• Grievance
  • Home
  • Privacy Policy
  • Terms and Conditions
  • About Us
  • Contact Us
ہفتہ, مارچ 28, 2026
Hamara Samaj
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
  • Epaper
  • Terms and Conditions
  • Privacy Policy
  • Grievance
No Result
View All Result
Hamara Samaj
Epaper Hamara Samaj Daily
No Result
View All Result
  • Home
  • قومی خبریں
  • ریاستی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ ؍مضامین
  • ادبی سرگرمیاں
  • کھیل کھلاڑی
  • فلم
  • ویڈیوز
Home ریاستی خبریں

ایک ہولناک عالمی مذاق

کیا دنیا کبھی ایک منصفانہ عالمی نظام کی طرف بڑھ سکے گی

Hamara Samaj by Hamara Samaj
مارچ 28, 2026
0 0
A A
ایک ہولناک عالمی مذاق
Share on FacebookShare on Twitter

شعیب رضا فاطمی
جب سے ایران اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جنگ کا آغاز ہوا ہے ،کسی کے حق میں اور کسی کے خلاف لکنے اور بولنے کا سلسلہ بھی بلند سے بلند تر ہوتا چلا جارہا ہے ۔کبھی کوئی کہتا ہے ایران کی تباہی یقینی ہے تو کسی کو امریکہ اور اسرائیل تباہ و برباد ہوتے نظر آ رہے ہیں ۔حالانکہ بین الاقوامی سیاست کی بساط پر کچھ ایسے حقائق ہیں جنہیں سب جانتے ہیں مگر ماننے کو تیار نہیں ہوتے۔ ان میں سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ جنگ کو ہوا دینے والی طاقتیں ہی خود کو امن کا علمبردار بھی ظاہر کرتی ہیں۔ کسی جنگ باز ملک سے یہ توقع رکھنا کہ وہ خلوصِ نیت سے امن معاہدے کی کوشش کرے گا، ایسا ہی ہے جیسے کسی بھیڑیے سے امید کی جائے کہ وہ بکریوں کی حفاظت کرے گا۔آج کی دنیا میں امریکہ کو سپر پاور کہا جاتا ہے، مگر یہ حیثیت محض سائنسی ترقی یا جمہوری اقدار کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس کی بڑی وجہ اس کا عالمی اسلحہ منڈی پر قبضہ ہے۔ اسلحہ کی تجارت نہ صرف اس کی معیشت کو سہارا دیتی ہے بلکہ اس کے ذریعے وہ دنیا کے مختلف خطوں، خصوصاً مشرق وسطی میں اپنی اجارہ داری قائم رکھتا ہے۔ عرب ممالک کو ہتھیار فروخت کرنا، پھر انہی ہتھیاروں کے استعمال سے پیدا ہونے والے خطرات کے خلاف سیکیورٹی فراہم کرنا یہ ایک ایسا چکر ہے جس میں خریدار ہمیشہ محتاج اور بیچنے والا ہمیشہ حاکم رہتا ہے۔یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا کوئی عرب ملک واقعی اس پوزیشن میں ہے کہ وہ امریکہ کے کسی حکم سے انکار کر سکے؟ حقیقت یہ ہے کہ معاشی، عسکری اور سفارتی دباؤ کا ایسا جال بچھا دیا گیا ہے کہ خود مختاری محض ایک رسمی لفظ بن کر رہ گئی ہے۔ ابھی ہم نے دیکھا کہ ایران میں کتنے ایسے ایرانی گرفتار ہوئے جو حقیقت اسرائیل اور امریکہ کے جاسوس تھے ۔اب اگر عرب ممالک میں اسی طرح کی تفتیش ہو تو یقین ہے کہ ایران سے بڑی تعداد میں جاسوس ان ممالک میں موجود ملینگے ،ان شاہوں کے محلوں کو بھی ان جاسوسوں نے خالی نہیں چھوڑا ہے ۔امکان اس کا بھی ہے زیادہ تر شاہوں اور شیخوں کے بیڈ روم تک ان کی موجودگی ہو ۔اسی تناظر میں ایران کی حیثیت ایک مختلف مثال کے طور پر سامنے آتی ہے، جو مسلسل امریکی یا صہیونی دباؤ کے آگے جھکنے سے انکار کرتا آیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے عالمی سیاست میں ایک “مسئلہ” بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ دنیا کے بیشتر ممالک اس صورتحال سے بخوبی آگاہ ہیں، مگر مفادات کی زنجیروں میں جکڑے ہونے کے باعث کوئی بھی کھل کر مخالفت کرنے کی ہمت نہیں کرتا۔ عالمی نظام میں اخلاقیات کی جگہ مفاد نے لے لی ہے، اور انصاف کا پیمانہ طاقت کے ترازو میں تولا جاتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کو محض دو آزاد ریاستوں کا رشتہ سمجھنا بھی سادہ لوحی ہوگی۔ یہ تعلقات سیاسی، عسکری اور معاشی مفادات کی ایک ایسی گتھی ہیں جو عالمی پالیسیوں پر گہرا اثر ڈالتی ہیں۔ اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم، جنہیں بعض حلقے “گریٹر اسرائیل” کے تصور سے تعبیر کرتے ہیں، بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اس کے باوجود عالمی سطح پر اس پر سنجیدہ سوالات اٹھانے سے گریز کیا جاتا ہے۔دوسری جانب چین اور روس جیسے ممالک کو اکثر امریکہ کے مقابل ایک متبادل طاقت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر وہ واقعی مشرق وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ کو چیلنج کرنا چاہتے ہیں تو ان کی عملی حکمت عملی کہاں ہے؟ بیانات اور سفارتی حمایت اپنی جگہ، مگر فیصلہ کن کردار ادا کرنے سے گریز ایک بڑی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہےاور وہ یہ کہ عالمی طاقتیں اپنے مفادات سے آگے نہیں دیکھتیں۔ان تمام حالات کے بیچ ایران ایک ایسی ریاست کے طور پر کھڑا ہے جو بیک وقت کئی محاذوں پر دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ اقتصادی پابندیاں، سفارتی تنہائی اور عسکری خطرات ،یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول بناتے ہیں جہاں بقا کی جنگ مسلسل جاری ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ایک ملک کب تک تنہا اس بوجھ کو اٹھا سکتا ہے؟یہی وہ مقام ہے جہاں یہ پوری عالمی صورتحال ایک “ہولناک مذاق” محسوس ہوتی ہے۔ امن کی باتیں کرنے والے جنگ کو ہوا دیتے ہیں، انصاف کے دعویدار طاقت کے آگے جھک جاتے ہیں، اور خودمختاری کا نعرہ لگانے والے ممالک دوسروں کے اشاروں پر چلنے پر مجبور ہوتے ہیں۔آخرکار، یہ سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ کیا دنیا کبھی واقعی ایک منصفانہ عالمی نظام کی طرف بڑھ سکے گی، یا پھر طاقت اور مفاد کا یہ کھیل اسی طرح جاری رہے گا؟ اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو جواب زیادہ حوصلہ افزا نظر نہیں آتا۔ مگر اس کے باوجود امید کا دامن چھوڑ دینا بھی شاید سب سے بڑی شکست ہوگی۔

ShareTweetSend
Plugin Install : Subscribe Push Notification need OneSignal plugin to be installed.
ADVERTISEMENT
    • Trending
    • Comments
    • Latest
    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    شاہین کے لعل نے کیا کمال ،NEET امتحان میں حفاظ نے لہرایا کامیابی کا پرچم

    جون 14, 2023
    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    ایک درد مند صحافی اور مشفق رفیق عامر سلیم خان رحمہ اللہ

    دسمبر 13, 2022
    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام  10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    جمعیۃ علماء مہا راشٹر کی کامیاب پیروی اور کوششوں سے رانچی کے منظر امام 10سال بعد خصوصی این آئی اے عدالت دہلی سے ڈسچارج

    مارچ 31, 2023
    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    بھارت اور بنگلہ دیش سرحدی آبادی کے لیے 5 مشترکہ ترقیاتی منصوبے شروع کرنے پر متفق

    جون 14, 2023
    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    مدارس کا سروے: دارالعلوم ندوۃ العلماء میں دو گھنٹے چلا سروے، افسران نے کئی دستاویزات کھنگالے

    0
    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    شراب پالیسی گھوٹالہ: ای ڈی کی ٹیم ستیندر جین سے پوچھ گچھ کے لیے تہاڑ جیل پہنچی

    0
    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    رتک روشن اور سیف علی خان کی فلم ’وکرم-ویدھا‘ تاریخ رقم کرنے کے لیے تیار، 100 ممالک میں ہوگی ریلیز

    0
    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    انگلینڈ میں بلے بازوں کے لیے قہر بنے ہوئے ہیں محمد سراج، پھر ٹی-20 عالمی کپ کے لیے ہندوستانی ٹیم میں جگہ کیوں نہیں!

    0
    آئینی حدود سے تجاوز اور مذہبی آزادی پر حملہ

    آئینی حدود سے تجاوز اور مذہبی آزادی پر حملہ

    مارچ 28, 2026
    ایک ہولناک عالمی مذاق

    ایک ہولناک عالمی مذاق

    مارچ 28, 2026
    حزب اقتدار نے بجٹ کو عام لوگوں کا خیال رکھنے والا قرار دیا

    حزب اقتدار نے بجٹ کو عام لوگوں کا خیال رکھنے والا قرار دیا

    مارچ 28, 2026
    مودی نہیں چاہتے تھے کہ پیٹرولیم قیمتیں  بڑھیں، لاک ڈاؤن نہیں لگے گا: سیتا رمن

    مودی نہیں چاہتے تھے کہ پیٹرولیم قیمتیں بڑھیں، لاک ڈاؤن نہیں لگے گا: سیتا رمن

    مارچ 28, 2026
    آئینی حدود سے تجاوز اور مذہبی آزادی پر حملہ

    آئینی حدود سے تجاوز اور مذہبی آزادی پر حملہ

    مارچ 28, 2026
    ایک ہولناک عالمی مذاق

    ایک ہولناک عالمی مذاق

    مارچ 28, 2026
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance
    Hamara Samaj

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    No Result
    View All Result
    • Home
    • قومی خبریں
    • ریاستی خبریں
    • عالمی خبریں
    • اداریہ ؍مضامین
    • ادبی سرگرمیاں
    • کھیل کھلاڑی
    • فلم
    • ویڈیوز
    • Epaper
    • Terms and Conditions
    • Privacy Policy
    • Grievance

    © Copyright Hamara Samaj. All rights reserved.

    Welcome Back!

    Login to your account below

    Forgotten Password?

    Retrieve your password

    Please enter your username or email address to reset your password.

    Log In

    Add New Playlist