صادق شروانی
نئی دہلی،سماج نیوز سروس: آپسی بھائے چارے کو فروغ دینے کے لیے سرگرم ’سروسماج راشٹریہ مہاسنگھ‘کی جانب سے دریا گنج میں واقع شبنم وِلاانصاری روڈ پر عید ملن تقریب اور نوراترے دھوم دھام سے منایا گیا۔ اس دوران جہاں ایک طرف بہار کے سابق گورنر عارف محمد خان کی شرکت رہی تو وہیں دہلی پولیس کے ایڈیشنل کمشنر راجندر ساگر نے بھی اپنی موجودگی درج کرائی۔ پروگرام کنوینر ’سروسماج راشٹریہ مہاسنگھ‘کے صدر طاہر صدیقی نے کہا کہ آج ہمارے ملک میں بھائی چارہ اور گنگا جمنی تہذیب کو فروغ دینے کی اتنی ہی ضرورت ہے جتنی خود کو ترقی کرنے کے لیے محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ ہمارے ملک کی ہزاروں سال پرانی گنگا جمنی تہذیب جس میں ہندو مسلمان دونوں ایک دوسرے کے تہواروں میں شرکت کرکے خوشیاں تقسیم کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگ نفرت کو پھیلاکر ذاتی فائدہ اٹھانے کے لیے سماج کو نقصان پہنچا رہے ہیں مگر دونوں ہی طرف کے سنجیدہ اور سمجھدار، تعلیم یافتہ طبقہ آج بھی آپسی بھائی چارہ اور میل میلاپ کا کام کر رہا ہے۔تمام ہندوستان کے بڑے بڑے تاجروں کی تنظیم کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرس (سی اے آئی ٹی) کے نائب صدر طاہر صدیقی نے کہا کہ جس طرح سے ہم اپنی تجارت میں ہندو مسلم کے اینگل کو برداشت نہیں کرتے ہیں بلکہ ہمارا تمام زور اپنے بزنس کو بڑھانے پر رہتا ہے۔ اسی طرح سے سماج کو بہتر بنانے کے لیے ہمیں اتنا ہی زور لگا کر کام کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ قومی سطح پر کئے جا رہے اس کام کے لیے تمام طبقات کے لوگ ہمارا ساتھ دیتے ہیں اور اس کے لیے ہم اس کے شکرگذار ہیں۔ انصاری روڈ آر ڈبلیو اے کے چیئرمین طاہر صدیقی نے پروگرام کو کامیاب بنانے والوں اور اس میں شرکت کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ آئندہ بھی لوگ اسی طرح سے ہماری مہم میں شامل ہوتے رہیں گے اور سماج کو مزید ترقی کی طرف لے جانے کے لیے ان کا تعاون ملتا رہے گا۔ اس موقع پر بہار کے سابق گورنر عارف محمد خان ، آل انڈیا جمعیت کے قومی صدر سراج الدین قریشی، سابق ممبر پارلیمنٹ اور کانگریس کے سینئرلیڈر جے پرکاش اگروال ،دہلی پولیس کے ایڈیشنل کمشنر راجندر ساگر، سابق ریاستی وزیر اور ممبر اسمبلی عمران حسین، ممبر اسمبلی تروندر سنگھ ماروا، سیاسی و سماجی کارکن حافظ جاوید، مقامی کونسلر ساریکا چودھری، مسلم مجلس مشاورت کے صدر ایڈوکیٹ فیروز انصاری اور فیض گروپ کے ڈاکٹر مشتاق انصاری سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔












