دیوبند ،سماج نیوز سروس: شب برات میں جامعہ امام محمد انور شاہ میں تکمیل بخاری شریف کی تقریب کا انعقاد عمل میں آیا ۔ اس موقع پر عالم اسلام اور ملک کی امن و سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ پندرہ سے زیادہ جوڑوں کا نکاح بھی ہوا۔ اجلاس کی نظامت جامعہ کے استاذ حدیث مولانا سید فضیل احمد ناصری نے کی۔ جامعہ کے شیخ الحدیث و مہتمم مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی کشمیری نے بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دیتے ہوئے کیا کہ مسند الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا خاندان ایں خانہ ہمہ آفتاب ست کا مصداق ہے۔ اس عظیم خانوادے کے افراد نے علوم اسلامیہ کی جس شان سے خدمت کی اس پر دنیائے فضل و کمال کو ہمیشہ ناز رہے گا۔ امام العصر علامہ محمد انور شاہ کشمیری اس خانوادے کی بڑی پذیرائی کرتے۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کی مشہور زمانہ تالیف تفسیر عزیزی کا وقیع الفاظ میں تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ قرآن کی تفسیر کا حق اب تک ادا نہیں ہو سکا، اگر شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کی تفسیر عزیزی مکمل ہو جاتی تو امت کو قران کی تفسیر کا اصلی ذائقہ مل جاتا۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کے چھوٹے بھائی شاہ عبدالقادر دہلوی اس قدر صاحب ورع و تقوی تھے اور قرآن مجید سے اس درجہ اشتغال کہ جب انہوں نے قرآن پاک کا بہ زبان اردو ترجمہ کیا تو کہنے والے نے کہا کہ اگر قرآن اردو میں نازل ہوتا تو اس طرح ہوتا۔ شاہ عبدالعزیز دہلوی 29/ شعبان کو جائزہ لیتے کہ شاہ عبدالقادر آج کا مشغولی میں ہیں؟ اگر قرآن کریم کی تلاوت میں مصروف پاتے تو سمجھ جاتے کہ آج رمضان کا چاند نکل آئے گا۔ جب ان کا انتقال ہوا اور ولی اللہی قبرستان میں ان کی تدفین عمل میں آئی تو شاہ عبدالعزیز نے کہاکہ حق تعالیٰ نے ان کے طفیل میں اس گورستان کے تمام مردوں کی مغفرت فرما دی۔قرآن کے بعد اگر کوئی کلام بابرکت اور باوزن ہے تو وہ حدیث ہے۔ احادیث رسول کی شان یہ ہے کہ اس میں اشتغال عالم دین میں صحابیت کی شان پیدا کر دیتا ہے۔ یہی وہ اشتغال حدیث تھا کہ امام الکشمیری کی وفات پر امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے کہا تھا کہ صحابہ کا قافلہ جا رہا تھا اور علامہ ایک صحابی تھے جو پیچھے رہ گئے تھے۔امام بخاری کا اخلاص اور ان کے دل کا نور ہے کہ انہوں نے ایسی کتاب ترتیب دی جس سے دنیا کا کوئی بھی عالم مستغنی نہیں ہو سکتا اور اسے پڑھے بغیر کسی کو محدث کہا ہی نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ قیامت کے دن ہر انسان کے اعمال کا وزن ہوگا۔ مشہور اعتراض چلا آ رہا ہے کہ اعمال تو جسم و جثہ سے پاک ہیں پھر ان کا وزن کیوں کر ہوگا؟ لیکن سائنس نے ان کے اعتراضات کی ہوا نکال دی۔ سائنس نے بتا دیا کہ وزن کے لیے جسم کثیف کا ہونا ضروری نہیں ہے، بلکہ جسم لطیف بھی وزن کیا جا سکتا ہے، چنانچہ آج بخار کی پیمائش کر لی جاتی ہے۔ سردی اور گرمی کو ناپ لیا جاتا ہے۔ پھر اعمال کا وزن کیوں کر ممکن نہیں!! وہ تو قادر مطلق اور سلطان العالمین احکم الحاکمین ہے۔ شیخ الحدیث مولانا احمد خضر شاہ نے عالمی سیاست پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ اس وقت دنیا تیسری جنگ عظیم کے خطرات سے دوچار ہے۔ امریکہ کا صدر ڈونالڈ ٹرمپ جس طرح کی زبان استعمال کر رہے ہیں وہ بلاشبہ غیر آئینی، غیر جمہوری اور غیر اخلاقی ہے۔ دوسرے ملکوں کے معاملات میں مداخلت ان کا طر امتیاز بن چکی۔ کسی کو دھمکا دیا، کسی کے وسائل پر قبضہ کر لیا، کسی کو صدارتی محل سے اٹھا لیا، کسی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ یہ صورت حال عالم انسانیت کے لیے بڑی دردناک ہے۔ ادھر اپنے وطن ہندوستان کے حالات دن بدن افسوسناک رخ پر ہیں۔ بہتری کے آثار نظر نہیں آتے۔ ارباب اقتدار کو نوشت دیوار پڑھ لینے کی ضرورت ہے۔ تقریب کا آغاز عزیزم محمد ارشاد کشمیری کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا اور علامہ کشمیری کا لکھا ہوا نعتیہ قصیدہ عزیزم رئیس احمد کشمیری نے پیش کیا۔ جامعہ امام محمد انور شاہ کے استادِ حدیث مفتی نثار خالد قاسمی دیناج پوری نے شب برات کی اہمیت اور اس رات میں شریعت کی تعلیمات پر پرمغز تقریر کی۔ جامعہ کے صدر المدرسین مفتی وصی احمد قاسمی نے ملک کے سیاسی منظر نامے پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور کہا کہ وطن کی سالمیت اور اس کا استحکام جمہوری اقدار کے تحفظ میں ہے۔ اجلاس میں طلبہ اور عوام سمیت اساتذ جامعہ مولانا محمد صغیر پرتاپ گڑھی، مولانا ابوطلحہ اعظمی، مولانا نوید دیوبندی، مولانا عمر اعجاز، مولانا بدر الاسلام، قاری بلال احمد، مولانا عثمان دیوبندی، مولانا سید حمدان شاہ مسعودی، مولانا جمیل احمد، مولانا سلیم دیوبندی اور مولانا ذکی انجم صدیقی وغیرہم نے شرکت کی۔ متعدد صوبوں کے نامور علماء بھی شریک رہے، جن میں مولانا اشرف بھروچی بھی شامل ہیں۔












