نئی دہلی، (یو این آئی) وزیر اعظم نریندر مودی نے مغربی ایشیا کے بحران کے اثرات کے طویل عرصے تک جاری رہنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے منگل کے روز کہا کہ ملک کو ہر طرح کی صورتحال کے لئے تیار رہنا چاہئے اور حکومت پوری سنجیدگی کے ساتھ حکمت عملی بنا رہی ہے۔ مسٹر مودی نے راجیہ سبھا میں دوپہر کے وقفے کے بعد مغربی ایشیا کی صورتحال پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ اس جنگ نے پوری دنیا میں توانائی کا سنگین بحران پیدا کر دیا ہے، جو ہندوستان کے لئے بھی باعث تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی راستے متاثر ہو رہے ہیں اور پٹرول، ڈیزل، گیس اور کھاد جیسی ضروری اشیاء کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے خلیجی ممالک میں مقیم تقریباً ایک کروڑ ہندوستانیوں کے حوالے سے بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ اب تک 3 لاکھ 75 ہزار افراد کو وہاں سے نکالا جا چکا ہے، جن میں ایران سے نکالے گئے ایک ہزار سے زائد ہندوستانی بھی شامل ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس جنگ کے حالات لمحہ بہ لمحہ بدل رہے ہیں، اس لئے ملک کے عوام کو ہر چیلنج کے لئے تیار رہنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگکے منفی اثرات طویل عرصے تک برقرار رہنے کا قوی امکان ہے۔ انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ حکومت چوکس ہے، مستعد ہے اور پوری سنجیدگی کے ساتھ ہر ممکن فیصلہ کررہی ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے ایوان بالا سے امن کے لئے متحد آواز کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان تمام ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور حکومت کا مقصد بات چیت اور سفارتی کوششوں کے ذریعے خطے میں امن بحال کرنا ہے۔












