تہران، (یو این آئی) بین الاقوامی نشریاتی ادارے الجزیرہ کا کہنا ہے کہ علی لاریجانی کی شہادت نے جنگ کے خاتمے کیلئےمذاکرات کی ممکنہ راہ بند کردی کیونکہ ان جیسے رہنما مستقبل میں مذاکرات کا راستہ ہموار کر سکتے تھے۔ تفصیلات کے مطابق بین الاقوامی نشریاتی ادارے الجزیرہ کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کی شہادت نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے اور کسی بھی ممکنہ سفارتی حل کے دروازے مکمل طور پر بند کر دیے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ علی لاریجانی کو ایرانی نظام میں بااثر اورتوازن قائم رکھنے والی شخصیت سمجھا جاتا تھا، وہ واحد شخصیت تھے جو مستقبل میں مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ الجزیرہ کا کہنا تھا کہ وہ نہ صرف ایک سخت گیر نظریاتی رہنما تھے بلکہ ضرورت پڑنے پر سفارت کاری اور گفت و شنید کا فن بھی جانتے تھے۔ ان کی عدم موجودگی سے ایرانی نظام میں ایک ایسا خلا پیدا ہو گیا ہے جسے پُر کرنا فی الوقت ناممکن نظر آتا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ علی لاریجانی جیسے تجربہ کار سیاستدان کی شہادت اس وقت ہوئی جب خطے کو کسی ایسے مدبر کی ضرورت تھی جو جنگ کی آگ بجھانے میں مدد کر سکے، اب ان کے جانے سے کشیدگی میں کمی کے امکانات ختم ہو گئے ہیں اور خطہ ایک طویل اور غیر یقینی جنگ کی طرف بڑھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ ایران کے طاقتور سیکیورٹی عہدیدار علی لاریجانی کی شہادت کی خبر نے مشرقِ وسطیٰ میں ہلچل مچا دی ہے۔ لاریجانی وہ شخصیت تھے جو فوج (آئی آر جی سی)، مذہبی قیادت اور سیاسی اشرافیہ تینوں کو ایک ساتھ جوڑ کر رکھتے تھے، آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد وہ غیر رسمی طور پر نظام کے سب سے طاقت ور فرد بن گئے تھے۔ اس کے علاوہ وہ نظام کا دماغ سمجھے جاتے تھے ۔علی لاریجانی کو ایران کے طاقتور ترین پالیسی سازوں میں شمار کیا جاتا تھا، بطور سیکریٹری سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل، وہ دفاعی حکمتِ عملی، ایٹمی پروگرام اور خارجہ تعلقات کی نگرانی کر رہے تھے۔ انہیں ایک ایسی شخصیت سمجھا جاتا تھا جو فوج، مذہبی قیادت اور سیاسی حلقوں کے درمیان توازن قائم رکھتی تھی۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے بعد لاریجانی کا کردار مزید نمایاں ہو گیا تھا، جبکہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای منظرِ عام پر کم دکھائی دے رہے تھے۔ حال ہی میں لاریجانی کو تہران میں حکومتی ریلی میں عوام کے درمیان دیکھا گیا تھا، جو ایران کے مؤقف کا کھلا اظہار تھا۔ لاریجانی ایران کے نیوکلیئر پروگرام اور عالمی مذاکرات میں کلیدی حیثیت رکھتے تھے، انہوں نے 2015ء کے جوہری معاہدے کی حمایت کی تھی، جس سے بعد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ الگ ہو گئے تھے۔ علی لاریجانی کی شہادت کے بعد ایران میں طاقت کا توازن بگڑ سکتا ہے، اندرونی سیاسی کشمکش بڑھ سکتی ہے اور خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ ان کے جانے سے پاور ویکیوم پیدا ہو سکتا ہے، مختلف دھڑوں میں کھینچا تانی بڑھ سکتی ہے، جنگی فیصلے سست یا غیر مؤثر ہو سکتے ہیں اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کمزور ہو سکتا ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ سیکیورٹی چیف علی لاریجانی سمیت اعلیٰ ایرانی عہدیداروں کے قتل سے ایرانی حکومت کو دھچکا نہیں لگا۔












