• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
بدھ, مارچ 18, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home ریاستی خبریں

پاکستان کا افغانستان پر فوجی حملہ،400 افراد ہلاک،انسانیت شرمسار

افغانستان کی طرف سے پاکستان پر 400 عام شہریوں کے قتل کا الزام عائد، پاکستان کی تردید

Hamara Samaj by Hamara Samaj
مارچ 18, 2026
0 0
A A
پاکستان کا افغانستان پر فوجی حملہ،400 افراد ہلاک،انسانیت شرمسار
Share on FacebookShare on Twitter

کابل،  (یو این آئی)ایک افغان اہلکار نے دعوی کیا ہے کہ پاکستان کے فضائی حملے میں کابل میں ایک منشیات کی بحالی کے مرکز میں موجود 400 افراد ہلاک ہو گئے۔ افغان حکومت کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرات نے ایکس پر کہا کہ پاکستانی فوج نے تقریباً 9:00 بجے شب امید ایڈکشن ٹریٹمنٹ ہسپتال پر فضائی حملہ کیا، جو نشے کے علاج کے لیے وقف ایک 2,000 بستروں والا ادارہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حملے کے نتیجے میں ہسپتال کے بڑے حصے تباہ ہو گئے ہیں اور امکانات ہیں کہ ہلاکتوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگی "ان کا کہنا تھا کہ تقریباً 250 دیگر افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں اور امدادی ٹیمیں اس وقت جائے وقوعہ پر کام کر رہی ہیں۔ اس سے قبل کابل میں فضائی حملوں کی اطلاعات آئیں تھیں اور افغان حکومت نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ اس نے افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے 2,000 بستروں والے امید منشیات بحالی مرکز پر بمباری کی۔ اسلام آباد نے ان دعوؤں کی تردید کی ہے ۔واقعے کی جگہ پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے زمان نے کہا کہ ہم زخمیوں اور داخل شدہ مریضوں کی تلاش کر رہے ہیں۔ ان بیانات کے بعد پاکستان کی وزارت اطلاعات نے کابل کے الزامات کی تردید کی اور کہا کہ اسلام آباد نے بالکل درست نشانہ بنایا تھا اور ان فوجی تنصیبات اور دہشت گرد تعاون کے ڈھانچے، بشمول تکنیکی سازوسامان کے ذخیرے اور افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے گولہ بارود کے ذخائر کو نشانہ بنایا جو بے گناہ پاکستانی شہریوں کے خلاف استعمال ہو رہے تھے۔ وزارت نے مزید کہا کہ حملے کے بعد ذخیرہ شدہ گولہ بارود کے دھماکہ خیز ہونے سے پیدا ہونے والے مناظر بھی اس جعلی دعوے کی مکمل تردید کرتے ہیں افغانستان نے پاکستانی فوج پر دارالحکومت کابل میں نشہ چھوڑانے مرکز پر فضائی حملہ کرنے کا الزام لگایا، جس میں کم از کم 400 افراد ہلاک ہوئے۔الجزیرہ نے منگل کے روز رپورٹ اس کی اطلاع دی ہے۔ تاہم، پاکستان نے اس دعوے کو غلط اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے پیر کے روز صرف کابل اور ننگرہار صوبے میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ افغان طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت کے مطابق، کابل کے عمر اسپتال پر حملہ پیر کے روز مقامی وقت کے مطابق رات 9 بجے ہوا تھا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ اسپتال میں 2000 بستروں کی گنجائش ہے اور حملے میں عمارت کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ "بدقسمتی سے مرنے والوں کی تعداد 400 تک پہنچ گئی ہے، اور تقریباً 250 دیگر زخمی ہیں۔ ریسکیو ٹیم اس وقت جائے وقوعہ پر موجود ہیں اور آگ پر قابو پانے اور متاثرین کی لاشوں کو نکالنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔” افغان حکومت کے سینئر ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اسپتال پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایک بار پھر افغان فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے اور کابل میں نشہ چھوڑانے کے اسپتال کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ افغان حکومت اس طرح کی کارروائی کو تمام تسلیم شدہ اصولوں کی خلاف ورزی اور انسانیت کے خلاف جرم سمجھتی ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف کے ترجمان مشرف زیدی نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ کابل میں کسی اسپتال کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں، پاکستان کی وزارت اطلاعات نے کہا کہ حملوں میں "کابل اور ننگرہار میں افغانستان میں مقیم افغان طالبان اور پاکستانی جنگجوؤں کی فوجی تنصیبات اور دہشت گردوں کی معاونت کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔” ان کا کہنا تھا کہ یہ سہولیات بے گناہ پاکستانی شہریوں کے خلاف استعمال ہو رہی ہیں۔ وزارت نے کہا کہ کسی بھی بالواسطہ جانی نقصان سے بچنے کے لیے پاکستان کی ٹارگٹڈ کارروائی قطعی درست اور محتاط تھی۔ وزارت نے مزید کہا کہ افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے دعوے کا مقصد پاکستان مخالف جذبات کو بھڑکانا اور سرحد پار دہشت گردی کے لیے طالبان کی غیر قانونی حمایت پر پردہ ڈالنا تھا۔ پاکستان کے یہ تبصرے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے افغانستان میں طالبان حکومت سے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر کوششیں تیز کرنے کے مطالبے کے چند گھنٹے بعد سامنے آئے ہیں۔ پاکستان کابل پر مسلح گروہوں بالخصوص پاکستانی تحریک طالبان کو پناہ دینے کا الزام لگاتا رہا ہے، جو پاکستان میں حملے کے ذمہ دار ہیں۔ قبل ازیں افغان حکام نے کہا تھا کہ پیر کے روز جنوب مشرقی افغانستان میں فائرنگ کے نتیجے میں دو بچوں سمیت چار افراد ہلاک اور 10 زخمی ہو گئے۔ صوبائی گورنر کے ترجمان مستغفر گرباز کا کہنا تھا کہ پاکستان سے فائر کیے گئے مارٹر گولے صوبہ خوست کے دیہات داغے گئے جس سے متعدد مکانات تباہ ہوگئے۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی گزشتہ ماہ اس وقت شروع ہوئی جب پاکستان نے افغانستان میں فضائی حملے کیے، جس کے بارے میں پاکستان کا کہنا تھا کہ مسلح گروپوں کو نشانہ بنایا گیا۔ جس کے بعد افغانستان نے ان حملوں کو اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے جوابی حملے شروع کر دیے۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
Hamara Samaj

© Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance

© Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

ADVERTISEMENT