نئی دہلی، (یو این آئی) راجیہ سبھا میں جمعہ کے روز مالیاتی بل 2026، اور مالی تصرفات (نمبر 2) بل 2026 پر بیک وقت بحث کے دوران، حزب اختلاف نے حکومت پر بجٹ میں ضرورت مندوں کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا، جب کہ حزب اقتدار نے کہا کہ حکومت نے بجٹ میں عام لوگوں کا بھرپور خیال رکھا ہے۔ گجرات سے کانگریس کے شکتی سنگھ گوہل نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے مالیات بل میں ضرورت مندوں، کسانوں اور خواتین کو نظر انداز کیا ہے۔ مالی سال 2023-24 کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ جہاں انکم ٹیکس سے ریونیو میں 26 فیصد اضافہ ہوا تھا، وہیں مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی) کے تناسب سے کارپوریٹ ٹیکس میں کمی آئی تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ ٹیکس کا بوجھ عام لوگوں پر ڈالا جا رہا ہے اور صنعتوں کو ریلیف دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالیات بل میں گجرات کے گاندھی نگر میں گفٹ سٹی کو 2047 تک ٹیکس میں چھوٹ فراہم کیا گیا ہے، جہاں امیر لوگ رہتے ہیں، لیکن عام لوگوں، کسانوں اور خواتین کو کوئی ریلیف فراہم نہیں کیا گیا ہے۔ سی اے جی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر شکتی سنگھ گوہل نے الزام لگایا کہ حکومت اپنے بیان کردہ مقصد کے علاوہ دیگر مقاصد کے لیے سیس اور سرچارج کا استعمال کر رہی ہے۔ بی جے پی کے سنجے سیٹھ نے بحث میں حصہ لیتے ہوغے کہا کہ ہندوستان سب سے تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت بن گیا ہے۔ آج دنیا بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے جب کہ ہندوستان میں ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کرکے قیمتوں کو برقرار رکھا گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو عام آدمی کی فکر ہے۔ انہوں نے کہا کہ انکم ٹیکس دینے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے حکومت پر لوگوں کا اعتماد ظاہر ہوتا ہے۔ حکومت نے "ٹیکس دہشت ” ختم کر دی ہے اور کاروباری اداروں کو ٹیکس سے پاک کردیا ہے۔ ترنمول کانگریس کے ساکیت گوکھلے نے الزام لگایا کہ ایکسائز ڈیوٹی میں کمی چار ریاستوں میں انتخابات کی وجہ سے کی گئی ہے۔ اگر حکومت کو عام لوگوں کی فکر ہوتی تو وہ گزشتہ چار سالوں سے روس سے کم قیمت پر خام تیل خریدنے کے فائدے عوام کو پہنچا دیتی، جو کہ عوام کو اب تک نہيں ملا۔ انہوں نے وزیر خزانہ سے یقین دہانی کا مطالبہ کیا کہ انتخابات کے بعد بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے پارلیمنٹ کا اجلاس جاری ہونے کے باوجود وزیر اعظم کے بیان کے بعد پارلیمنٹ میں مغربی ایشیا کی صورتحال پر بحث نہ ہونے پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اتنی فکر مند ہوتی تو رسوئی گیس سلنڈر کی قیمت میں 60 روپے کا اضافہ نہیں کیا جاتا۔ تمل ناڈو سے ڈی ایم کے کے پی ولسن نے کہا کہ بجٹ میں اقتصادی عدم مساوات کو کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات شامل نہیں ہیں۔ ایک طرف امیروں کی دولت میں اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری طرف ہندوستان فاقہ کشی کی درجہ بندی میں مسلسل گر رہا ہے۔ خوراک کی سبسڈی، ایندھن کی سبسڈی اور کھاد کی سبسڈی کو کم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غریبوں کی فلاح و بہبود پر اخراجات کو کم کرکے اور عام لوگوں پر بوجھ ڈال کر مالیاتی خسارے کو کم کرنا غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی اوسط گھریلو خاتون مالیاتی خسارے کے اعداد و شمار کو نہیں دیکھتی بلکہ چاول کی قیمت کو دیکھتی ہے۔ مرکزی حکومت پر وسائل کی تقسیم میں تمل ناڈو کے ساتھ امتیازی سلوک کرنے کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہت سے فنڈ صرف کاغذوں پر موجود ہیں، لیکن ریاستی حکومت کو کوئی رقم نہیں ملی ہے۔ ریاست کو پچھلے پانچ سالوں میں کچھ نہیں دیا گیا، جس کا جواب عوام اسمبلی انتخابات میں دیں گے۔ عام آدمی پارٹی کے اشوک کمار متل نے کہا کہ مالیاتی بل اور مالی تصرفات بل بجٹ سیشن کے سب سے اہم بل ہیں، لیکن ان پر بحث کے لیے صرف 11 گھنٹے کا وقت دیا گیا ہے۔












