نئی دہلی ،سماج نیوز سروس:عام آدمی پارٹی کے اراکینِ اسمبلی نے معطلی واپس نہ ہونے پر بجٹ اجلاس کے تیسرے دن بھی اسمبلی کے باہر زبردست احتجاج کیا اور بی جے پی حکومت کی نااہلی کو بے نقاب کیا۔ منگل کو جہاں پالم آتشزدگی کا مسئلہ اٹھا کر ریکھا گپتا حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا گیا، وہیں بدھ کے دن گیس سلنڈر کی قلت کو لے کر مرکزی حکومت کی ناکام خارجہ پالیسی پر سخت حملہ کیا گیا۔ دہلی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف آتشی کی قیادت میں تمام اراکینِ اسمبلی نے گیس سلنڈر کے پمفلٹ لے کر پیدل مارچ کیا اور نریندر مودی ہوئے سرینڈر، غائب ہوا گیس سلنڈر کے زبردست نعرے لگائے۔اس موقع پر آتشی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ٹرمپ کے سامنے سرینڈر کر دیا ہے اور اس کا خمیازہ پورا ملک بھگت رہا ہے۔دہلی سمیت پورے ملک میں گیس سلنڈر کے لیے لمبی لمبی قطاریں لگ رہی ہیں۔آتشی نے کہا کہ نریندر مودی 56 انچ کے سینے کی بات کرتے ہیں، لیکن انہوں نے امریکہ اور ٹرمپ کے سامنے سرینڈر کر دیا ہے۔ آج ان کی آواز بند ہو گئی ہے اور اس کا نقصان دہلی سمیت پورے ملک کے عوام اٹھا رہے ہیں۔ آج ملک بھر میں ایک گیس سلنڈر کے لیے لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں اور لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ 56 انچ کا سینہ کہاں گیا اور عوام کیوں پریشان ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسی دہلی اسمبلی میں بی جے پی نے وعدہ کیا تھا کہ ہولی اور دیوالی پر مفت سلنڈر دیے جائیں گے۔ اب ان کے مفت سلنڈر دینے کا طریقہ سمجھ میں آ گیا ہے کہ سلنڈر ہی غائب کر دو تاکہ سب کچھ مفت ہو جائے۔ جب سلنڈر ہی دستیاب نہیں ہوگا تو خرچ کس بات کا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو حکومت چلانی نہیں آتی اور مرکزی حکومت میں وزیرِ اعظم مودی مکمل طور پر ناکام ثابت ہوئے ہیں۔آتشی نے مزید کہا کہ آج دہلی کے لوگ بی جے پی سے تنگ آ چکے ہیں۔ ایک عام آدمی کو بجلی چاہیے لیکن بجلی کٹ رہی ہے، پانی چاہیے لیکن گندا پانی آ رہا ہے، سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، پولیس تحفظ دینے میں ناکام ہے اور اسپتالوں میں دوائیں دستیاب نہیں ہیں۔ کھانا پکانے کے لیے گیس سلنڈر چاہیے جس کے لیے دنوں لائن میں کھڑا ہونا پڑ رہا ہے۔ بی جے پی کی حکومت مکمل طور پر ناکام ہے اور اسی ناکامی کو چھپانے کے لیے وہ ہمارے اراکینِ اسمبلی کو ایوان میں داخل نہیں ہونے دینا چاہتی۔ آتشی نے کہا کہ منگل کو پیش کیے گئے بجٹ میں بھی گیس سلنڈر کا ذکر کیا گیا اور کہا گیا کہ دیوالی اور ہولی پر سلنڈر مفت دیے جائیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب سب کچھ مفت ہو گیا ہے کیونکہ سلنڈر ہی دستیاب نہیں ہے۔ لوگ مجبوری میں انڈکشن چولہے اور لکڑی کا استعمال کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بجٹ میں خواتین کو 2500 روپے دینے کا وعدہ بھی کیا گیا، لیکن یہ وعدہ بھی پورا نہیں ہوا۔ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے 8 مارچ 2025 تک خواتین کے کھاتوں میں رقم بھیجنے کا وعدہ کیا تھا، لیکن 8 مارچ 2026 بھی گزر گیا اور کسی خاتون کو یہ رقم نہیں ملی۔












