• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
جمعہ, فروری 20, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

رمضان کی آمد اور ہماری نظر انداز شدہ ذمہ داریاں

Hamara Samaj by Hamara Samaj
فروری 20, 2026
0 0
A A
رمضان کی آمد اور ہماری نظر انداز شدہ ذمہ داریاں
Share on FacebookShare on Twitter

رمضان المبارک کی آمد ہر سال ایمان افروز فضاؤں کے ساتھ ہوتی ہے۔ مساجد آباد ہو جاتی ہیں، گھروں میں سحری و افطار کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں، بازاروں میں غیر معمولی چہل پہل نظر آتی ہے اور دینی ماحول میں ایک خاص کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ بظاہر یہ منظر ایک زندہ اور بیدار امت کی علامت محسوس ہوتا ہے، لیکن اگر گہرائی میں جا کر دیکھا جائے تو کئی ایسے پہلو سامنے آتے ہیں جن پر ہم بحیثیت مسلمان سنجیدگی سے توجہ نہیں دیتے۔ رمضان صرف ایک عبادتی موسم نہیں بلکہ اجتماعی و انفرادی اصلاح کا جامع نظام ہے، اور یہی وہ پہلو ہے جسے ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ سب سے پہلی ذمہ داری نیت کی درستگی ہے۔ رمضان ہمیں اخلاص سکھانے آتا ہے۔ روزہ ایک ایسی عبادت ہے جس کا حقیقی حال اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، مگر بدقسمتی سے ہم نے عبادت کو بھی سماجی اظہار کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ عبادات کی تشہیر، افطار کی نمائش اور دینی سرگرمیوں کو دکھاوے کے رنگ میں پیش کرنا ایک عام رجحان بنتا جا رہا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ رمضان کا اصل پیغام خاموشی کے ساتھ اپنی اصلاح ہے، نہ کہ عوامی ستائش کا حصول۔
دوسرا اہم مسئلہ دیانت داری اور معاشی اخلاقیات کا ہے۔ ہمارے معاشرے میں جھوٹ، دھوکہ دہی، ناپ تول میں کمی اور وعدہ خلافی جیسے مسائل عام ہیں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ رمضان میں بھی یہ روش مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی۔ حالانکہ روزہ ہمیں حلال و حرام کے فرق کو شدت سے محسوس کراتا ہے۔ جب ایک شخص سارا دن پانی جیسی بنیادی چیز سے پرہیز کر سکتا ہے تو وہ حرام کمائی سے کیوں نہیں رک سکتا؟ اگر ہمارے کاروباری معاملات میں تبدیلی نہیں آتی تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ہم نے روزے کی روح کو نہیں سمجھا۔
تیسرا پہلو گھریلو اور خاندانی نظام سے متعلق ہے۔ آج مسلم معاشرے میں طلاق، وراثتی تنازعات اور گھریلو جھگڑوں کے معاملات بڑھتے جا رہے ہیں۔ عدالتوں اور تھانوں میں ایسے کیسوں کی کثرت باعثِ تشویش ہے۔ رمضان صبر، درگزر اور مصالحت کا درس دیتا ہے، مگر ہم اس مہینے میں بھی انا اور ضد کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ اگر ہم رمضان میں بھی معاف کرنا نہ سیکھ سکیں تو پھر کب سیکھیں گے؟ ایک اور اہم مسئلہ سوشل میڈیا کا غیر ذمہ دارانہ استعمال ہے۔ رمضان میں قیمتی اوقات کو فضول ویڈیوز، بے مقصد مباحث اور غیر سنجیدہ مواد میں ضائع کرنا عام ہو چکا ہے۔ بعض اوقات مذہبی معاملات کا مذاق اڑایا جاتا ہے یا انہیں ہلکے انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہ رویہ نہ صرف روحانی ماحول کو متاثر کرتا ہے بلکہ نوجوان نسل کی فکری سمت کو بھی کمزور کرتا ہے۔ رمضان ہمیں وقت کی قدر سکھاتا ہے، اور اس قیمتی مہینے کا ہر لمحہ احتساب اور تعمیر کے لیے ہونا چاہیے۔ فضول خرچی اور نمود و نمائش بھی ایک ایسا مسئلہ ہے جسے ہم سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ افطار کے نام پر اسراف، طرح طرح کے کھانوں کی دوڑ اور سماجی مقابلہ بازی اس مہینے کی سادگی کے خلاف ہے۔ حالانکہ رمضان کا پیغام یہ ہے کہ انسان بھوک کا احساس کرے اور معاشرے کے محروم طبقات کے ساتھ ہمدردی پیدا کرے۔ اگر ہمارے دسترخوان وسیع ہوتے جائیں اور ہمارے پڑوس میں کوئی ضرورت مند بھوکا رہے تو یہ ہماری ترجیحات پر سوال ہے۔
تعلیم و تربیت کا پہلو بھی نہایت اہم ہے۔ رمضان بچوں اور نوجوانوں کی دینی تربیت کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے، لیکن ہم اکثر اس پہلو کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ گھروں میں قرآن فہمی کی محفلیں کم اور ٹی وی یا موبائل کی مصروفیات زیادہ نظر آتی ہیں۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مہینے کو نسلوں کی اصلاح کا ذریعہ بنائیں۔ اگر نئی نسل کو رمضان کی اصل روح نہ سکھائی گئی تو وہ اسے صرف ایک تہوار سمجھ کر گزار دے گی۔ معاشرتی سطح پر برداشت اور رواداری کا فقدان بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ معمولی اختلافات شدید تنازعات میں بدل جاتے ہیں۔ رمضان ہمیں سکھاتا ہے کہ غصہ ضبط کیا جائے اور دلوں کو جوڑا جائے۔ اگر ہم اس مہینے میں بھی تلخ کلامی اور نفرت سے باز نہ آئیں تو یہ ہمارے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ اسی طرح قرآن سے عملی تعلق کا فقدان بھی نمایاں ہے۔ رمضان قرآن کا مہینہ ہے، مگر ہماری تلاوت اکثر محض رسم تک محدود رہتی ہے۔ ہمیں قرآن کے پیغام کو سمجھنے اور اپنی زندگی میں نافذ کرنے کی سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے۔ جب تک قرآن ہماری سوچ، ترجیحات اور طرزِ عمل کو نہ بدلے، تب تک اس کا حق ادا نہیں ہوتا۔ رمضان کی ایک بڑی ذمہ داری اجتماعی شعور کی بیداری ہے۔ ہمیں اپنے معاشرے کے اخلاقی زوال، تعلیمی پسماندگی اور معاشی مسائل پر بھی غور کرنا چاہیے۔ عبادت کے ساتھ ساتھ سماجی اصلاح کا جذبہ بھی ضروری ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں دیانت، علم اور عدل کو اہمیت دی جائے، وہی حقیقی معنوں میں رمضان کی برکتوں کا مستحق ہو سکتا ہے۔
رمضان المبارک ہمیں ایک ایسی کیفیت میں داخل کرتا ہے جہاں انسان اپنے ظاہر و باطن دونوں کا جائزہ لینے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ ہم نے کتنی عبادت کی، بلکہ یہ ہے کہ اس پورے عرصے نے ہماری سوچ، ہمارے رویّے اور ہمارے طرزِ زندگی میں کیا تبدیلی پیدا کی۔ اگر دن بھر کی بھوک اور پیاس نے ہمارے دل کو نرم نہیں کیا، ہماری زبان کو شائستہ نہیں بنایا اور ہمارے معاملات کو صاف نہیں کیا تو ہمیں سنجیدگی سے اپنے عمل پر غور کرنا ہوگا۔ یہ مہینہ دراصل ارادے کی مضبوطی اور نفس کی تربیت کا مدرسہ ہے۔ یہاں انسان سیکھتا ہے کہ خواہشات کو قابو میں رکھنا ممکن ہے، غصے کو دبانا ممکن ہے، اور انا کو توڑنا بھی ممکن ہے۔ جب ایک مسلمان جائز چیزوں سے بھی رُک سکتا ہے تو ناجائز امور سے رکنا اس کے لیے کیوں مشکل ہو؟ اگر اس تربیت کے باوجود ہمارے اندر ضد، تکبر اور بے اعتدالی باقی رہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم نے اس درسگاہ سے سبق پوری طرح نہیں لیا۔
رمضان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ایمان کا تعلق محض عبادت گاہ تک محدود نہیں۔ اس کا اثر گھر، بازار، دفتر اور معاشرے کے ہر گوشے میں ظاہر ہونا چاہیے۔ مسجد کی حاضری اگر کاروبار کی دیانت میں تبدیل نہ ہو، قرآن کی تلاوت اگر سچائی اور انصاف کی شکل اختیار نہ کرے، اور دعائیں اگر ہمارے کردار میں جھلک نہ دکھائیں تو ہمیں اپنی ترجیحات پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔ عبادت کا اصل حسن اس وقت نمایاں ہوتا ہے جب وہ زندگی کے عملی میدان میں نظر آئے۔ معاشرتی سطح پر بھی یہ لمحۂ فکر ہے کہ کیا ہم نے اپنے اردگرد کے لوگوں کے لیے آسانی پیدا کی؟ کیا ہم نے کسی ضرورت مند کا سہارا بننے کی کوشش کی؟ کیا ہم نے اپنے رشتوں میں دراڑیں کم کرنے کی سنجیدہ کوشش کی؟ اگر ہمارے دل میں دوسروں کے لیے ہمدردی پیدا نہیں ہوئی تو ہمیں اپنے احساسات کو بیدار کرنا ہوگا۔ رمضان انسان کو خود غرضی سے نکال کر اجتماعیت کی طرف لے جاتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ ہم وقتی جذبات کو مستقل عادت میں بدلیں۔ اگر چند دن کی پابندی کے بعد ہم پھر اسی غفلت کی طرف لوٹ جائیں تو یہ کمزوری کی علامت ہے۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ ضبطِ نفس، وقت کی قدر، عبادت کی لذت اور اخلاقی بہتری ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائے۔ یہی وہ کیفیت ہے جو ایک فرد کو مضبوط اور ایک معاشرے کو باوقار بناتی ہے۔ ہم ایک ایسے زمانے میں جی رہے ہیں جہاں مادّی دوڑ نے انسان کو بے سکون کر دیا ہے۔ ایسے ماحول میں یہ مہینہ روحانی سکون اور فکری بیداری کا ذریعہ بنتا ہے۔ لیکن اس سکون کو برقرار رکھنے کے لیے مستقل مزاجی درکار ہے۔ اگر ہم اس مہینے میں پیدا ہونے والی روشنی کو اپنی زندگی کے ہر شعبے تک پھیلا دیں تو یہ نہ صرف ہماری ذات بلکہ ہماری نسلوں کے لیے بھی خیر و برکت کا سبب بن سکتی ہے۔ یہ وقت خود سے عہد کرنے کا ہے کہ ہم اپنی اصلاح کو عارضی نہیں رہنے دیں گے۔ ہم اپنے کردار کو اپنی پہچان بنائیں گے، اپنی زبان کو سچائی کا ذریعہ بنائیں گے اور اپنے عمل کو اپنے ایمان کی دلیل بنائیں گے۔ جب عبادت اور کردار میں ہم آہنگی پیدا ہو جائے تو سمجھ لیجیے کہ اس مہینے کی محنت رنگ لے آئی۔
للہ تعالیٰ ہمیں ایسی بصیرت عطا فرمائے کہ ہم اپنے اعمال کا دیانت داری سے جائزہ لے سکیں، اپنی کوتاہیوں کو تسلیم کر سکیں اور انہیں درست کرنے کی ہمت پیدا کر سکیں۔ یہی شعور فرد کی کامیابی اور معاشرے کی بھلائی کا اصل راستہ ہے۔ آمین۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    رمضان کی آمد اور ہماری نظر انداز شدہ ذمہ داریاں

    رمضان کی آمد اور ہماری نظر انداز شدہ ذمہ داریاں

    فروری 20, 2026
    اب راشن کارڈ کا رجسٹریشن آن لائن ہوگا، ہر ممبر کاآدھار کارڈ ضروری

    اب راشن کارڈ کا رجسٹریشن آن لائن ہوگا، ہر ممبر کاآدھار کارڈ ضروری

    فروری 20, 2026
    لیفٹیننٹ گورنر، وزیر اعلیٰ، مرکزی وزیر تعلیم نے کرشنا نگر میں اٹل کینٹین کا افتتاح کیا

    لیفٹیننٹ گورنر، وزیر اعلیٰ، مرکزی وزیر تعلیم نے کرشنا نگر میں اٹل کینٹین کا افتتاح کیا

    فروری 20, 2026
    جماعت اسلامی مہاراشٹر کے امیر مولانا الیاس نے پانچ فیصدمسلم ریزرویشن کی منسوخی پر گہری تشویش کا اظہار کیا

    جماعت اسلامی مہاراشٹر کے امیر مولانا الیاس نے پانچ فیصدمسلم ریزرویشن کی منسوخی پر گہری تشویش کا اظہار کیا

    فروری 20, 2026
    رمضان کی آمد اور ہماری نظر انداز شدہ ذمہ داریاں

    رمضان کی آمد اور ہماری نظر انداز شدہ ذمہ داریاں

    فروری 20, 2026
    اب راشن کارڈ کا رجسٹریشن آن لائن ہوگا، ہر ممبر کاآدھار کارڈ ضروری

    اب راشن کارڈ کا رجسٹریشن آن لائن ہوگا، ہر ممبر کاآدھار کارڈ ضروری

    فروری 20, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist