چنئی، (یو این آئی) ٹی-20 کرکٹ کی تاریخ میں 700 وکٹوں کا سنگ میل عبور کرنے کے قریب پہنچے ہوئے افغانستان کے کپتان راشد خان نے کہا ہے کہ یہاں تک پہنچنا ان کے لیے ایک بہت بڑی کامیابی ہوگی۔ڈیتھ گروپ میں نیوزی لینڈ کے خلاف اہم میچ سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راشد خان نے ہفتہ کو کہا، "یہ ایک اچھا احساس ہے۔ میں نے 9-10 سال بین الاقوامی کرکٹ کھیلی ہے اور 700 وکٹیں لینا میرے لیے ایک خواب سچ ہونے جیسا ہوگا۔ میں نے اس کے بارے میں زیادہ سوچا نہیں تھا، میرا مقصد ہمیشہ مشکل حالات میں اچھی گیند بازی کرنا رہا ہے جہاں ٹیم کو میری ضرورت ہو۔ 700 وکٹوں تک پہنچنا خوشی کی بات ہوگی کیونکہ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ 700 ہی کیوں، 7000 کیوں نہیں!”راشد خان اب تک 510 اننگز (515 میچوں) میں 696 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں، جس میں ان کی بہترین کارکردگی 17 رنز دے کر 6 وکٹیں ہے۔اپنے ملک میں خواتین کی کرکٹ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر راشد خان نے کہا کہ وہ افغانستان کی نمائندگی کرنے والے ہر شخص کو کھیل کے میدان میں دیکھنا چاہتے ہیں، تاہم اس کا فیصلہ افغان کرکٹ بورڈ (اے سی بی) اور آئی سی سی کو کرنا ہے کیونکہ انفرادی کرکٹرز کا ان فیصلوں پر کوئی کنٹرول نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا، "بڑے لوگ ہی ایسے فیصلے کرتے ہیں اور وہی اسے آگے بڑھاتے ہیں۔”کابل میں بین الاقوامی کرکٹ کی واپسی کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے اسے ایک "خواب سے بڑھ کر” قرار دیا۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ بین الاقوامی کھلاڑی کابل آئیں اور دیکھیں کہ افغان عوام ان کا کتنا استقبال کرتے ہیں۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا افغانستان کو اب بھی ‘انڈر ڈاگ’ (کمزور ٹیم) سمجھا جاتا ہے، تو انہوں نے اسے میڈیا کی بحث قرار دے کر مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا، "ہم ایسی باتوں پر یقین نہیں رکھتے۔ یہ سب اس بات پر منحصر ہے کہ ہم میدان میں کیا کرتے ہیں، اگر آپ اپنا 100 فیصد دیں گے تو آپ بہترین ٹیم ثابت ہوں گے۔”












