نئی دہلی،(یواین آئی) وزیر خزانہ نرملا سیتارمن اتوار یکم فروری کو صبح 11 بجے پارلیمنٹ میں مالی سال 2026-27 کا عام بجٹ پیش کریں گی۔ سال 2017 سے بجٹ یکم فروری کو ہی پیش کیا جاتا ہے۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار مرکزی بجٹ اتوار کے دن پیش کیا جائے گا۔ ساتھ ہی نرملا سیتارمن مسلسل نو بار بجٹ پیش کرنے والی ملک کی پہلی وزیر خزانہ بن جائیں گی، جس میں ایک عبوری بجٹ بھی شامل ہے۔ اس سے پہلے صبح 10:15 بجے مرکزی کابینہ کی میٹنگ ہوگی جس میں عام بجٹ کو منظوری دی جائے گی۔ اس کے بعد وزیر خزانہ راشٹرپتی بھون جا کر صدر دروپدی مرمو کو بجٹ پیش کیے جانے کی اطلاع دیں گی۔ بجٹ 11 بجے لوک سبھا میں پیش کیا جائے گا۔ لوک سبھا میں پورا بجٹ تقریر پڑھنے کے کچھ دیر بعد بجٹ کو راجیہ سبھا کے ایوان میں رکھا جائے گا۔ بالواسطہ ٹیکسوں کی شرحوں میں رد و بدل کا اختیار "جی ایس ٹی کونسل” کو دیے جانے کے بعد سے بجٹ کا اصل مرکز نئی اسکیمیں، منصوبے اور انکم ٹیکس سے متعلق اعلانات رہ گئے ہیں۔ پارلیمنٹ کا موجودہ بجٹ اجلاس 28 جنوری سے شروع ہوا ہے۔ اس کا پہلا مرحلہ 13 فروری تک چلے گا۔ اس کے بعد 9 مارچ سے دوسرے مرحلے کی میٹنگ شروع ہوگی۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق بجٹ اجلاس 2 اپریل کو ختم ہوگا۔دریں اثناء وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن یکم فروری کو 2026 کا بجٹ پیش کریں گی۔ اس بجٹ پر عوام سے لے کر تاجر برادری تک سب کی طرف سے گہری نظر ہے۔ اس سال صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں حکومتی اخراجات میں اضافہ متوقع ہے، دفاع میں مقامی پیداوار اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں تیزی آئے گی۔ رئیل اسٹیٹ سیکٹر بھی کم شرح سود، ٹیکس میں ریلیف، اور سستی رہائش سے متعلق اعلانات کی امید کر رہا ہے، جس سے طلب میں اضافہ ہو گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔دریں اثنا، انکم ٹیکس کے حوالے سے سب سے زیادہ منتظر فیصلے ہیں۔ متوسط طبقے کو ٹیکس میں ریلیف، معیاری کٹوتیوں میں اضافہ، اور زیادہ پرکشش نئے ٹیکس نظام کی امید ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر حکومت ٹیکس میں ریلیف کے ساتھ ساتھ کھپت کو بڑھانے کے لیے اقدامات کرتی ہے تو اس سے معیشت مضبوط ہوگی اور ترقی کو نیا سہارا ملے گا۔ صنعت اور ماہرین اقتصادیات کو بجٹ 2026 سے مثبت توقعات ہیں۔ اقتصادی سروے میں ہندوستان کی شرح نمو 6.8 سے 7.2 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا گیا ہے، جسے ماہرین حقیقت پسندانہ سمجھتے ہیں۔ توقع ہے کہ آئندہ بجٹ معیشت کو ایک نئی تحریک فراہم کرے گا، جس میں متوسط طبقے کے لیے ٹیکس میں ریلیف، صنعتوں کے لیے سرمایہ کاری کی ترغیبات، اور انفراسٹرکچر، دفاع اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں پر توجہ دی جائے گی۔ توقع ہے کہ یکم فروری کو پیش کیے جانے والے مرکزی بجٹ 2026 کے دوران دفاعی PSUs کے حصص سرمایہ کاروں کی توجہ میں ہوں گے۔ مارکیٹ کے شرکاء دفاعی بجٹ میں 8 سے 10 فیصد کے معمولی اضافے اور کارروائیوں کی رفتار میں تیزی کی توقع رکھتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافے کے بجائے آرڈرز کو جلد حتمی شکل دینے اور دفاعی خریداری کے لیے واضح ٹائم لائن کی تلاش میں ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ وہ عوامل ہیں جو سرمایہ کاروں کے لیے سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ بجٹ 2026 کے لیے مالیاتی شعبے کی توقعات مالی محاذ پر دانشمندی اور مضبوطی کو برقرار رکھنے پر منحصر ہیں۔ ایس بی آئی کے چیئرمین سی ایس شیٹی نے اشارہ کیا کہ ٹیکس میں ریلیف کے مطالبات کے باوجود بڑے پیمانے پر چھوٹ کی گنجائش محدود ہے۔ ان کے مطابق، مارکیٹ کے شرکاء کے درمیان اتفاق رائے یہ ہے کہ ہندوستانی حکومت اپنے مالیاتی روڈ میپ پر قائم رہے گی۔ یہ موجودہ حدود میں ترقی کو فروغ دینے کے لیے متوازن اقدامات بھی اپنائے گا۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے چیئرمین سی ایس شیٹی نے بجٹ سے ٹھیک ایک دن پہلے ایک اہم بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ بینک ڈپازٹس (ایف ڈی، بچت) اور اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری سے ہونے والی آمدنی پر ٹیکس ایک جیسا ہونا چاہیے۔












