ہندوستان کی فضاؤں میں صدیوں سے گونجنے والی اذان آج بھی اسی طرح بلندی سے سنائی دیتی ہے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ ان اذانوں کے درمیان مسلمانوں پر سوتیلا سلوک مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ خاص طور پر اتر پردیش میں بلڈوزر کا جو کھیل رچایا جا رہا ہے، وہ محض اینٹ اور پتھر کی دیواریں توڑنے کا عمل نہیں بلکہ ایک پوری قوم کی عزت، محنت اور امیدوں پر حملہ ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کے واضح احکامات اور آئین کی ضمانتوں کے باوجود یہ کارروائیاں صرف مسلمانوں کے خلاف ہوتی ہیں، جس سے یہ احساس گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ جیسے یہ ملک ہمیں برابر کا شہری ماننے سے گریزاں ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ رویہ کیوں ہے؟ اور اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ مسلمانوں کو ایسے حالات میں کیا کرنا چاہیے؟
یہ حقیقت سمجھنا ضروری ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ جو رویہ روا رکھا جا رہا ہے، وہ محض اتفاق یا کسی ایک شخص کے تعصب کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمتِ عملی ہے۔ سیاست دانوں نے اکثریتی طبقے کے خوف اور غصے کو ایک ہتھیار بنا دیا ہے۔ عوام کی توجہ مہنگائی، بے روزگاری اور بدعنوانی سے ہٹا کر مسلمانوں پر مرکوز کر دی جاتی ہے تاکہ اصل مسائل دب جائیں۔ مسلمانوں کے گھروں کو مسمار کر کے اکثریت کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ ’’تم محفوظ ہو کیونکہ ہم دشمن کو کچل رہے ہیں‘‘۔ یوں یہ سوتیلا سلوک دراصل ایک سیاسی تماشہ ہے، جس میں کمزور کو قربانی کا بکرا بنایا جاتا ہے۔
سپریم کورٹ بار بار کہہ چکا ہے کہ بغیر قانونی نوٹس کے کسی کا مکان گرانا آئین کی خلاف ورزی ہے۔ لیکن جب زمین پر بلڈوزر چلتا ہے تو یہ آواز کہیں کھو جاتی ہے۔ اس سے مسلمانوں میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ شاید انصاف ان کے دروازے پر آتے آتے تھک گیا ہے۔ مگر یہ مایوسی مستقل نہیں ہونی چاہیے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی عدلیہ پر دباؤ بڑھا، بالآخر انصاف نے اپنی جگہ بنائی۔ مسلمانوں کو عدلیہ سے امید توڑنے کے بجائے اس کی دہلیز پر زیادہ مضبوطی سے کھڑا رہنا ہوگا۔
یہ سوتیلا رویہ کیوں؟اس کے کئی اسباب ہیں۔ نفسیاتی سبب یہ ہے کہ اکثریت کو بار بار یہ باور کرایا جاتا ہے کہ مسلمان خطرہ ہیں، ان سے ڈرنا چاہیے۔ تاریخی سبب یہ ہے کہ ماضی کی تلخیوں کو بار بار دہرا کر مسلمانوں کو ہمیشہ ’’قصوروار‘‘ ثابت کیا جاتا ہے۔ سماجی سبب یہ ہے کہ مسلمان معاشی اور تعلیمی طور پر کمزور ہیں، ان پر وار کرنا آسان ہے۔ ان کے پاس بڑے وکیل یا طاقتور میڈیا ادارے نہیں جو ان کی آواز کو بلند کر سکیں۔ یوں مسلمانوں کے ساتھ سوتیلا سلوک دراصل کمزور پر طاقت آزمانے کا ایک آسان راستہ بن چکا ہے۔
یہ سب سے اہم سوال ہے۔ غصہ، احتجاج اور نعرے وقتی جذبات کو تسکین دیتے ہیں مگر حالات کو نہیں بدلتے۔ مسلمانوں کے لئے اصل حکمت عملی یہ ہے کہ وہ اپنی توانائی کو طویل المدتی منصوبہ بندی میں لگائیں۔ مسلمانوں کو سب سے پہلے تعلیم کو اپنا ہتھیار بنانا ہوگا۔ اگر نئی نسل یونیورسٹیوں، تحقیقی اداروں اور پیشہ ورانہ میدانوں میں آگے بڑھے گی تو قوم کی وقعت خود بخود بڑھے گی۔ تعلیم صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ عزت اور وقار کا ضامن ہے۔ آج کا سب سے بڑا انتقام یہی ہے کہ ہم اپنی اولاد کو اتنا مضبوط بنا دیں کہ کل کوئی بلڈوزر ان کے خواب نہ توڑ سکے۔
مسلمانوں کو آئین پر یقین رکھنا ہوگا اور اسی کے سائے میں اپنی لڑائی لڑنی ہوگی۔ عدالتوں میں مقدمات لڑنے کے لئے وکلاء کی ایک نسل تیار کرنا ہوگی۔ قانون کے دائرے میں رہ کر اپنی جدوجہد جاری رکھنا ہی قوم کو بچانے کا واحد راستہ ہے۔ مکان دوبارہ بنایا جا سکتا ہے مگر آئین سے امید ٹوٹ جائے تو پوری قوم بے سہارا ہو جاتی ہے۔ مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری ان کا انتشار ہے۔ ایک علاقے میں مکان گرتا ہے تو دوسرے علاقے میں لوگ خاموش رہتے ہیں۔ یہ خاموشی ختم کرنا ہوگی۔ اجتماعی شعور پیدا کرنا ہوگا کہ ایک کا دکھ سب کا دکھ ہے۔ اتحاد کی طاقت ہی وہ بنیاد ہے جس پر مستقبل کی عمارت کھڑی ہو سکتی ہے۔ آج کا زمانہ بیانیے کا ہے۔ جس کے پاس کہانی ہے، وہ جیتتا ہے۔ مسلمانوں کو یہ شکایت کافی نہیں کہ بڑے میڈیا ادارے ان کے خلاف ہیں۔ اب وقت ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم بنائیں، اپنی تحریریں اور فلمیں دنیا تک پہنچائیں۔ جب دنیا دیکھے گی کہ بلڈوزر کے نیچے محض مکان نہیں بلکہ خواب اور زندگیاں بھی ٹوٹتی ہیں تو منظرنامہ بدلنے لگے گا۔
اسلام ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ صبر شکست نہیں بلکہ حکمت ہے۔ نفرت کا جواب نفرت سے دینا مزید نقصان کا باعث بنتا ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ اپنے اخلاق کو مضبوط رکھیں۔ خدمت، شرافت اور کردار کے ذریعے معاشرے کو جیتیں۔ جب دشمن طاقت کے نشے میں ہو تو اس کا جواب حکمت اور صبر سے دینا زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔ کیا بلڈوزر ہمیشہ مسلمانوں پر ہی چلتا رہے گا؟ کیا آئین کی چھتری ہمیشہ کمزور رہے گی؟ کیا انصاف زمین پر کبھی نہیں اترے گا؟ یہ سوال اپنی جگہ باقی ہیں۔ لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ہم امید کا چراغ بجھا دیں گے؟ اگر ہم نے چراغ بجھا دیا تو اندھیرا ہمارا مقدر ہو جائے گا۔ مگر اگر ہم اسے جلائے رکھیں تو صبح کی کرنیں ضرور پھوٹیں گی۔
مسلمانوں کے ساتھ ہندوستان میں جو سوتیلا برتاؤ کیا جا رہا ہے، خاص کر اتر پردیش میں بلڈوزر کی سیاست نے جس طرح اپنی شکل دکھائی ہے، وہ صرف چند گھروں کے گرنے کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ایک پوری برادری کے وجود اور وقار پر حملہ ہے۔ یہ رویہ مسلمانوں کے دل میں یہ احساس پیدا کرتا ہے کہ شاید وہ اس سرزمین کے برابر کے شہری نہیں۔ مگر تاریخ اور قرآن دونوں ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ ہر آزمائش کے بعد آسانی ہے اور ہر اندھیرا صبح کے سامنے کمزور ہے۔ اس لئے نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ مسلمان اگر آج مایوس ہو جائیں تو کل کی نسلیں بھی غلامی اور بے بسی میں جیئیں گی، لیکن اگر آج وہ حکمت اور صبر کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوں تو آنے والا کل ان کے لئے امید کا چراغ لے کر آئے گا۔
بلڈوزر کی سیاست نے دراصل یہ واضح کر دیا ہے کہ طاقت ہمیشہ انصاف کے ساتھ نہیں ہوتی، لیکن انصاف کی اپنی ایک دیرپا طاقت ہے جو کبھی فنا نہیں ہوتی۔ مسلمانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر وہ تعلیم میں پیچھے رہیں گے، اگر وہ اتحاد سے خالی ہوں گے، اگر وہ اپنے بیانیے کو دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑیں گے، تو ان پر یہ سوتیلا سلوک جاری رہے گا۔ لیکن اگر وہ اپنی نسلوں کو تعلیم کی روشنی سے آراستہ کریں گے، آئینی جدوجہد کو اپنی ڈھال بنائیں گے، اتحاد کو اپنی بنیاد بنائیں گے، اور اخلاقی برتری کے ساتھ معاشرے کو اپنی خدمت دکھائیں گے تو یہ سوتیلا سلوک رفتہ رفتہ کمزور پڑ جائے گا۔
نتیجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو سب سے پہلے اپنی داخلی اصلاح پر توجہ دینی ہوگی۔ اپنی کمیوں کو دور کرنا ہوگا۔ تعلیمی ادارے قائم کرنے ہوں گے، نوجوانوں کو جدید علوم اور ٹیکنالوجی میں آگے بڑھانا ہوگا، تاکہ کوئی بھی ان کی کمزوری کا فائدہ نہ اٹھا سکے۔ دوسری بات یہ کہ آئین پر ایمان رکھنا ہوگا۔ عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانا ترک نہیں کرنا چاہیے، چاہے فوری انصاف نہ ملے۔ اس سے نہ صرف قانونی شعور بڑھے گا بلکہ آنے والی نسلیں بھی یہ سمجھیں گی کہ انصاف مانگنے کے لئے صبر اور جدوجہد دونوں ضروری ہیں۔
تیسری سب سے بڑی ضرورت اتحاد کی ہے۔ مسلمان جب تک منتشر رہیں گے، ہر محلے اور بستی کی کمزوری دوسروں کے لئے تماشہ بنی رہے گی۔ لیکن اگر ایک آواز میں کھڑے ہو جائیں تو ان کے خلاف کسی کے لئے فیصلہ لینا آسان نہیں ہوگا۔ اتحاد کی بنیاد صرف مذہبی نہیں بلکہ سماجی اور تعلیمی بھی ہونی چاہیے۔
میڈیا اور بیانیے کی جنگ بھی نتیجے کے طور پر ایک واضح حقیقت بن کر سامنے آتی ہے۔ جو قوم اپنی کہانی خود نہیں سناتی، دنیا اسے دوسروں کی کہانی سے پہچانتی ہے۔ مسلمانوں کو اپنی کہانی دنیا کے سامنے رکھنی ہوگی۔ اپنے دکھ کو تحریر، تصویر اور آواز میں ڈھال کر دنیا کو بتانا ہوگا کہ بلڈوزر کے نیچے ٹوٹنے والے گھر محض مکان نہیں بلکہ امید اور محنت کی قبریں ہیں۔
سب سے اہم نتیجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو صبر اور اخلاقی برتری کو کبھی ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔ طاقت کا جواب طاقت سے دینا ان کے لئے ممکن نہیں، لیکن طاقت کے نشے میں ڈوبے ہوئے کو صبر اور کردار کے ذریعے آئینہ دکھایا جا سکتا ہے۔ نفرت کا جواب نفرت سے دینے کے بجائے خدمت اور شرافت سے دینا ہی اصل اسلامی راستہ ہے۔
آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ سوتیلا سلوک ہمیشہ باقی نہیں رہتا۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جب بھی کسی قوم کو دبایا گیا، آخرکار وہی قوم اپنے علم، صبر اور حکمت کے ذریعے عزت کے مقام پر پہنچی۔ مسلمانوں کو بھی یہی راہ اختیار کرنی ہوگی۔ بلڈوزر کی آواز وقتی ہے، لیکن تعلیم، آئین، اتحاد اور صبر کی طاقت دائمی ہے۔ یہی وہ چراغ ہیں جو اندھیروں کو چیر سکتے ہیں۔
لہٰذا نتیجہ یہی ہے کہ مسلمانوں کو مایوسی سے نکل کر امید کو اپنا ہتھیار بنانا ہوگا۔ اگر وہ آج خود کو مضبوط کریں گے تو کل کوئی طاقت ان پر سوتیلا سلوک روا نہیں رکھ سکے گی۔ اور اگر وہ کمزوری اور غفلت میں ڈوبے رہے تو ظلم کی زنجیریں مزید سخت ہو جائیں گی۔ اب فیصلہ مسلمانوں کے اپنے ہاتھ میں ہے کہ وہ تاریخ میں ایک مظلوم قوم کے طور پر یاد ہونا چاہتے ہیں یا ایک حکمت و صبر سے اندھیروں کو چیرنے والی برادری کے طور پر۔












