• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
منگل, مارچ 3, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی کا متنازع بیان

Hamara Samaj by Hamara Samaj
مارچ 3, 2026
0 0
A A
اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی کا متنازع بیان
Share on FacebookShare on Twitter

مائیک ہکابی کی زبان سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ اس وقت مشرقِ وسطیٰ کے تپتے ہوئے ریگزاروں میں بارود کی چنگاری بن کر گرا ہے اور سچی بات تو یہ ہے کہ سفارت کاری کے لبادے میں چھپی یہ "بائبل زدہ” سیاست اس خطے کو امن نہیں بلکہ ایک ایسے ہولناک الامیے کی طرف دھکیل رہی ہے جس کا تصور ہی لرزہ براندام کر دینے والا ہے۔ ٹکر کارلسن کے سامنے بیٹھ کر جس سہولت اور بے نیازی سے ہکابی نے "نیل سے فرات تک” کے صیہونی خواب کو "ٹھیک” قرار دیا، وہ کوئی معمولی لغزشِ لسانی نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی نظریاتی یلغار ہے جس کی جڑیں واشنگٹن کے ان ایوانوں میں پیوست ہیں جہاں پالیسیاں انسانی حقوق کے منشور سے نہیں بلکہ قدیم مذہبی تعبیرات کی بنیاد پر مرتب کی جاتی ہیں۔ یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ جو ملک دنیا بھر میں جمہوریت، سرحدوں کے احترام اور بین الاقوامی قوانین کا ڈھنڈورا پیٹتا نہیں تھکتا، اسی کا سفیر ایک ایسی ریاست کی سرحدوں میں توسیع کا مژدہ سنا رہا ہے جو پہلے ہی دہائیوں سے فلسطینیوں کے خون سے اپنی پیاس بجھا رہی ہے۔ ہکابی کے یہ کلمات دراصل اس "ایونجیلیکل عیسائیت” کا شاخسانہ ہیں جو اسرائیل کے وجود کو محض ایک سیاسی ضرورت نہیں بلکہ ایک مذہبی فریضہ اور مسیح کی آمدِ ثانی کا پیش خیمہ سمجھتی ہے۔ اس فکر کے حامل افراد کے نزدیک فلسطینیوں کی زمین، ان کے زیتون کے باغات، ان کے بزرگوں کی قبریں اور ان کے بچوں کا مستقبل کوئی معنی نہیں رکھتا، کیونکہ ان کے خیال میں تاریخ کا رخ موڑنے کے لیے بائبل کے استعاروں کو نقشوں پر نافذ کرنا ضروری ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سفارت کاری دم توڑ دیتی ہے اور جنونیت کا راج شروع ہوتا ہے۔ مائیک ہکابی کا پس منظر دیکھا جائے تو وہ ہمیشہ سے اسرائیل کے "کٹر” حامی رہے ہیں، مگر سفیر کے منصب پر بیٹھ کر اس طرح کی زبان استعمال کرنا اس بات کا اعلان ہے کہ اب واشنگٹن میں توازن اور "ثالثی” جیسے الفاظ لغت سے کھرچ دیے گئے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کی تاریخ تو 1948 سے ہی یک طرفہ محبت اور بے پناہ حمایت کی داستان رہی ہے، مگر ہکابی نے اس میں ایک ایسا زہریلا رنگ بھر دیا ہے جو عرب دنیا کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔
جب ایک سپر پاور کا نمائندہ نیل سے فرات تک کے جغرافیے کی بات کرتا ہے تو وہ صرف فلسطین کی بات نہیں کر رہا ہوتا، بلکہ وہ مصر، اردن، شام، عراق اور سعودی عرب کی خود مختاری پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر دیتا ہے۔ کیا یہ وہی امریکہ ہے جو یوکرین کی سرحدوں کے تحفظ کے لیے پوری دنیا کو جنگ کے دہانے پر لے آیا؟ اگر روس کا یوکرین میں داخلہ جارحیت ہے، تو اسرائیل کا نیل سے فرات تک کا پھیلاؤ کس طرح "ٹھیک” ہو سکتا ہے؟
یہ وہ دوہرا معیار ہے جس نے عالمی برادری میں امریکہ کے اخلاقی جواز کو ملیا میٹ کر دیا ہے۔ ہکابی کے اس بیان نے ان عرب ممالک کو بھی ایک کٹھن امتحان میں ڈال دیا ہے جو "ابراہیم معاہدوں” کے سائے تلے اسرائیل کے ساتھ پینگیں بڑھا رہے تھے۔ متحدہ عرب امارات، بحرین اور مراکش جیسے ممالک جو نارملائزیشن کی گاڑی پر سوار تھے، اب اپنے عوام کے سامنے کیا جواب دیں گے؟ جب اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی کھلم کھلا ان کے خطے کے جغرافیے کو بدلنے کی بات کر رہا ہے، تو کیا یہ خاموش نارملائزیشن خود کشی کے مترادف نہیں؟ سعودی عرب نے اگرچہ اس پر کڑا ردعمل دیا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہکابی کی زبان نے اس پورے سفارتی عمل کی بنیادیں ہلا دی ہیں جو امن کے نام پر شروع کیا گیا تھا۔ فلسطین کا مسئلہ، جو پہلے ہی غزہ کی تباہی اور مغربی کنارے میں بستیوں کی بے لگام توسیع کی وجہ سے لہو لہان ہے، اب ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ غزہ کی گلیوں میں جب کوئی ماں اپنے بچے کی لاش اٹھاتی ہے، تو اسے ہکابی جیسے بیانات میں اپنی بربادی کا جواز نظر آتا ہے۔ حماس اور دیگر مزاحمتی گروہوں کے لیے یہ بیانات آکسیجن کا کام کرتے ہیں، کیونکہ وہ اپنے عوام کو یہ دکھانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ امریکہ کبھی بھی منصف مزاج ثالث نہیں رہا بلکہ وہ اس قبضے کا برابر کا شریک ہے۔ جب سفارت کار امن کی زبان چھوڑ کر توسیع پسندی کی زبان اپناتے ہیں، تو بندوقوں کی آواز بلند ہونا فطری عمل بن جاتا ہے۔ ہکابی کا بیان دراصل ان تمام بین الاقوامی قراردادوں کی توہین ہے جن میں "دو ریاستی حل” کو مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے کا واحد حل قرار دیا گیا تھا۔ اب جب سفیر خود ہی نیل سے فرات کی بات کر رہا ہے، تو فلسطینی ریاست کا تصور محض ایک سراب بن کر رہ گیا ہے۔ اس پورے منظر نامے میں ایران کا کردار بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ تہران جو طویل عرصے سے اسرائیل اور امریکہ کے گٹھ جوڑ کو خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا آیا ہے، اب ہکابی کے بیان کو اپنی اسٹریٹجک فتح کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
ایران یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ عرب دنیا کا اسرائیل کے ساتھ جھکاؤ دراصل اپنی ہی زمینوں سے دستبرداری کا پہلا قدم ہے۔ شام، لبنان اور یمن میں موجود ایرانی پراکسیاں اس بیان بازی کو اپنے حق میں استعمال کر کے سنی عرب ممالک میں بے چینی پھیلا رہی ہیں۔ یوں ہکابی نے نادانستگی میں یا شاید جان بوجھ کر، ایران کے اس بیانیے کو تقویت دی ہے جس کا مقصد خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو ختم کرنا ہے۔ یہ ایک ایسی آگ ہے جو اگر بھڑک اٹھی تو اس کے شعلے صرف یروشلم یا غزہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ اس کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ امریکہ کی داخلی سیاست پر نظر ڈالیں تو ہکابی کا یہ رویہ وہاں موجود شدید تقسیم کا عکاس ہے۔ ریپبلکن پارٹی کا قدامت پسند دھڑا اسرائیل کی اس غیر مشروط حمایت کو اپنی سیاسی بقا کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ ان کے لیے اسرائیل کی سرحدوں کی توسیع کوئی سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک ایمانی معاملہ ہے۔ دوسری طرف ڈیموکریٹس کے حلقوں میں اور امریکی نوجوانوں میں اسرائیل کے خلاف اٹھنے والی لہر اس بیان بازی سے مزید شدت اختیار کرے گی۔ امریکی یونیورسٹیوں میں جو احتجاج ہم نے دیکھا، وہ اس بات کی گواہی ہے کہ نئی نسل اب "صیہونی استثنیٰ” کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ ہکابی نے شاید اپنے ووٹ بینک کو خوش کرنے کے لیے یہ بات کہی ہو، مگر انہوں نے عالمی سطح پر امریکہ کو ایک ایسی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے جہاں وہ ایک امن دشمن” ریاست کے طور پر ابھر رہا ہے۔ صحافتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو مائیک ہکابی کا یہ انٹرویو سفارتی آداب کی بدترین خلاف ورزی ہے۔ ایک سفیر کا کام پل بنانا ہوتا ہے، خندقیں کھودنا نہیں۔ ہکابی نے پلوں کو آگ لگا دی ہے اور ایسی خندقیں کھود دی ہیں جنہیں پاٹنا اب شاید ممکن نہ رہے۔ جب میڈیا اس طرح کے بیانات کو نشر کرتا ہے، تو اس کا اثر صرف کالموں اور خبروں تک محدود نہیں رہتا بلکہ یہ سڑکوں پر موجود ہجوم کے جذبات کو بھڑکاتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی جذباتی سیاست کا گڑھ ہے، وہاں اس طرح کی "بائبل جاتی” منطق پیش کرنا شعوری طور پر تصادم کو دعوت دینا ہے۔ اسرائیل کے اندر بھی نیتن یاہو کی انتہا پسند حکومت کو اس بیان سے وہ شہ ملی ہے جس کی اسے تلاش تھی۔ اب اسرائیل کی دائیں بازو کی جماعتیں فخر سے یہ کہہ سکیں گی کہ ان کا سب سے بڑا اتحادی ان کے عظیم اسرائیل کے خواب کی تائید کرتا ہے۔ نتیجہ کلام یہ ہے کہ مائیک ہکابی نے جو راستہ دکھایا ہے، وہ تباہی کا راستہ ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کو اس وقت نظریاتی جنونیت کی نہیں، بلکہ حقیقت پسندی اور انصاف کی ضرورت ہے۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    مارچ 3, 2026
    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    مارچ 3, 2026
    ٹی 20 ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی، پاکستانی کھلاڑیوں پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ

    ٹی 20 ورلڈ کپ میں ناقص کارکردگی، پاکستانی کھلاڑیوں پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ

    مارچ 3, 2026
    ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کوالیفائر: حیدرآباد میں ٹکٹوں کی فروخت شروع

    ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کوالیفائر: حیدرآباد میں ٹکٹوں کی فروخت شروع

    مارچ 3, 2026
    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    چین کو ایک اور اتحادی کے نقصان کا سامنا

    مارچ 3, 2026
    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    حراست میں ڈاکٹر ماہ رنگ کی علالت پر تشویش

    مارچ 3, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist