سید پرویز قیصر
ہندوستان کے خلاف پرتھ میں کھیلے گئے واحد ٹسٹ میچ میں آسڑیلیا کی ایلیسی پیری نے186 منٹ میں 116 بالوں پر دس چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے76 رن بنائے۔ اپنی اس اننگ کے دوران وہ ٹسٹ کرکٹ میں اپنے ایک ہزار رن مکمل کرنے میں بھی کامیاب ہوئیں۔ خواتین ٹسٹ کرکٹ میں ایک ہزار رن بنانے والی وہ آسٹریلیا کی دوسری اور کل ملاکر گیارہویں کھلاڑی بنیں۔
انگلینڈ کے خلاف بورال میں فروری2008 میں اپنا پہلا ٹسٹ کھیلنے والی دائیں ہاتھ کی اس بلے باز نے اس ٹسٹ کے اختتام تک جو15 ٹسٹ کھیلے ہیں انکی24 اننگوں میں59.17 کی اوسط کے ساتھ دو سنچریوں اور پانچ نصف سنچریوں کی مدد ے1006 رن بنائے ہیں۔ وہ ایک بھی مرتبہ صفر پر آوٹ نہیں ہوئی ہیں اوران کا سب سے زیادہ اسکور آوٹ ہوئے بغیر213 رن ہے جو انہوں نے374 بالوں پر27 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے انگلینڈ کی خواتین کے خلاف نارتھ سڈنی میں نومبر 2017 میں بنایا تھا ۔ یہ ٹسٹ کسی فیصلہ کے بغیر ختم ہوا تھا۔
ٹسٹ کرکٹ میں ایک ہزار رن مکمل کرنے کے بعد ایلیسی پیری تینوں طرز کی کرکٹ میں ایک ہزار سے زیادہ رن بنانے والی دوسری کھلاڑی بن گئی ہیں۔ انہوں نے2007 سے اب تک جو165 ایک روزہ بین الاقوامی میچ کھیلے ہیں انکی137 اننگوں میں48.43 کی اوسط اور78.48 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ تین سنچریوں اور37 نصف سنچریوں کی مدد سے 4504 رن بنائے ہیں۔ وہ چھ مرتبہ اپنا کھاتہ کھولنے میں ناکام رہی ہیں اور ان کا سب سے زیادہ اسکور آوٹ ہوئے بغیر112 رن ہے جو انہوں نے نارٹھ ساونڈ میں ویسٹ انڈیز کی خواتین کے خلاف8 ستمبر2019 کو150 منٹ میں118 بالوں پر نو چوکوں کی مدد سے بنایا تھا۔اس میچ میں آسڑیلیا کی خواتین نے 118 رن سے جیت اپنے نام کی تھی۔35 سالہ اس کھلاڑی نے 2008 سے اب تک جو171 ٹونٹی ٹونٹی بین الاقوامی میچ کھیلے ہیں انکی114 اننگوں میں30.15 کی اوسط اور116.82 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ نو نصف سنچریوں کی مدد سے2201 رن بنائے ہیں۔ وہ پانچ مرتبہ اپنا کھاتہ کھولنے میں ناکام رہی ہیں اور ان کا سب سے زیادہ اسکور75 رن ہے جو انہوں نے ہندوستان کی خواتین کے خلاف ممبئی میں14 دسمبر2022 کو47 بالوں پر نو چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے بنایا تھا۔اس میچ میںآسڑیلیا کی خواتین کو21 رن سے کامیابی ملی تھی۔
ایلیسی پیری سے پہلے تینوں طرز کی بین الاقوامی کرکٹ میں ایک ہزار سے زیادہ رن بنانے والی واحد بلے باز انگلینڈ کی چار لوٹ ایڈورڈس تھیں جنہوں نے1996 اور2015 کے درمیان جو23 ٹسٹ میچ کھیلے تھے انکی43اننگوں میں0 44.1 کے اوسط کے ساتھ چار سنچریوں اور نو نصف سنچریوں کی مدد سے1676 رن بنائے تھے۔ وہ ایک بھی مرتبہ صفر پر آوٹ نہیں ہوئی تھیں اور ان کا سب سے زیادہ اسکور117 رن ہے جو انہوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف اسکار براہ میں اگست2004 میں331 منٹ میں251 بالوں پر12 چوکوں کی مدد سے بنائے تھے۔ یہ ٹسٹ غیر فیصلہ کن رہا تھا۔دائیں ہاتھ کی اس بلے بازنے 1997 اور2016 کے درمیان جو191 ایک روزہ بین الاقوامی میچ کھیلے انکی180 اننگوں میں38.16 کی اوسط سے نوسنچریوں اور46 نصف سنچریوں کی مدد سے5992 رن بنائے تھے۔ وہ 16 مرتبہ اپنا کھاتہ کھولنے میں ناکام رہی تھیں اور ان کا سب سے زیادہ اسکورآوٹ ہوئے بغیر173 رن رہا جو انہوں نے186 منٹ میں 155 بالوں پر19 چوکوں کی مدد سے آئیر لینڈ کے خلاف پونہ میں 16 دسمبر1997 کو بنایا تھا۔اس میچ میں انگلینڈ کو208 رن سے کامیابی حاصل ہوئی تھی۔46 سالہ اس سابق کھلاڑی نے2004 اور2016 کے درمیان جو95تونٹی ٹونٹی بین الاقوامی میچ کھیلے انکی93 اننگوں میں32.97 کی اوسط اور106.93 کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ12نصف سنچریوں کی مدد سے2605 رن بنائے۔ وہ تین مرتبہ اپنا کھاتہ کھولنے میں ناکام رہیں تھی اور ان کا سب سے زیادہ اسکور آوٹ ہوئے بغیر92 رن ہے جو انہوں نے ہوبرٹ میں29 جنوری2014 کو آسڑیلیا کی خواتین کے خلاف ہوبرٹ میں29 جنوری2014 کو66 منٹ میں59 بالوں پر13 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے بنایا تھا ۔ اس میچ میں انگلینڈ نے نو وکٹ سے جیت اپنے نام کی تھی۔












