وارانسی: (یواین آئی) بہار کے مولانا عبداللہ سلیم کی جانب سے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی والدہ کے بارے میں مبینہ متنازعہ اور قابلِ اعتراض تبصرہ کرنے کے بعد وارانسی کے لوگوں میں شدید غصہ پایا جا رہا ہے۔ اس بیان کے بعد سماجی اور سیاسی ماحول میں بھی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ اتوار کو وارانسی میں نوجوانوں نے اس بیان کی سخت مذمت کرتے ہوئے زبردست احتجاج کیا اور مولانا عبداللہ سلیم کا پتلا نذرِ آتش کیا۔ شہر کے میداگنج چوراہے پر تری شکتی سیوا فاؤنڈیشن اور ہندوتوا تنظیموں کے کارکنوں نے نعرے بازی کی اور مولانا کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ کسی عوامی نمائندے یا ان کے اہلِ خانہ کے بارے میں اس طرح کی قابلِ اعتراض بات کہنا معاشرے میں نفرت اور اختلاف کو بڑھانے والا عمل ہے اور اسے کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ امبریش سنگھ بھولا نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی والدہ کے بارے میں کی گئی غیر مہذب بات انتہائی قابلِ مذمت ہے۔ اس سے پورے صوبے کے عوام کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ کسی کو بھی اس طرح کا بیان دینے کی ہمت نہ ہو۔ ساتھ ہی انہوں نے انتظامیہ سے مولانا عبداللہ سلیم کی شہریت منسوخ کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔












