بنگلورو، 23 مارچ (یواین آئی )ہندوستانی کرکٹ کے اسٹار بلے باز ویراٹ کوہلی نے انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں رائل چیلنجرز بنگلورو ( آر سی بی) کے طویل انتظار کے بعد ملنے والی پہلی کامیابی کو اپنی زندگی کا ایک جذباتی لمحہ قرار دیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ فائنل کی وہ آخری چند گیندیں ان کی زندگی کا مشکل ترین وقت تھا۔گزشتہ 18 برسوں کی جدوجہد کو یاد کرتے ہوئے کوہلی نے کہا”سچ کہوں تو وہ سب کچھ میرے لیے کسی خواب جیسا تھا۔ جب ہم فتح کے قریب تھے تو گزشتہ 18 سالوں کا پورا سفر، تمام اتار چڑھاؤ، اچھے اور برے لمحے میری آنکھوں کے سامنے گردش کر رہے تھے۔ وہ ایک شاندار رات تھی جس کا احساس لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔”تجربہ کار بلے باز نے اس بات پر زور دیا کہ یہ جیت ان لوگوں کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے جو پہلے دن سے اس فرنچائز کا حصہ رہے ہیں۔ انہوں نے سپورٹ اسٹاف کے رکن رمیش مانے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور مانے گروپ کے سب سے پرانے ارکان میں سے ہیں، اس لیے اس کامیابی کی خوشی ان کے لیے بہت گہری تھی۔کوہلی نے اعتراف کیا کہ ماضی میں فائنل تک پہنچ کر شکست کھانے کے زخموں نے ٹیم کو ذہنی طور پر مضبوط بنایا۔ انہوں نے کہا فائنل میں پہنچنے پر ٹیم میں ایک خاموش اعتماد تھا، لیکن ہم جانتے تھے کہ مقابلہ سخت ہوگا۔کوہلی نے بتایا کہ آخری اوور میں جب جیت یقینی تھی، تب بھی دل میں یہ دھڑکا لگا تھا کہ کہیں کوئی ‘نو بال’ نہ ہو جائے۔ وہ چند لمحے صبر و استقامت کا کڑا امتحان تھے۔ویراٹ کوہلی کے مطابق، ماضی کی ناکامیوں نے ہی انہیں آخری لمحات میں اپنا توازن برقرار رکھنے اور فتح حاصل کرنے کے لیے اضافی تحریک فراہم کی۔ یہ جیت صرف ایک ٹرافی نہیں بلکہ برسوں کی انتھک محنت اور صبر کا ثمر ہے۔












