نئی دہلی، (یواین آئی) سینئر کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے منگل کے روز بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستان ایک طرف امریکہ اور اسرائیل اور دوسری طرف ایران کے درمیان ایک اہم ثالث کے طور پر ابھرا ہے، جو ہندوستان کے لیے ایک سنگین دھچکا ہے۔مسٹر رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا”بڑے بین الاقوامی میڈیا اداروں کی کئی رپورٹس نے پاکستان کو امریکہ اور اسرائیل اور دوسری طرف ایران کے درمیان استعمال ہونے والے ثالثوں میں سے ایک کے طور پر شناخت کیا ہے۔ اگر یہ رپورٹس سچ ہیں، تو یہ ہندوستان کے لیے ایک سنگین دھچکا اور توہین کی علامت ہیں-اور یہ سب خود ساختہ وشو گرو کی وجہ سے ہوا ہے۔”جے رام رمیش نے مزید کہا کہ آپریشن سندور میں ہندوستان کی "بلا شبہ فوجی کامیابیوں” کے باوجود، پاکستان نے گزشتہ ایک سال میں سفارتی محاذ پر نئی دہلی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہا، افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اس کے بعد پاکستان کی سفارتی وابستگی اور بیانیہ کا انتظام مودی حکومت کے مقابلے میں کافی بہتر رہا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد، جو کبھی سنگین سیاسی، معاشی اور عالمی چیلنجوں کا سامنا کر رہا تھا، اب دوبارہ اہم ہو گیا ہے۔کانگریس لیڈر نے پاکستانی قیادت اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان پروان چڑھتے ہوئے تعلقات کی طرف بھی اشارہ کیا اور الزام لگایا کہ اس نے اسلام آباد کی عالمی حیثیت کو مضبوط کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسٹر ٹرمپ نے پاکستان کی فوجی قیادت کو "گرمجوشی سے اور بار بار گلے لگایا” تھا اور کئی مواقع پر عاصم منیر کی وائٹ ہاؤس میں میزبانی کی، جس میں انہوں نے ایک "غیر معمولی ظہرانے” کا بھی ذکر کیا۔ رمیش نے کہا کہ "پاکستان نے صدر ٹرمپ کے قریبی حلقوں کے ساتھ گہرے تعلقات استوار کر لیے ہیں۔”وزیراعظم نریندر مودی کو نشانہ بناتے ہوئے مسٹر رمیش نے ان کی حالیہ سفارتی کوششوں پر تنقید کی، خاص طور پر ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مبینہ فضائی حملوں سے ٹھیک پہلے کیے گئے اسرائیل کے دورے پر طنز کیا۔ انہوں نے کہا، "مسٹر مودی کا اسرائیل کا غیر ضروری دورہ، جو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے بلا اشتعال فضائی حملے شروع ہونے سے محض دو دن پہلے ختم ہوا، ہماری سیاسی تاریخ میں ایک انتہائی تباہ کن فیصلے کے طور پر درج کیا جائے گا۔” انہوں نے دلیل دی کہ اس دورے نے خطے میں ایک غیر جانبدار ثالث کے طور پر کام کرنے کی ہندوستان کی صلاحیت کو کمزور کر دیا ہے۔حکومت کی خارجہ پالیسی پر اپنی تنقید کو تیز کرتے ہوئے انہوں نے کہ”وزیراعظم کی ‘گلے ملنے والی سفارت کاری کی قلعی کھل گئی ہے۔ ملک کو اس کی قیمت چکانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔”یہ تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ہندوستان نے روایتی طور پر اسرائیل، ایران اور اہم عرب ممالک سمیت پورے مغربی ایشیا میں متوازن تعلقات برقرار رکھے تھے اور اکثر علاقائی تنازعات میں خود کو ایک ممکنہ پل (برج) کے طور پر پیش کیا ہے۔دوسری اور اپوزیشن نے لوک سبھا میں کہا کہ خلیجی جنگ کے اثرات کے باعث ملک میں ایندھن، غذائی اجناس اور ادویات کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے پیش نظر حکومت کو اپنی حکمت عملی واضح کرنی چاہئے۔












