رائے پور،(یو این آئی) ہندوستان کی اسٹار ویٹ لفٹر میرا بائی چانو نے کہا ہے کہ ایشیائی کھیل میرے لیے ذاتی طور پر بہت اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ وہاں میرا کچھ کام ابھی ادھورا ہے۔کھیلو انڈیا ٹرائبل گیمز کی افتتاحی تقریب کے بعد بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں میرا بائی نے کہا، "ایشیائی کھیل میرے لیے بہت اہم ہیں کیونکہ وہاں میرا کچھ ادھورا کام باقی ہے۔ ان کھیلوں میں مقابلے کا معیار بہت بلند ہوتا ہے، جو اسے مزید چیلنجنگ اور دلچسپ بنا دیتا ہے۔”میرا بائی کے سامنے ایک بڑا چیلنج اپنے وزن کے زمرے کو ایڈجسٹ کرنا رہا ہے۔ انہوں نے زیادہ تر 49 کلوگرام کے زمرے میں حصہ لیا ہے، لیکن اب ‘انٹرنیشنل ویٹ لفٹنگ فیڈریشن کی جانب سے کی گئی تبدیلیوں کے باعث انہیں مختلف کیٹیگریز کے درمیان سوئچ کرنا پڑے گا۔ میرا بائی 23 جولائی سے 2 اگست تک گلاسگو میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز 2026 میں 48 کلوگرام کے زمرے میں حصہ لیں گی، اور اس کے بعد 19 ستمبر سے 4 اکتوبر تک جاپان کے ناگویا میں ہونے والے ایشیائی کھیلوں کے لیے دوبارہ 49 کلوگرام کے وزن کے زمرے میں واپس آ جائیں گی۔انہوں نے بتایا، "میں کامن ویلتھ گیمز تک اپنا وزن 48 کلوگرام کے اندر ہی رکھوں گی، لیکن اس کے دو ماہ بعد ہی ایشیائی کھیل ہونے ہیں جو 49 کلوگرام کے زمرے میں ہیں، اس لیے مجھے دوبارہ اسی کیٹیگری میں جانا پڑے گا۔” میرا بائی نے فروری میں نیشنل ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ سے اپنے 2026 کے سیزن کا آغاز کیا اور خواتین کے 48 کلوگرام کے زمرے میں تین نئے قومی ریکارڈ بنائے۔ اس چیمپئن شپ میں انہوں نے اسنیچ میں 89 کلوگرام وزن اٹھایا، جو ان کی بہترین کارکردگی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے کلین اینڈ جرک میں 116 کلوگرام کا کامیاب لفٹ کیا، جس سے ان کا مجموعی وزن 205 کلوگرام ہو گیا اور انہوں نے طلائی تمغہ جیت لیا۔میرا بائی نے ‘کھیلو انڈیا ٹرائبل گیمز کے آغاز کی تعریف کرتے ہوئے اسے دور دراز علاقوں کے کھلاڑیوں کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔ انہوں نے کہا، "یہ کھیل ان تمام کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع دیں گے جو پسماندہ علاقوں سے آتے ہیں۔ میں نے خاص طور پر نارتھ ایسٹ اور دیگر قبائلی علاقوں میں دیکھا ہے کہ وہاں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے، بس کے آئی ٹی جی جیسے پلیٹ فارم کی ضرورت تھی۔ این سی او ای اور کھیلو انڈیا کے مراکز کھلاڑیوں کو بہترین کوچنگ اور ٹریننگ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔”












