نئی دہلی،سماج نیوز سروس: دہلی میں ایل پی جی بحران پر ایم سی ڈی ایوان میں بحث سے گریز کرنے پر عام آدمی پارٹی نے بی جے پی حکومت کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ جمعہ کو منعقدہ اجلاس میں آپ کے کونسلروں نے ایل پی جی بحران پر بحث کا مطالبہ کیا، مگر بی جے پی کے زیر اقتدار ایم سی ڈی نے اسے مسترد کر دیا۔ اس کے بعد آپ کے کونسلروں نے گیس سلنڈر کے پوسٹر اٹھا کر بی جے پی حکومت کے خلاف زوردار نعرے بازی کی۔ایم سی ڈی میں قائد حزب اختلاف انکُش نارنگ نے بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میئر راجہ اقبال سنگھ نے اس سنگین مسئلے پر بحث تک نہیں ہونے دی اور جلدبازی میں ایجنڈا پاس کر کے اجلاس ملتوی کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف گیس سلنڈر کی کمی کا مسئلہ نہیں بلکہ عوام کی روزمرہ زندگی سے جڑا ایک بڑا بحران ہے۔ گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ رہے ہیں اور بی جے پی حکومت ذمہ داری سے بھاگ رہی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی نے عوام کی زندگی مشکل بنا دی ہے اور اب عوام جواب مانگ رہی ہے۔دوسری جانب ایم سی ڈی کے سہ انچارج پروین کمار نے کہا کہ پورے ملک میں ایل پی جی کی جس طرح قلت ہو رہی ہے، اس کے لیے مرکزی بی جے پی حکومت کے پاس کوئی تیاری نہیں ہے۔ دہلی اور ملک بھر کے لوگ سلنڈر کے لیے پریشان ہیں۔ پہلے گیس سلنڈر کے لیے 25 دن کا وقفہ رکھا گیا تھا جسے اب بڑھا کر 35 دن کر دیا گیا ہے، لیکن عوام کب تک یہ سب برداشت کرے گی؟ پروین کمار نے کہا کہ اگر حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ کوئی قلت نہیں ہے تو جہانگیر پوری اور سنت کبیر داس نگر میں لمبی قطاریں کیوں لگی ہوئی ہیں؟لوگوں کو لائن میں کھڑے ہونے کا کوئی شوق نہیں، بلکہ انہیں سلنڈر دستیاب نہیں ہو رہے ہیں۔ اگر واقعی اسٹاک موجود ہے تو پھر عوام کو لائن میں کیوں کھڑا ہونا پڑ رہا ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی کی سیاست شرمناک ہے۔ملک کی عوام سمجھ رہی ہے کہ اس وقت ایل پی جی کی کتنی شدید قلت ہے۔ کئی مقامات پر رام نومی کے بھنڈارے نہیں ہو سکے اور شادیوں میں بھی سلنڈر دستیاب نہیں ہیں۔ بی جے پی ملک کو وشو گرو بنانے نکلی تھی، مگر اس نے ملک کی حالت خراب کر دی ہے۔ایم سی ڈی کے حوالے سے پروین کمار نے کہا کہ پورے ملک میں سب سے زیادہ مقروض ایم سی ڈی دہلی ہے، جہاں بی جے پی گزشتہ 20 سال سے حکومت کر رہی ہے۔ انہوں نے 17 ہزار کروڑ کا بجٹ پیش کیا، جبکہ 16 ہزار کروڑ کا قرض ہے۔ بی جے پی کے پاس نہ ایل پی جی بحران سے نمٹنے کی کوئی حکمت عملی ہے اور نہ ہی ایم سی ڈی چلانے کا کوئی منصوبہ بندی ۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت میں عوام کو کبھی نوٹ بندی، کبھی ویکسینیشن اور اب ایل پی جی کی لائنوں میں کھڑا کیا جا رہا ہے۔ کیا عوام صرف لائن میں کھڑے ہونے کے لیے ہے؟ عام آدمی پارٹی اس کی سخت مذمت کرتی ہے اور ہر بار ایسے مسائل کو اٹھاتی رہے گی۔ایم سی ڈی کی سہ انچارج پریتی ڈوگرا نے کہا کہ آج دہلی سمیت پورے ملک میں لوگ گلی گلی سلنڈر کے لیے لائنوں میں کھڑے ہیں۔ جہانگیر پوری میں اتنی بھیڑ تھی کہ ایجنسی کو سیکیورٹی تعینات کرنی پڑی۔ کئی لوگ گھنٹوں بلکہ رات بھر لائن میں کھڑے رہے، اس کے باوجود بی جے پی کہتی ہے کہ کوئی کمی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر واقعی کمی نہیں ہے تو کیا عوام کو بی جے پی کے لیڈروں کے گھروں بھیج دیا جائے تاکہ وہ سلنڈر فراہم کریں؟ حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کو سلنڈر نہیں مل رہا، اسی لیے سوشل میڈیا پر روزانہ لمبی قطاروں کی ویڈیوز سامنے آ رہی ہیں۔ خاص طور پر گھریلو خواتین شدید مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں، کیونکہ 35 دن بعد بھی سلنڈر دستیاب نہیں ہو رہا۔پریتی ڈوگرا نے کہا کہ عوام نے بی جے پی کو اس لیے ووٹ نہیں دیا تھا کہ وہ لائنوں میں کھڑی رہے۔ کبھی ایل پی جی، کبھی نوٹ بندی اور کبھی ویکسینیشن،ہر بار عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بی جے پی نے عوام کو تماشہ بنا دیا ہے، جبکہ اس کا خمیازہ صرف عام لوگوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔












