نئی دہلی/کولکتہ، (یو این آئی) مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے جمعرات کو الیکشن کمیشن آف انڈیا پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ آئندہ انتخابات سے قبل ریاست کے خلاف غیرمعمولی مداخلت اور تعصب برتا جا رہا ہے۔اپنے واٹس ایپ چینل پر جاری ایک پیغام میں، محترمہ بنرجی نے دعویٰ کیا کہ کمیشن نے "بنگال کو چن چن کر نشانہ بنایا ہے” جو کہ "انتہائی تشویشناک” ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ چیف سکریٹری، ہوم سکریٹری، ڈائریکٹر جنرل آف پولیس اور کئی اعلیٰ درجے کے افسران سمیت 50 سے زائد سینئر حکام کو انتخابی نوٹیفکیشن سے قبل ہی اچانک اور من مانی طور پر عہدوں سے ہٹا دیا گیا”۔ انہوں نے کہا، یہ کوئی انتظامی کارروائی نہیں ہے بلکہ اعلیٰ درجے کی سیاسی مداخلت ہے۔”وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ یہ پیش رفت اداروں کو سیاسی رنگ دینے کے وسیع تر سلسلے کا حصہ ہے۔ محترمہ بنرجی نے کہا، "غیر جانبدار رہنے والے اداروں کو منظم طریقے سے سیاسی بنانا آئین پر براہ راست حملہ ہے،” انہوں نے مزید کہا کہ کمیشن کا طرز عمل "واضح تعصب اور سیاسی مفادات کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کی عکاسی کرتا ہے۔” ان کے یہ ریمارکس ریاست میں بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی کے دوران سامنے آئے ہیں، جہاں حکمراں آل انڈیا ترنمول کانگریس اکثر اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی پر مغربی بنگال میں انتظامی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کا الزام لگاتی رہی ہے۔مسز بنرجی نے انتخابی فہرستوں کی جاری خصوصی مہم (ایس آئی آر) پر بھی خدشات کا اظہار کیا اور اس عمل کو "انتہائی ناقص” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ اس نے عوامی بے چینی میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوئے” ضمنی انتخابی فہرستیں ابھی تک شائع نہیں کی گئی ہیں، جس سے شہری غیر یقینی کا شکار ہیں۔ انہوں نے سوال کیا، "بی جے پی اتنی مایوس کیوں ہے؟ بنگال اور اس کے عوام کو مسلسل نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟” انہوں نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ وہ آزادی کے کئی دہائیوں بعد شہریوں کو قطاروں میں کھڑے ہونے اور اپنی شہریت ثابت کرنے” پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔












