکا

    کڑکڑڈوما کورٹ سے عمر خالدکو شدید جھٹکا

    مئی 20, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist