دیوبند،سماج نیوز سروس: دارالعلوم دیوبند میں داخلے کے لیے آنے والے کئی طلبہ کو دھمکی دیے جانے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے، جس کے بعد ادارہ کی انتظامیہ اور مقامی پولیس حرکت میں آ گئی ہے اور معاملے کی سنجیدگی سے جانچ شروع کر دی گئی ہے۔ وائرل ویڈیو دہلی کے ریلوے اسٹیشن کا بتایا جا رہا ہے۔ بعد میں اس سلسلے میں ایک طالب علم کی جانب سے ویڈیو جاری کر کے اس پورے واقعے کی جانکاری دی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک منٹ 18 سیکنڈ کی ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ ویڈیو دہلی ریلوے اسٹیشن کی ہے۔ ویڈیو میں چند طلبہ ایک مقام پر کھڑے نظر آتے ہیں، اسی دوران ایک شخص، جو سادھو کے بھیس میں دکھائی دیتا ہے، وہاں پہنچ کر بار بار دھمکی آمیز جملے دہراتا ہوا سنائی دیتا ہے۔ویڈیو میں مذکورہ شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ’’گائے کی ہتیا مت کرو، اگر گائے کی ہتیا کرو گے تو میں تمہاری ہتیا کر دوں گا‘‘۔ اس دوران طلبہ خاموشی اختیار کیے ہوئے نظر آتے ہیں اور کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں کرتے۔ بعد میں جاری کی گئی ایک ویڈیو میں ایک نوجوان، جو خود کو دارالعلوم دیوبند میں داخلہ کے لیے آنے والا طالبعلم بتا رہا ہے، دارالعلوم کی نئی لائبریری کے سامنے کھڑے ہو کر بیان دیتا نظر آتا ہے۔ اس کے مطابق وہ حیدرآباد سے دہلی کے راستے دیوبند پہنچا، ہم دہلی اسٹیشن پر کھڑے تھے اس دوران ایک شرپسند نے اسے مبینہ طور پر اشتعال دلانے کی کوشش کی تاکہ وہ کوئی ردعمل ظاہر کرے اور ماحول خراب کیا جائے۔ مذکورہ بھگوا لباس میں ملبوس شخص کی جانب سے اشتعال انگیز جملے کہے گئے۔ طالبعلم نے اپنے ویڈیو بیان میں دیگر طلبہ سے اپیل کی ہے کہ وہ دارالعلوم میں داخلے یا امتحانات کے لیے سفر کے دوران محتاط رہیں، کسی کے بہکاوے میں نہ آئیں اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔ اس نے یہ بھی کہا کہ راستے میں بعض عناصر دانستہ طور پر اشتعال دلانے کی کوشش کر سکتے ہیں، جنہیں نظر انداز کرنا ہی بہتر ہے۔ اس واقعہ کے منظر عام پر آنے کے بعد دارالعلوم دیوبند کی انتظامیہ نے فوری نوٹس لیتے ہوئے طالبعلم کی شناخت اور اس کے داخلے سے متعلق تفصیلات معلوم کرنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ایک ذمہ دار کے مطابق ویڈیو ان کے علم میں آچکی ہے اور یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ متعلقہ طالبعلم کون ہے اور کس درجے میں داخلہ لینے آیا تھا۔ ادھر پولیس اور انٹیلیجنس ایجنسیاں بھی معاملے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ سی او دیوبند ابھیتیش سنگھ کا کہنا ہے کہ فی الحال اس ویڈیو میں کیے گئے دعوؤں کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے اور دیوبند علاقے میں اس نوعیت کا کوئی واقعہ باضابطہ طور پر رپورٹ نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکمل معلومات سامنے آنے کے بعد ہی کوئی حتمی موقف اختیار کیا جائے گا۔












