حیدرآباد،پریس ریلیز،ہمارا سماج: بچوں کا ادب سادہ اور بامعنی ہونا چاہیے، جس سے بچوں میں پڑھنے کاشوق اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو فروغ دیا جا سکے۔ان خیالات کا اظہار پروفیسر عرشیہ جبیں، شعبۂ اردو ،یونیورسٹی آف حیدرآباد نے کیا۔ وہ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد میں منعقدہ دو روزہ قومی سمینار بعنوان اکیسویں صدی میں بچوں کا ادب:مسائل و امکانات” کے اختتامی اجلاس سے خطاب کر رہی تھیں۔ یہ سمینار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبۂ اردو اور مرکز برائے فاصلاتی و آن لائن تعلیم اور ثقافتی سرگرمی مرکز نے مشترکہ طور پر منعقد کیا تھا۔ اس سمینار کے اختتامی اجلاس کی صدارت پروفیسر عرشیہ جبیں اور پروفیسر عزیز بانو، سابق ڈین، اسکول برائے السنہ لسانیات و ہندوستانیات نے کی۔پروفیسر عرشیہ جبیں نے مزید کہا کہ بچوں کا ادب ایسا ہونا چاہیے جس سے ان میں پڑھنے، سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں پروان چڑھ سکیں۔پروفیسر عزیز بانو نے اپنے خطاب میں مقالہ نگاروں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے بعض مقامات پر اصلاحی نکات کی طرف بھی توجہ دلائی اور کہا کہ مقالہ محض معلومات کا مجموعہ نہ ہو بلکہ اس میں موضوع کی وضاحت، منطقی ربط، حوالہ جات اور نتائج کی معنویت کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔ انھوں نے تمام مقالوں پر مجموعی رائے پیش کی اور سبھی مقالہ نگاروں کی کاوشوں کی ستائش کی۔اس اجلاس میں ڈاکٹر کہکشاں لطیف (شعبۂ ترجمہ، مانو)، ڈاکٹر فیاض عالم (ستیہ وتی کالج، دہلی یونیورسٹی، دہلی)، محترمہ حنا گلاب (شعبۂ اردو، مانو)، صفیہ لایال (ریسرچ اسکالر، اے ایم یو، علی گڑھ)، محمد شبلی آزاد (ریسرچ اسکالر، مانو)، محمد سرفراز (ریسرچ اسکالر، مانو)، شہناز خاتون (ریسرچ اسکالر، مانو) اور غلام ربانی (ریسرچ اسکالر، مانو) نے مقالات پیش کیے، جب کہ اس اجلاس کی نظامت ڈاکٹر محمد جابر حمزہ (کنوینر سیمینار اور استاد شعبۂ اردو، مانو) نے کی۔سمینار کے اختتام پر پروفیسر فیروز عالم، کوآرڈنیٹر سمینار اور استاد شعبۂ اردو، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے جامع رپورٹ پیش کی، جس میں دونوں دنوں کے علمی و فکری مباحث کا خلاصہ شامل تھا، جبکہ اظہارِ تشکر پروفیسر مسرت جہاں، ڈائرکٹر سمینار و صدر شعبۂ اردو، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے پیش کرتے ہوئے مہمانانِ صدر، مقالہ نگاران، سامعین اور منتظمین کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا۔اس سے قبل سیمینار کا چوتھا اجلاس پروفیسر سید محمود کاظمی، شعبۂ ترجمہ، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں ڈاکٹر گل رعنا (شعبۂ اردو، تلنگانہ یونیورسٹی، نظام آباد)، ڈاکٹر محمد اختر (سی ٹی ای، بھوپال)، ڈاکٹر فیاض احمد (پرتھم بکس، دہلی)، ڈاکٹر شمشاد بیگم (شعبۂ تعلیم و تربیت، مانو)، جوادالاسلام (ریسرچ اسکالر، مانو) اور عبدالعظیم (ریسرچ اسکالر، مانو) نے اپنے مقالات پیش کیے، جب کہ اس اجلاس کی نظامت ڈاکٹر محمد نہال (استاد سی ڈی او ای، مانو)نے انجام دی۔












