نئی دہلی، (یو این آئی) مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی گمراہ کن خبروں کے درمیان مرکز اور سرکاری تیل کمپنیوں نے واضح کیا ہے کہ ہندوستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی کوئی کمی نہیں ہے۔گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی متاثر ہونے کی افواہیں تیزی سے پھیلیں، جس سے ملک کے کچھ حصوں میں عوامی تشویش میں اضافہ ہوا اور بعض پیٹرول پمپوں پر بھیڑ دیکھی گئی۔ تاہم، حکام نے ان خدشات کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جیو پولیٹیکل تناؤ کے باوجود ہندوستان کی فیول سکیورٹی مضبوط ہے۔بھارت پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (بی پی سی ایل) نے ایک مفصل مشورے میں شہریوں کو یقین دلایا ہے کہ ملک میں ایندھن کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور تمام سپلائی چینز معمول کے مطابق کام کر رہی ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قلت کی افواہیں سراسر غلط ہیں اور گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔بی پی سی ایل نے بیان میں کہا، "پیٹرول اور ڈیزل کی کمی سے متعلق پھیلائی جانے والی خبریں بالکل بے بنیاد ہیں۔ ہندوستان میں ایندھن کا کافی اسٹاک ہے اور سپلائی کا نظام معمول پر ہے۔ بی پی سی ایل مکمل طور پر فعال ہے اور بلا تعطل ایندھن کی فراہمی کے لیے پرعزم ہے۔ براہِ کرم افواہوں پر دھیان نہ دیں اور صرف سرکاری ذرائع پر بھروسہ کریں۔”کمپنی نے یہ بھی واضح کیا کہ ہندوستان ان ایندھنوں کا خالص برآمد کنندہ ہے۔ خام تیل، پیٹرول، ڈیزل اور ہوا بازی کے ایندھن کے وافر ذخائر دستیاب ہیں اور سپلائی چین میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ہے۔ کمپنی کے مطابق تمام ریفائنریز، ڈپو اور پیٹرول پمپ پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہے ہیں، لہٰذا شہری گھبراہٹ میں آکر ایندھن کی غیر ضروری خریداری سے گریز کریں۔دریں اثنا، وزارتِ پیٹرولیم اور قدرتی گیس نے بھی تصدیق کی ہے کہ ملک کی تمام ریفائنریز اعلیٰ صلاحیت پر چل رہی ہیں اور پیٹرول و ڈیزل کا مناسب اسٹاک برقرار رکھا گیا ہے۔وزارت کی جوائنٹ سکریٹری سجاتا شرما نے بتایا کہ ملک بھر میں ایندھن کے تمام ریٹیل آؤٹ لیٹس معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، "کچھ علاقوں میں افواہوں کی وجہ سے پینک بائینگ (گھبراہٹ میں خریداری) دیکھی گئی، جس سے پیٹرول پمپوں پر غیر معمولی بھیڑ ہوئی۔ حکومت عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ افواہوں پر یقین نہ کریں؛ ملک بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔”دوسری جانب کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ نے رسوئی گیس (ایل پی جی) کی قلت کے حوالے سے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔احتجاج میں کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کے ساتھ مختلف اپوزیشن جماعتوں کے قائدین شریک تھے اور وہ مسلسل حکومت کے خلاف مظاہرہ کرتے رہے۔ ان کا الزام تھا کہ ملک بھر میں عوام کو رسوئی گیس کی شدید کمی کا سامنا ہے اور حکومت اس حوالے سے ٹھوس اقدامات کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مظاہرین ارکان پارلیمنٹ نے ہاتھوں میں پوسٹرز اور ایل پی جی سلنڈر کی تصاویر لے کر پارلیمنٹ ہاؤس کے مکر دوار کے سامنے احتجاج کیا۔ واضح رہے کہ لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے گزشتہ دنوں ارکان پارلیمنٹ سے پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ کے احاطے میں احتجاج نہ کرنے کی درخواست بھی کی تھی۔مظاہرین حکومت سے مطالبہ کر رہے تھے کہ ایل پی جی بحران پر پارلیمنٹ میں بحث کرائی جائے اور اس مسئلے کے جلد حل کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھائے جائیں۔












