نئی دہلی، (یو این آئی) لوک سبھا میں اپوزیشن نے پیر کو کہا کہ حکومت صرف ترقی یافتہ ہندوستان کی بات کرتی ہے اور اس کے لیے اس کے پاس کوئی ٹھوس پالیسی نظر نہیں آتی۔لوک سبھا میں فینانس بل 2026پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کانگریس کے ڈاکٹر امر سنگھ نے کہا کہ ملک میں فی کس آمدنی تقریباً 3000 ڈالر ہے جب کہ وکست بھارت کے لیے یہ آمدنی 14000 ڈالر فی شخص ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت جو دعویٰ کرتی ہے اور جو اصل صورتحال ہے اس میں بہت فرق ہے اور حکومت اس خلا کو پر کرنے کے لیے کوئی ٹھوس قدم اٹھاتی نظر نہیں آ رہی ہے۔مالیاتی نظم و ضبط کی ضرورت کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "مالی نظم و ضبط کسی بھی ادارے، حکومت یا فرد کے لیے ضروری ہے، لیکن ہمارے یہاں اس کی نمایاں کمی ہے، جس کی وجہ سے کمائی سے سے زیادہ خرچ ہورہا ہے، جو بہت خطرناک ہے۔”انہوں نے آمدنی سے زیادہ خرچ کرنے کے رجحان کو بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاشی عدم توازن کی جڑ ہے۔ انہوں نے منصوبہ بند سرمایہ کاری پر زور دیا اور کہا کہ درست سمت میں سرمائی کاری ضروری ہے تاکہ مستقبل محفوظ ہوسکے۔انہوں نے کہا کہ کسانوں کی خوشحالی زراعت کو جدید بنانے، انہیں مناسب اے ایس پی فراہم کرنے اور ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے ان کی آمدنی بڑھانا ہے۔سماج وادی پارٹی کے رماشنکر راج بھر نے کہا کہ ایوان میں کسی مسئلے کا احساس نہیں ہوتا، لیکن جب گاؤوں میں جایئے، تو مسائل ہی مسائل نظر آتے ہیں۔ دیہاتوں میں گرمی کے موسم میں آگ لگنے سے گھر جل جاتے ہیں، بارش میں گھر گر جاتے ہیں اور غریب لوگ سردیوں میں سردی سے مرتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب جی ڈی پی بڑھ رہی ہے تو بے روزگاری کم کیوں نہیں ہو رہی؟ انہوں نے کہا کہ سرکاری دفاتر میں آؤٹ سورسنگ پر نوکریاں دی جارہی ہیں جس کی وجہ سے درج فہرست ذاتوں، درج فہرست قبائل، دیگر پسماندہ طبقات اور معاشی طور پر کمزور نوجوانوں کو ملازمتوں میں دیے جانے والے ریزرویشن کی دھجیاں اڑ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری محکموں میں لاکھوں اسامیاں خالی ہیں، یہاں تک کہ ریزرو اسامیاں بھی پر نہیں کی جا رہی ہیں۔ مسٹر راج بھر نے کہا کہ بہار، جھارکھنڈ اور پوروانچل سے ہجرت کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوکنگ گیس کی فراہمی میں دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان امتیاز برتا جاتا ہے۔ کسانوں کے لیے کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) کی ضمانت نہیں دی گئی ہے۔ ترنمول کانگریس کے سوگت رائے نے کہا کہ تعلیم اور صحت پر خرچ کم کیا جا رہا ہے، بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور روپے کی قدر ڈالر کے مقابلے میں گر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں متوسط طبقے کو کوئی راحت نہیں دی گئی ہے، جب کہ حکومت کو سب سے زیادہ ٹیکس یہی طبقہ دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت مغربی بنگال کے ساتھ مسلسل امتیازی سلوک کر رہی ہے۔ بنگال کی مرکز پر بقایا رقم نہیں دی جارہی ہے۔ اگر جلد ہی توجہ نہ دی گئی تو معاشرے کے کمزور طبقات ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ نے ہمیں مایوس کیا ہے۔ ڈی ایم کے کے ارون نہرو نے کہا کہ ڈیٹا سینٹر ماڈل میں عدم توازن کو فوری طور پر دور نہیں کیا گیا تو ہمارے ملک کے اعدادوشمار متاثر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ تمل ناڈو میں غریب طبقے اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے متعدد عوامی فلاحی اسکیمیں نافذ کی جارہی ہیں۔ ان اسکیموں سے ہمیں سیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ روپے کی قدر مسلسل گر رہی ہے اور اس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جنتا دل یونائیٹڈ کے سنیل کمار نے کہا کہ حکومت نے عام بجٹ میں ملک کی فلاح و بہبود کے لیے بہت سے قابل ستائش قدم اٹھائے ہیں جو کہ ملک کی اقتصادی اصلاحات کی طرف قابل ذکر ہیں۔ یہ عام بجٹ ہمہ جہت ہے، کسانوں کی فلاح و بہبود کے ساتھ بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرتا ہے۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے انل یشونت دیسائی نے کہا کہ اس بجٹ سے متوسط طبقے کو کوئی فائدہ نہیں مل رہا ہے۔












