کشن گنج، توثیق عالم: کشن گنج بلاک کے تحت دولا پنچایت کے ہر دل عزیز مکھیا اور کشن گنج مکھیا یونین کے صدر اخلاق حسین نے آج بڑی ہی شاندار اور جاندار افطار پارٹی کا انعقاد کیا۔ جس میں تقریباً 1500 سے زائد روزے دار حضرات شریک ہو کر مذکورہ پارٹی کو باعث مسرت اور ثواب لدارین کا ذریعہ بنا دیا۔ مکھیا جی نے تمام روزے داران حضرات کا پر زور استقبال کرتے ہوئے مہمانان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ افطار کے چند لمحے کے بعد میڈیا سے رو برو ہوتے ہوئے موصوف نے ماہ رمضان المبارک کی تمام باشندگان کشن گنج کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ نیکی اور کار خیر میں مشغول و مصروف ہونے کی اپیل بھی کی۔ اس کے بعد پوچھے جانے پر کہا کہ مجھے پنچایت اس عالم میں ملا تھا جس حالات میں بہار نتیش کمار کی حکومت بہار کو ملی تھی۔ میرے منتخب ہونے کے بعد آج پنچایت میں گلی نلی، نل جل منصوبہ ، پی سی سی ڈھلائی ، سڑکیں ، کلورٹ ، منریگا یعنی موجودہ رام جی منصوبہ کے تحت مٹی کرن وغیرہ کا کام اسکول اور آنگن باڑی سطح تک کی تعلیم می سدھار محکمہ صحت کے تحت منی اسپتال کی تعمیر اور اس میں نرس اور ابتدائیہ علاج اور دوائیوں کا انتظام فوری طور پر کرایا۔ جب بھی اسکول کی طرف جاتے ہیں اور ہمارے بچے بچیاں پڑھتے ہوئے دیکھتے ہیں تو اتنا بہتر و منظم سسٹم میں تعلیم کا فروغ اور پروان چڑھتا دیکھ دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ جسے دیکھ کر سماج بھی کافی خوش ہیں جو میری دلی خواہش تھی اور ہمیشہ رہے گی۔ خدمت خلق کے مقصد سے آیا تھا اور لوگوں نے چنا بھی اور مجھے خدمت خلق میں ہی سبھی خوشی ملتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بلاک کے تحت میرا پنچایت خصوصاً ہر سال سیلاب کی زد میں آنے کے سبب مقامی لوگوں کو کافی پریشانی ہوتی ہے اور خاص کر ہمارے ایس سی اور ایس ٹی برادری کو کچھ زیادہ ہی اس پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ہے جس مںی سے تقریباً سینکڑوں کنبہ آج وزیر اعظم سڑک کے کنارے کنارے پلاسٹک ٹانگ کر زندگی گزر بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ جس میں سے میں نے پہل کرتے ہوئے تقریباً 80 کنبے کو تین تین ڈسمل زمین مہیا کرا کر وزیر اعظم آواس کے تحت گھر بنوا کر سر چھپانے کے لیے سہولت دستیاب کرائی ہے اور باقی بچے لوگوں کے لیے کوشش جاری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے پنچایت میں لگ بھگ پانچ چھ وارڈوں میں آنگن باڑی سینٹر بنا ہوا ہے اس کی عمارت بھی خراب ہونے جا رہی ہے لیکن سیویکا اور سہائیکا کی بحالی نہ ہونے کے سبب اس سے یہاں کے لوگ مستفید نہیں ہو پا رہے ہیں۔ جس کو لے کر انہوں نے ڈی ایم سے لے کر وزیر اعلی تک کئی دفعہ اپیل نامہ کے طور پر درخواست بھی پیش کئے ہیں جس کو لے کر انہیں ضلع انتظامیہ کی جانب سے مثبت یقین دہانی کرا ئی گئی ہے۔ فی الوقت ان کے پنچایت میں وزیر اعظم آواس کے تحت بہت سارے لوگوں کو فائدہ مل چکا ہے اور نئے سروے میں تقریباً 350 سے 400 لوگوں کا نام زد کیا گیا ہے۔ تاکہ لوگ اس سے مزید استفادہ کر سکیں اور اصل حقدار اس سے محروم نہ رہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ اس ٹرم میں جہاں تک ان سے ممکن ہوا وہ کئے ہیں اور مستقبل میں اگر موقع ملتا ہے تو کچھ ایسے اور منصوبے ہیں جو ابھی وہ مستحکم انداز میں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاکہ عوام کو اس کا مضبوطی کے ساتھ فائدہ ملے ان کے یہاں پنچایت سطح کے لگ بھگ کام ان کے پنچایت سرکار بھون میں ہی وہ کرواتے آ رہے ہیں اور یہ سہولت ان کے منتخب ہونے کے بعد ہی عمل میں آ سکی اور پنچایت سرکار بھون کی تعمیر بھی ان کے دور کار میں ہی انجام پا سکی۔ جس کو لے کر مقامی لوگ کافی خوش بھی ہیں۔ موقع پر لوک جن شکتی پارٹی (رام ولاس) کے ضلع صدر و سابق ایم ایل اے امید وار کوچا دھامن اسمبلی حلقہ اور کثیر تعداد میں عوامی نمائندہ و دانشوران اور معزز حضرات شریک تھے۔












