پالی کیلے، (یو این آئی) سری لنکا کے خلاف سپر 8 مرحلے کے آخری میچ میں فتح کے باوجود مطلوبہ رن ریٹ حاصل نہ کرنے پر پاکستان کی ورلڈ کپ سے چھٹی ہو گئی ہے۔ اس ناکامی کے بعد جہاں کپتان اور ہیڈ کوچ مائیک ہیسن کو تنقید کا سامنا ہے، وہیں پاکستان کے عظیم اسپنر ثقلین مشتاق نے ٹیم کے اہم آل راؤنڈرز، شاداب خان اور محمد نواز کی خراب کارکردگی کا ملبہ کوچ کی حکمت عملی پر ڈال دیا ہے۔نجی ٹی وی شو ‘ٹیپ میڈ پر گفتگو کرتے ہوئے ثقلین مشتاق نے کہا کہ دنیا میں مختلف قسم کے آل راؤنڈرز ہوتے ہیں—کچھ گیند بازی میں ماہر ہوتے ہیں تو کچھ بلے بازی میں۔ انہوں نے کہا:”پاکستان ٹیم میں شاداب اور نواز جیسے آل راؤنڈرز کا کردار کیا تھا؟ ہماری بیٹنگ کا توازن اس لیے بگڑ رہا تھا کیونکہ آپ نے ان دونوں پر حد سے زیادہ بھروسہ کیا۔ کوچ مائیک ہیسن ان دونوں سے بیک وقت بیٹنگ اور بولنگ میں غیر معمولی کارکردگی کا مطالبہ کر رہے تھے، جو کہ موجودہ حالات میں ممکن نہیں تھا۔”ثقلین مشتاق نے مثال دیتے ہوئے پوچھا کہ اس ٹورنامنٹ میں ہندوستان کے اکشر پٹیل، نیوزی لینڈ کے مچل سینٹنر یا سری لنکا کے دونیتھ ویلالگے نے کتنی وکٹیں حاصل کیں؟ انہوں نے کہا کہ جب میں ہیڈ کوچ تھا تو مجھے بتایا گیا تھا کہ یہ دونوں کھلاڑی برابر کی مہارت رکھتے ہیں، لیکن اصل مسئلہ ان کے درست استعمال کا ہے۔ انہوں نے مائیک ہیسن کے فیصلوں پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گیند بازوں کو اوورز دینے کی ترتیب بھی غیر منطقی تھی۔ کسی میچ میں نسیم شاہ کو جلد تیسرا اوور دیا گیا تو کسی میچ میں شاداب کو، جس سے بولنگ یونٹ کا تسلسل برقرار نہ رہ سکا۔ٹورنامنٹ میں شاداب خان کی بہترین کارکردگی نمیبیا کے خلاف رہی جہاں انہوں نے ناٹ آوٹ 36 رنز بنائے اور 3 وکٹیں حاصل کیں، لیکن بڑے میچوں میں وہ اثر چھوڑنے میں ناکام رہے۔ دوسری جانب محمد نواز نے پورے ٹورنامنٹ میں سات میچوں کی پانچ اننگز میں صرف 20 رنز بنائے، جبکہ گیند بازی میں انہوں نے مجموعی طور پر سات وکٹیں حاصل کیں۔ ثقلین مشتاق کا ماننا ہے کہ اگر کوچ ان آل راؤنڈرز کا بہتر استعمال کرتے، تو نتائج مختلف ہو سکتے تھے۔












