ناظم منصوری
مرادآباد:پدماوت ایکسپریس ٹرین میں ہجومی تشدد کا نشانہ بننے والے پیتل تاجر عاصم حسین کے معاملے میں جی آر پی کی تحقیقات میں نیا موڑ آ گیا ہے۔ تیزی سے کی جارہی تحقیقات میں جی آر پی نے پہلے تاجر کی طرف سے لوٹ مار اور مذہبی نعرے لگانے کے الزامات کو مسترد کیا اور اب اس کے خلاف چھیڑ چھاڑ کی رپورٹ درج کر کے تاجر کو گرفتار کر لیا ہے۔تاہم اب اس معاملے پر سیاست گرم ہونے کا امکان ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز جی آر پی کی تحقیقات پر سوالات اٹھائے گئے تھے اور کلکٹریٹ میں مظاہرہ کرکے اعلیٰ سطحی منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر ایس ٹی حسن نے منصفانہ تحقیقات کے لیے اس مسئلہ کو پارلیمنٹ میں اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔واضح ہو کہ 12 جنوری کو پدماوت ایکسپریس ٹرین میںکٹگھر تھانہ علاقے کے پیر زادہ کے رہنے والے عاصم حسین کے ساتھ ٹرین میں بری طرح سے حملہ کیا گیا تھا، تاجر کے کپڑے اتار کر بیلٹ سے حملہ کیے جانے کی ویڈیوسوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہونے کے بعد عوام میں سنسنی پھیل گئی۔ ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے جی آر پی نے بریلی میں دو حملہ آوروں کو گرفتار کیا تھا، جنہیں امن کی خلاف ورزی کے اندیشے کے الزام میں عدالت سے ضمانت مل گئی تھی۔پیر کو سی او، جی آر پی دیوی دیال نے بتایا تھا کہ تحقیقات میں مذہبی نعرے لگائے گئے تھے اور تاجر کے 2200 روپے نکالنے کی تصدیق نہیں ہوئی تو رپورٹ سے ان کی شقوں کو ہٹا دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ تاجر عاصم حسین کی جانب سے ٹرین میں خاتون مسافر سے چھیڑ چھاڑ کی اطلاع ملی ہے جس کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اس سے قبل یہ کہا گیا تھا کہ متاثرہ تاجر کو چوری کے شبہ میں مارا پیٹا گیا تھا۔ اس کے برعکس رپورٹ درج ہونے کے فوراً بعد ایس پی ریل نے چھیڑ چھاڑ کی اطلاع ملنے کا دعویٰ کیا۔ تاہم منگل کے روز شاہجہاں پور کی ایک لڑکی کی شکایت پر جی آر پی تھانے میں چھیڑ چھاڑ کی رپورٹ درج کرائی گئی ہے۔ شاہجہاں پور کی رہنے والی لڑکی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ ٹرین میں سفر کر رہی تھی۔ بوگی میں بھیڑ کی وجہ سے اسے بیٹھنے کی جگہ نہیں ملی۔ پھر تاجر عاصم نے اسے بیٹی کہہ کر اپنے پاس بٹھا لیا۔ اس کے بعد وہ اس کے ساتھ بدتمیزی کرنے لگا، جس پر وہ رونے لگی اور اپنی سیٹ چھوڑ کر کھڑی ہوگئی۔اس کے رونے پر ہی مسافروں نے تاجر کو زدوکوب کیا۔ اسٹیشن پہنچ کر وہ بوگی سے اتر کر دوسرے کوچ میں چلی گئی اور خوف کی وجہ سے اس نے تھانے میں شکایت نہیں کی۔دوسری جانب آل انڈیا یونائیٹڈ ٹریڈ یونین نے پیر کو کلکٹریٹ میں جی آر پی تحقیقات کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات سماجی ہم آہنگی کو بھی متاثر کرتے ہیں اور مسافروں میں خوف کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔ آل انڈیا یونائیٹڈ ٹریڈ یونین کے ریاستی صدر وجے پال سنگھ نے کہا ہے کہ اگر جی آر پی سنجیدگی سے تحقیقات کرتے ہوئے ملزمین کے خلاف سخت کارروائی نہیں کرتی ہے تو لوگ ٹرینوں میں سفر کرنے سے گریز کریں گے۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ واقعہ کی اعلیٰ سطحی اور غیر جانبدارانہ انکوائری کرائی جائے اور قصورواروں کو فی الفور گرفتار کیا جائے۔ ٹرینوں میں مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے اور ایسے واقعات دوبارہ نہ ہونے کو یقینی بنانے کے لیے مناسب انتظامات کیے جائیں۔ڈیموکریسی ڈیفنس فرنٹ، آزاد گروپ، ناگرک جن کلیان سمیتی، براس مزدور یونین نے بھی مظاہرے کی حمایت کی۔ اس موقع پرروہتاش راجپوت، بچن سنگھ چوہان، ساحل شمسی، راشد علی، سریش پال سنگھ، محمد ارشاد بھارتی، محمد طاہر، ایم ایف خان، وجے پال سنگھ، اسلم، حافظ عرفان، مقصود خان وغیرہ شریک تھے۔












