رمضان المبارک محض ایک قمری تقویم کے نویں مہینے کا نام نہیں، بلکہ یہ انسانی ارتقاء، تسخیرِ نفس اور کردار سازی کا وہ ہمہ گیر دبستان ہے جس کی نظیر تاریخِ عالم کے کسی نظامِ تربیت میں نہیں ملتی۔ جب افقِ جاں پر ہلالِ رمضان اپنی ضیا پاشیاں بکھیرتا ہے، تو کائنات کا ذرہ ذرہ بندگی کے نئے آہنگ میں ڈھل جاتا ہے۔ یہ وہ مقدس ساعتیں ہیں جن میں خالقِ کائنات انسانی شخصیت کو مادیت کے غبار سے پاک کر کے اسے دوبارہ اپنی اصل فطرت سے ہمکنار کرتا ہے۔ قرآنِ حکیم نے جب پکارا کہ "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ” (البقرہ: 183)، تو گویا انسانیت کو وہ اکسیر عطا کر دی جس سے تانبے جیسا وجود کندن بن جاتا ہے۔ یہاں "تقویٰ” کا مفہوم محض گوشہ نشینی یا رسمی پارسائی نہیں، بلکہ وہ "جذبۂ بیداری” اور "قوتِ مدافعت” ہے جو انسان کو خیر اور شر کے معرکے میں سرخرو کرتی ہے۔ روزہ وہ صیقل ہے جو انسانی آئینہِ دل سے خواہشات کے زنگ کو دور کر کے اسے جلوہ گاہِ الٰہی بنا دیتا ہے، سید مودودیؒ اس نظامِ صوم کو ایک ایسی فوجی مشق قرار دیتے ہیں جو پورے ایک ماہ تک مومن کو نظم و ضبط اور اطاعتِ کاملہ کے سانچے میں ڈھالتی ہے۔ روزے کی حقیقت کو اگر نرا فاقہ کشی سمجھا جائے تو یہ اس عظیم الشان مقصد کی توہین ہوگی جو خالق نے اس کے پردے میں چھپا رکھا ہے۔ صوم دراصل ارادے کی وہ جبری تربیت ہے جو انسان کو اپنی جبلتوں کا اسیر ہونے کے بجائے ان کا حاکم بنا دیتی ہے۔ آج کا انسان، جو اپنی "انا” کے بت خانے میں مقید ہے، جب مائع و جامد اشیاء کی فراوانی کے باوجود محض ایک غیبی حکم کی تعمیل میں اپنے ہاتھ روک لیتا ہے، تو یہ اس کے حیوانی وجود پر اس کی انسانیت اور روحانیت کی فتح کا اعلان ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کا فرمانِ عالیشان ہے: "الصِّيَامُ جُنَّةٌ” (روزہ ڈھال ہے)۔ یہ وہ ڈھال ہے جو کردار کے کمزور پہلوؤں کو گناہوں کے زہریلے تیروں سے محفوظ رکھتی ہے۔ جب انسان اپنے معدے پر پہرہ بٹھاتا ہے، تو اس کی تاثیر اس کی بصارت، سماعت اور نطق تک پھیل جاتی ہے۔ وہ زبان جو غیبت، جھوٹ اور لغویات کی تپش سے جھلس رہی تھی، اب "سُبْحَانَ اللهِ وَبِحَمْدِهِ” کی شبنم سے تر ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص روزے میں ہو کر بھی بدکلامی سے باز نہ آئے تو بارگاہِ رسالت ﷺ سے اسے یہ تنبیہ ملتی ہے کہ "مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ” (صحیح بخاری)۔ یعنی اللہ کو اس کی بھوک پیاس کی کوئی حاجت نہیں جو جھوٹ اور لایعنی کام نہ چھوڑ سکے۔ یوں روزہ شخصیت میں وہ وقار اور تمکنت پیدا کرتا ہے جو اسے جذباتی ہیجان سے نکال کر استقامت کے ہمالیہ پر فائز کر دیتی ہے۔ اس تربیتی عمل کا ایک ولولہ انگیز پہلو ہمدردی اور سماجی یگانگت کا وہ سیلِ رواں ہے جو پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ جب ایک صاحبِ ثروت شخص تپتی دوپہر میں پیاس کی شدت سے نڈھال ہوتا ہے، تو اسے پہلی بار اس طبقے کی آہوں کا ادراک ہوتا ہے جن کی پوری زندگی تشنہ لبی اور محرومی کی تصویر ہے۔ یہ تجرباتی علم (Experiential Knowledge) ہے جو دلوں میں رقت پیدا کرتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ رمضان میں سخاوت کے معاملے میں "الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ” (تیز چلنے والی ہوا) سے بھی زیادہ تند و تیز ہو جایا کرتے تھے۔ یہ ایثار کی وہ چوٹی ہے جہاں انسان اپنی ضروریات کو پسِ پشت ڈال کر دوسروں کی فلاح کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتا ہے۔ شبلی نعمانیؒ کے اسلوب میں کہیں تو یہ وہ عالمگیر اخوت ہے جو شاہ و گدا کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیتی ہے۔ زکوٰۃ و صدقات کی ریل پیل اور افطار کے دسترخوانوں پر اجنبیوں کی میزبانی اس بات کی غماز ہے کہ صوم نے انسان کے اندر سے "کنجوسی” کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: "وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ” (الحشر: 9)۔ یہی وہ ایثار ہے جو بکھرے ہوئے افراد کو ایک جسدِ واحد میں تبدیل کر دیتا ہے۔ صبر، جو انسانی عزم کی معراج ہے، رمضان کے دوران اپنے نقطہِ کمال کو پہنچتا ہے۔ عربی لغت میں "صبر” کے معنی روکنے اور ثابت قدم رہنے کے ہیں۔ رمضان کا پورا مہینہ "ماہِ صبر” ہے، جہاں مومن کو قدم قدم پر اپنی خواہشات کو لگام دینی پڑتی ہے۔ قرآنِ مجید کی نوید ہے: "إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ (الزمر: 10)۔ یہ بے حساب اجر دراصل اس استقامت کا صلہ ہے جو ایک روزہ دار طویل قیام، تلاوتِ قرآن اور مشقتِ نفس کے دوران دکھاتا ہے۔ یہ صبر انسان کو حوادثِ زمانہ کا مردانہ وار مقابلہ کرنا سکھاتا ہے، اسے سکھاتا ہے کہ کامیابی کا راستہ ہموار سڑکوں پر نہیں بلکہ آزمائشوں کی پرپیچ راہوں میں پوشیدہ ہے۔ جب انسان مسلسل تیس دن تک وقت کی پابندی اور نظم و ضبط کی بھٹی میں تپتا ہے، تو اس کی شخصیت میں وہ فولادی لچک پیدا ہو جاتی ہے جو اسے ایک بلند حوصلہ لیڈر اور ذمہ دار رکنِ معاشرہ بناتی ہے۔ روحانی بالیدگی کے تناظر میں رمضان نزولِ قرآن کا وہ جشن ہے جو روح کو عرشِ بریں سے جوڑ دیتا ہے۔ اللہ فرماتا ہے: "شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ” (البقرہ: 185)۔ قرآن وہ نور ہے جو قلبِ انسانی کے اندھیروں کو چاک کر دیتا ہے اور رمضان وہ موسمِ بہار ہے جس میں یہ نور پوری آب و تاب سے چمکتا ہے۔ راتوں کی خاموشی میں جب تراویح کے دوران کلامِ الٰہی کی بازگشت سنائی دیتی ہے، تو باطن کے تمام کثیف جذبات جیسے حسد، کینہ اور تکبر پگھلنے لگتے ہیں۔ یہ تزکیہِ نفس کا وہ مقام ہے جہاں انسان اپنے رب کے اتنا قریب ہو جاتا ہے کہ حدیثِ قدسی کی رو سے رب خود پکارتا ہے: "الصَّوْمُ لِي وَأَنَا أَجْزِي بِهِ” (روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا ہوں)۔ یہاں "اخلاص” کا وہ دریا بہتا ہے جو ریاکاری کی تمام آلودگیوں کو بہا لے جاتا ہے، کیونکہ روزہ وہ واحد عبادت ہے جس میں دکھاوے کا کوئی عنصر نہیں ہوتا۔ یہ تنہائی کی بندگی انسان کو سچا، کھرا اور اصلی (Authentic) بناتی ہے۔ وقت کی تنظیم اور نظم و ضبط کا جو سبق سحر و افطار کے لمحات میں چھپا ہے، وہ دنیا کی کسی یونیورسٹی میں نہیں پڑھایا جا سکتا۔ سورج کے طلوع و غروب کے ساتھ انسانی زندگی کا ہم آہنگ ہو جانا کائناتی نظم کا حصہ بننا ہے۔ یہ ڈسپلن انسان کو وقت کی قدر سکھاتا ہے اور اسے غفلت کی نیند سے بیدار کرتا ہے۔ پھر اس میں "احتساب” کا وہ جوہر شامل ہوتا ہے جس کے بغیر ترقی ناممکن ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ” (جس نے ایمان اور خود احتسابی کے ساتھ روزہ رکھا، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے گئے)۔ یہ احتساب دراصل اپنی ذات کا وہ کڑا ٹرائل ہے جس میں انسان اپنی کوتاہیوں کو پہچانتا ہے اور توبہ کے آنسوؤں سے اپنے دامن کو دھوتا ہے۔ آخری عشرے کا اعتکاف اس خلوت گزینی کی انتہا ہے جہاں بندہ کائنات سے کٹ کر اپنے خالق کے روبرو بیٹھ جاتا ہے اور اپنی شخصیت کی ازسرِ نو تعمیر کا نقشہ تیار کرتا ہے۔ جدید نفسیاتی اور طبی تحقیقات بھی اس بات کی شاہد ہیں کہ رمضان کا روزہ ذہنی تناؤ، اضطراب اور ڈیپریشن کا بہترین علاج ہے۔ جب انسان کا تعلق اپنے رب سے استوار ہوتا ہے تو اسے وہ قلبی اطمینان نصیب ہوتا ہے جس کا ذکر قرآن نے "أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ” (الرعد: 28) میں کیا ہے۔ یہ اطمینان شخصیت میں وہ توازن پیدا کرتا ہے جو اسے حالات کی سختی میں بھی پرسکون رکھتا ہے۔ مزید برآں، یہ مہینہ "شکر گزاری” کا عملی دبستان ہے۔ افطار کے وقت ٹھنڈے پانی کا ایک گھونٹ انسان کو ان ہزاروں نعمتوں کا احساس دلاتا ہے جنہیں وہ عام دنوں میں معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے۔ شکر گزاری کی یہ صفت انسان کو قناعت پسند اور شاکر بناتی ہے، جس سے اس کی زندگی سے حرص و آز کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔
اللہ کا وعدہ ہے: "لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ” (اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں مزید عطا کروں گا)۔ یہ اضافہ نہ صرف مال میں ہوتا ہے بلکہ ذہنی سکون اور روحانی بلندی میں بھی ہوتا ہے۔ رمضان ایک ایسا "انقلابی عمل” ہے جو فرد سے شروع ہو کر معاشرے کی فلاح پر ختم ہوتا ہے۔ یہ وہ سالانہ سروسنگ (Servicing) ہے جو انسانی مشینری کے زنگ آلود پرزوں کو دوبارہ متحرک کر دیتی ہے۔ صوم کی حقیقی کامیابی عید کے چاند میں نہیں، بلکہ اس تبدیلی میں ہے جو رمضان کے بعد ہمارے رویوں میں نظر آتی ہے۔ اگر عید کے بعد بھی وہی جذبہِ خدمت، وہی ضبطِ نفس، وہی تلاوتِ قرآن اور وہی تقویٰ برقرار ہے، تو سمجھ لیجیے کہ ہم نے رمضان کی روح کو پا لیا ہے۔ یہ وہ شخصیت ہے جو دنیا کے لیے رحمت اور آخرت کے لیے سرمایہِ افتخار ہے۔ رمضان ہمیں پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اے انسان! تو محض گوشت پوست کا لوتھڑا نہیں، تو روحِ ربانی کا امین ہے، اور تیری معراج اسی میں ہے کہ تو اپنے نفس کو اللہ کے تابع کر دے۔ یہی وہ ولولہِ تازہ ہے جو ایک مردِ مومن کو زمانے کا امام بنا دیتا ہے۔












