• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
بدھ, مارچ 18, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home اداریہ ؍مضامین

بہار میں اقتدار کی نئی بساط اور بی جے پی کی حکمتِ عملی

Hamara Samaj by Hamara Samaj
مارچ 18, 2026
0 0
A A
بہار میں اقتدار کی نئی بساط اور بی جے پی کی حکمتِ عملی
Share on FacebookShare on Twitter

بہار کی سیاست ایک بار پھر ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے جہاں قیادت، اتحاد اور آئندہ سیاسی حکمتِ عملی کے سوالات بیک وقت زیرِ بحث آ گئے ہیں۔ وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار کے راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہونے کے بعد ریاست میں قیادت کی تبدیلی سے متعلق قیاس آرائیوں کا بازار گرم ہو چکا ہے۔ ہر چند کہ راجیہ سبھا کے لیے منتخب ہونے کے فوری بعد نتیش کمار نے اپنی سمردھی یاترا کے نئے مرحلے کے لیے شیڈول کا اعلان کر کے فوری طور پر وزارتِ اعلیٰ کے عہدے سے دست برداری کی قیاس آرائیوں کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے، تاہم مختلف مواقع پر اقتدار کی تبدیلی کے امکانات سے متعلق بیانات نے اس بحث کی شدت کو برقرار رکھا ہے۔ لہٰذا سیاسی حلقوں میں یہ سوال تیزی سے زیرِ بحث ہے کہ اگر نتیش کمار وزارتِ اعلیٰ کے منصب سے دست بردار ہوتے ہیں تو ریاست کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں جائے گی اور اس فیصلے میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکمتِ عملی کس حد تک فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔
بہار کی سیاست کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ یہاں اقتدار کی تبدیلی صرف ایک شخصیت کی تبدیلی نہیں ہوتی بلکہ اس کے ساتھ سیاسی ترجیحات، بیانیہ اور طاقت کے توازن میں بھی تبدیلی آ جاتی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران نتیش کمار نے اپنی سیاسی مہارت اور حکمتِ عملی کے ذریعے بارہا ایسے حالات پیدا کیے جنہوں نے بہار کی سیاست کو غیر متوقع رخ دیا۔ کبھی وہ قومی جمہوری محاذ کے ساتھ نظر آئے، کبھی مہا گٹھ بندھن کے ساتھ اقتدار میں شریک رہے اور پھر ایک بار پھر این ڈی اے کی صف میں شامل ہو گئے۔ ان کے اس سیاسی سفر نے انہیں طویل عرصے تک اقتدار کے مرکز میں برقرار رکھا، مگر ساتھ ہی یہ سوال بھی پیدا ہوتا رہا کہ بہار میں اصل سیاسی طاقت کا محور آخر کہاں ہے۔
سنہ ۲۰۲۰ کے اسمبلی انتخابات نے اس سوال کو مزید نمایاں کر دیا۔ اگرچہ این ڈی اے نے اکثریت حاصل کر کے حکومت تشکیل دی، مگر نشستوں کے تناسب نے طاقت کے توازن میں ایک نئی حقیقت کو جنم دیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نشستوں کے اعتبار سے اتحاد کی بڑی جماعت بن کر ابھری جبکہ جنتا دل یونائٹیڈ کی سیاسی قوت پہلے کے مقابلے میں کمزور پڑتی دکھائی دی۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں سے یہ تاثر پیدا ہونے لگا کہ مستقبل میں بی جے پی بہار میں براہِ راست قیادت سنبھالنے کی خواہش رکھتی ہے۔ اتحاد کی سیاسی مجبوریوں کے باعث اگرچہ نتیش کمار وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر برقرار رہے، مگر سیاسی مبصرین کے مطابق بی جے پی کی طویل مدتی حکمتِ عملی میں ریاستی قیادت کو اپنے ہاتھ میں لینا ایک اہم ہدف کے طور موجود رہا۔
اب جب کہ ۲۰۲۵ کے انتخابات کے بعد بی جے پی کے سب سے بڑی جماعت بننے کے باوجود نتیش کمار کی قیادت میں نئی حکومت کی تشکیل کو چند ہی ماہ گزرے ہیں اور قیادت کی تبدیلی سے متعلق قیاس آرائیاں شدت اختیار کر رہی ہیں، تو بی جے پی کے اندر کئی نام ممکنہ امیدواروں کے طور پر زیرِ بحث آ رہے ہیں۔ نائب وزیرِ اعلیٰ سمراٹ چودھری کو اس دوڑ میں سب سے آگے تصور کیا جا رہا ہے۔ وہ پارٹی کے ایک سرگرم اور منظم لیڈر کے طور پر جانے جاتے ہیں اور پسماندہ طبقات میں ان کا اثر و رسوخ بھی نمایاں سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح منگل پانڈے،جنک رام گرو پرکاش پاسوان،پرمود کمار،سنجیو چورسیا،نتیا نند رائے،وجئے کمار سنہا اور سید شہنواز حسین جیسے رہنماؤں کے نام بھی مختلف حلقوں میں زیرِ بحث ہیں۔
ان ناموں میں ہر ایک کے ساتھ ایک الگ سیاسی پس منظر اور سماجی توازن کا سوال جڑا ہوا ہے۔ مثال کے طور پر سنجیو چورسیا کو مقامی سطح پر مضبوط سیاسی نیٹ ورک رکھنے والے لیڈر کے طور پر دیکھا جاتا ہے جبکہ پریم کمار کو ایک تجربہ کار اور انتظامی امور سے واقف سیاست دان مانا جاتا ہے۔ نیتانند رائے کا شمار بھی ان رہنماؤں میں ہوتا ہے جو تنظیمی سطح پر پارٹی کے لیے اہم خدمات انجام دیتے رہے ہیں۔ اسی طرح وجئے سنہا اپنی جارحانہ سیاسی طرز اور اسمبلی کی سیاست میں سرگرم کردار کے باعث نمایاں شناخت رکھتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض حلقوں میں نوجوان قیادت کو آگے لانے کی بحث بھی سنائی دینے لگی ہے۔ اسی تناظر میں شریسی سنگھ کا نام بھی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ وہ ایک نوجوان اور متحرک چہرے کے طور پر جانی جاتی ہیں اور ان کا خاندانی سیاسی پس منظر بھی انہیں ایک الگ شناخت فراہم کرتا ہے۔ اگر بی جے پی ریاستی سیاست میں کسی نئے اور تازہ چہرے کو آگے لانے کا فیصلہ کرتی ہے تو اس طرح کے ناموں پر سنجیدگی سے غور کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب سید شہنواز حسین کا نام بھی اس فہرست میں شامل کیا جاتا ہے۔ وہ ایک تجربہ کار مسلم رہنما ہیں جنہوں نے قومی سطح پر پارٹی کی نمائندگی کی ہے اور مرکزی حکومت میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ سیاسی ماحول میں بی جے پی شاید ایسا فیصلہ کرنے سے احتراز کرے جس سے اس کے روایتی ووٹ بینک کے اندر کسی قسم کی سیاسی الجھن پیدا ہو۔ اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ پارٹی اس سمت میں کوئی بڑا تجربہ کرنے کے لیے تیار ہوگی یا نہیں۔
یہ بھی تقریباً طے شدہ حقیقت ہے کہ بہار کے وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب کا فیصلہ صرف ریاستی قیادت کے دائرے میں نہیں ہوگا بلکہ اس میں پارٹی کی مرکزی قیادت کا کردار بنیادی حیثیت رکھے گا۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی، وزیرِ داخلہ امیت شاہ اور پارٹی کی اعلیٰ قیادت گزشتہ چند برسوں سے ریاستی سیاست کے اہم فیصلوں میں براہِ راست دلچسپی لیتی رہی ہے۔ مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ اور اتر پردیش میں قیادت کے انتخاب کے تجربات کو دیکھتے ہوئے یہ قیاس بھی کیا جا رہا ہے کہ بہار میں بھی ایسا ہی کوئی فیصلہ سامنے آ سکتا ہے جہاں نسبتاً کم معروف مگر تنظیمی اعتبار سے مضبوط لیڈر کو آگے لایا جائے۔
اس پوری بحث کا ایک اہم پہلو بہار کی سماجی ساخت بھی ہے۔ ریاست کی سیاست طویل عرصے تک ذات پات اور سماجی انصاف کے بیانیے کے گرد گھومتی رہی ہے۔ لالو پرساد یادوکے دور میں یہ بیانیہ اپنے عروج پر پہنچا جبکہ نتیش کمار نے ترقی، عمدہ حکمرانی اور سماجی توازن کے نعرے کے ساتھ ایک مختلف سیاسی فضا پیدا کرنے کی کوشش کی۔ بی جے پی کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہوگا کہ وہ اپنی قیادت کے انتخاب میں سماجی توازن کو برقرار رکھتے ہوئے ایک ایسا چہرہ سامنے لائے جو مختلف طبقات میں قابلِ قبول ہو۔
وہیں جے ڈی یو کے حامیان “نتیش نہیں تو نشانت سہی” کا نعرہ دے کر وزارتِ اعلیٰ کے باوقار عہدے پر جے ڈی یو کی دعویداری برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بعض جے ڈی یو رہنماؤں نے بھی نئے وزیرِ اعلیٰ کے انتخاب میں نتیش کمار کی پسند کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے یہ واضح کر دیا ہے کہ اقتدار کی سیاست میں جے ڈی یو کو نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔نشانت کمار کی جے ڈی یو میں شمولیت اور سیاسی وتنظیمی امور میں دلچسپی اسی حکمت عملی کا حصہ معلوم ہوتی ہے۔بعض حلقوں میں انہیں نائب وزیر اعلی کے طور پر بھی پیش کیا جارہا ہے۔
بہار کے عوام کے لیے قیادت کی تبدیلی کا سوال صرف سیاسی نہیں بلکہ معاشی اور سماجی بھی ہے۔ ریاست طویل عرصے سے بے روزگاری، صنعتی پسماندگی اور بڑے پیمانے پر ہجرت جیسے مسائل سے دوچار رہی ہے۔ لاکھوں نوجوان روزگار کی تلاش میں دہلی، مہاراشٹر، پنجاب اور جنوبی ہند کی ریاستوں کا رخ کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر نئی قیادت سامنے آتی ہے تو اس سے یہ توقع کی جائے گی کہ وہ صنعتی سرمایہ کاری کو فروغ دینے، تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کرنے اور مقامی سطح پر روزگار پیدا کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے گی۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بہار کی سیاست میں ہر بڑی تبدیلی کے ساتھ اپوزیشن کی سیاست بھی متحرک ہو جاتی ہے۔ راشٹریہ جنتا دل اور دیگر اپوزیشن جماعتیں اس ممکنہ تبدیلی کو اپنے سیاسی بیانیے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کریں گی۔ وہ یہ سوال اٹھائیں گی کہ اگر قیادت بدلتی ہے تو اس کے پیچھے اصل وجہ کیا ہے اور کیا یہ فیصلہ واقعی عوامی مفاد میں ہے یا محض سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آنے والے مہینے بہار کی سیاست کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر واقعی قیادت میں تبدیلی ہوتی ہے تو یہ ریاست کی سیاسی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہوگا۔ اس تبدیلی کے اثرات صرف حکومت تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس سے اتحاد کی سیاست، اپوزیشن کی حکمتِ عملی اور عوامی توقعات سب متاثر ہوں گی۔
بہار کی سیاسی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ یہاں کی سیاست ہمیشہ متحرک اور غیر متوقع رہی ہے۔ کبھی لالو پرساد یادو کے عروج نے ریاست کی سیاست کو نئی سمت دی تو کبھی نتیش کمار کے دورِ حکومت نے عمدہ حکمرانی کے ایک مختلف ماڈل کو متعارف کرانے کی کوشش کی۔ اب اگر بی جے پی براہِ راست قیادت سنبھالنے کی سمت بڑھتی ہے تو یہ بھی ایک اہم سیاسی موڑ ہوگا جس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

بہر حال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ بہار کا اگلا وزیرِ اعلیٰ کون ہوگا۔ سیاسی فیصلے اکثر آخری لمحوں میں سامنے آتے ہیں اور کئی مرتبہ ایسا نام بھی سامنے آ جاتا ہے جس کا پہلے سے اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ بہار کی سیاست ایک بار پھر ایک اہم مرحلے سے گزر رہی ہے اور آنے والے دنوں میں ہونے والے فیصلے ریاست کے سیاسی مستقبل کو نئی سمت دے سکتے ہیں۔

بہار کے عوام کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ قیادت کے اس ممکنہ باب میں کون سا چہرہ سامنے آتا ہے اور وہ ریاست کے مسائل کو کس حد تک حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سیاست میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں مگر اصل امتحان ہمیشہ عمدہ حکمرانی، شفافیت اور عوامی فلاح کا ہوتا ہے۔ یہی وہ کسوٹی ہے جس پر بہار کی آنے والی قیادت کو پرکھا جائے گا، اور یہی وہ سوال ہے جو آنے والے دنوں میں ریاست کی سیاست کا اصل عنوان بننے والا ہے۔
۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    وزیر اعظم بتائیں جب گیس کی کوئی قلت نہیں  تو لوگ لائنیوں میں کیوں لگے ہیں؟: سنجے سنگھ

    وزیر اعظم بتائیں جب گیس کی کوئی قلت نہیں تو لوگ لائنیوں میں کیوں لگے ہیں؟: سنجے سنگھ

    مارچ 18, 2026
    قوم صرف حکومت سے نہیں بلکہ نوجوانوں کے عزم کوششوں اور ذمہ داری سے بنتی ہے –

    قوم صرف حکومت سے نہیں بلکہ نوجوانوں کے عزم کوششوں اور ذمہ داری سے بنتی ہے –

    مارچ 18, 2026
    بہار میں اقتدار کی نئی بساط اور بی جے پی کی حکمتِ عملی

    بہار میں اقتدار کی نئی بساط اور بی جے پی کی حکمتِ عملی

    مارچ 18, 2026
    پاکستان کا افغانستان پر فوجی حملہ،400 افراد ہلاک،انسانیت شرمسار

    پاکستان کا افغانستان پر فوجی حملہ،400 افراد ہلاک،انسانیت شرمسار

    مارچ 18, 2026
    وزیر اعظم بتائیں جب گیس کی کوئی قلت نہیں  تو لوگ لائنیوں میں کیوں لگے ہیں؟: سنجے سنگھ

    وزیر اعظم بتائیں جب گیس کی کوئی قلت نہیں تو لوگ لائنیوں میں کیوں لگے ہیں؟: سنجے سنگھ

    مارچ 18, 2026
    قوم صرف حکومت سے نہیں بلکہ نوجوانوں کے عزم کوششوں اور ذمہ داری سے بنتی ہے –

    قوم صرف حکومت سے نہیں بلکہ نوجوانوں کے عزم کوششوں اور ذمہ داری سے بنتی ہے –

    مارچ 18, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist