احمد آباد، (یواین آئی ) ہندوستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان سپر 8 مرحلے کے اہم میچ میں مقامی ہیرو اکشر پٹیل کو پلینگ الیون سے باہر رکھنے پر احمد آباد کا اسٹیڈیم مایوسی کی تصویر بن گیا۔ بہترین فارم میں ہونے کے باوجود اکشر کی جگہ واشنگٹن سندر کو ترجیح دی گئی، جس پر میچ کے بعد پریس کانفرنس میں سوالات کی بوچھار کر دی گئی۔ ہندوستانی ٹیم کے اسسٹنٹ کوچ ریان ٹین ڈوشکاٹے نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے اسے خالصتاً ایک تکنیکی فیصلہ قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنوبی افریقی بیٹنگ لائن اپ میں موجود بائیں ہاتھ کے بلے بازوں، خصوصاً کوئنٹن ڈی کاک اور ڈیوڈ ملر کے خطرے کو ٹالنے کے لیے واشنگٹن سندر کو موزوں سمجھا گیا۔کوچ ڈوشکاٹے کا کہنا تھا کہ سندر کو پاور پلے میں بالنگ کی مہارت کی بنیاد پر منتخب کیا گیا تھا۔ تاہم، میچ کے دوران ایک دلچسپ صورتحال تب پیدا ہوئی جب ہندوستان نے پاور پلے میں سندر سے ایک اوور بھی نہیں کروایا۔ ارشدیپ، بمراہ اور ورون چکرورتی نے ہی ابتدائی اوورز مکمل کیے۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کوچ نے کہا کہ حکمتِ عملی حالات کے مطابق بدلتی ہے، لیکن مقصد بہترین الیون میدان میں اتارنا تھا۔ٹیم انتظامیہ نے یہ صاف کر دیا کہ اکشر پٹیل کی صلاحیتوں یا ان کی قیادت پر کوئی شبہ نہیں ہے۔ ڈوشکاٹے کے مطابق ٹیم 8 بلے بازوں کے ساتھ میدان میں اترنا چاہتی تھی، اسی لیے رنکو سنگھ کو برقرار رکھا گیا۔ 15 بہترین کھلاڑیوں میں سے 11 کا انتخاب ہر ہفتے ایک نیا چیلنج ہوتا ہے۔ ہندوستان اب اگلے دو سپر 8 میچوں میں کسی بھی غلطی سے بچنے کے لیے محتاط ہے۔












