مشرق وسطی کے موجودہ سیاسی حالات نہایت پیچیدہ اور قومی، علاقائی، مذہبی و مسلکی بنیاد پر منقسم ہیں، اسی کے ساتھ پورے علاقے میں شہنشاہیت اور آمریت کے فروغ اور آمرانہ طرز حکومت کو استحکام بخشنے میں امریکہ کی مدد، موافقت، اور پیچ در پیچ منافقانہ مداخلت نے قدرتی دولت سے مالا مال اس پورے علاقے کی سیاست معیشت اور حکومت سب کو غیر مستحکم کر کے ہر جگہ اس نے اپنی اجارہ داری بیٹھا رکھی ہے۔ اس حقیقت کی طرف بھی نگاہ رہنی چاہئے کہ ایک طرف امریکہ ایران کو اپنا دشمن اور بدی کا محور گردانتا ہے، لیکن ۱۹۹۰ کے بعد سے علاقے میں امریکی افواج کی بلاواسطہ موجودگی اور ایران کے پڑوسی خلیجی ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کی تنصیب کے باوجود مشرق وسطی میں جاری جنگ اور سیاسی اتھل پتھل میں ایران لگاتار ایک علاقائی طاقت کے طور پر مضبوط سے مضبوط تر ہواہے۔ امریکہ نے ایران کی مرضی اور مدد سے عراق جیسے سنی اکثریتی ملک کو ایک ایران نواز شیعہ مذہبی مملکت میں تبدیل کردیا۔ انقلاب ایران کے بعد اسرائیل کی شمالی سرحد پر لبنان کے اندر حزب اللہ ملیشیا کی شکل میں ایران کی فیصلہ کن موجودگی کے ذریعہ اسرائیلی سیکیوریٹی افواج پر لگاتار دباؤ کے ساتھ اسے اسرائیلی دفاع کے ایک طاقت ور خطرے کے طور پرپیش کیا جاتا رہا۔ حال کے دنوں میں حسن نصراللہ کی شہادت کے بعد بھلے سے حزب اللہ کی قیادت اپنی جارحانہ پیش قدمی سے کسی حد تک پیچھے ہٹ گئی تھی لیکن لبنان میں اس کی فیصلہ کن موجودگی سے کسی صورت انکار نہیں کیا جا سکتا اور اس وقت جبکہ ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملے جاری ہیں، حزب اللہ نے ایران کی حمایت میں ایک تازہ دم فوج کی طرح شمالی اسرائیل کے علاقوں میں خاصی تباہی پھیلا دی ہے۔ دوسال پہلے تک شام میں بشار الاسد کی حکومت کے استحکام اور وہاں سنی مسلمانوں کے قتل عام اور حلب کی تباہی میں بھی ایران کا کردار صف اول کا رہا ہے۔ یمن میں حوثی ملیشیا کی تعیناتی اور اس کی شکل میں وہاں کی سیاست و معیشت میں ایران کی طاقت ور موجودگی ، حوثیوں کی تعیناتی اور ان کے مستحکم ہو جانے تک امریکہ کی خاموشی اور اس کے فوراً بعد حوثیوں کے ساتھ سعودی عرب کی جنگ، جس کے یو میہ دو ملین ڈالر کے دفاعی اخراجات تو سعودی عرب نے برداشت کئے لیکن اسلحوں کی ترسیل اور رسد امریکہ سے ہوتی رہی اور اس جنگ راست کا فائدہ بھی امریکا نے ہی اٹھایا۔ اس کے علاوہ مشرقی سعودی عرب میں وقفے وقفے سے جاری شورش میں ایران کا کردار اور بحرین کی شیعہ اکثریت کا سعودی عرب کے خلاف مظاہرہ وغیرہ ایسے حقائق ہیں جو علاقے میں ایران کی بڑھتی ہوئ دفاعی قوت کا اظہار ہیں اور خلیج کی جغرافیائی سیاست، قدرتی تیل و انرجی کی ترسیل و رسد میں ایران کا فیصلہ کن کردار اور بین الاقومی تجارت میں حصہ دار بننے کی اس کی طویل المدتی منصوبہ بندی کے مظاہر ہیں ۔ لیکن اسی تناظر میں سعودی عرب و دیگر خلیجی ریاستوں کی موجودہ دفاعی اور سیاسی صورتحال کا جائزہ اور اس میں امریکہ کے کردار کا جائزہ لینے کی بھی سخت ضرورت ہے جہاں پچھلے تین عشروں میں ایران لگاتار طاقت ور اور جارح ہوا ہے، خلیج کے دیگر ممالک اس کے مقابل کمزور ہوتے چلے گئے۔ یہاں اس سوال کا بھی جائزہ لیا جانا چاہئے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ اتنا سب کچھ ایران کو حاصل ہو جائے اور امریکہ کو اس کی خبر نہ ہو، امریکہ اور اسرائیل کی آنکھوں میں دھول جھونک کر ایران خلیج کی سب سے مضبوط اور طاقت ور عسکری قوت بن جائے، ایسا ہونا اتنا آسان نہیں ہے۔ موجودہ جنگ اور اس سے پیدا ہونے والے سوالات کا جواب پورے مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی صورت، دفاعی مصنوعات کی تجارت اور امریکی و اسرائیلی اسلحہ صنعتوں کی ترقی و تجارت کے وسیع تر تناظر میں ہی تلاش کرنا چاہئے۔ اس بات کے واضح اشارے موجود ہیں کہ ایران کی یہ طاقت اور دفاعی صلاحیت امریکہ کی مرضی اور خواہش کے مطابق ہی ہے جس سے وہاں کی اسلحہ صنعت اور صیہونیت نواز اسلحہ تاجروں کو عسکری طور پر کمزور خلیجی ممالک کو ایران کی فوجی طاقت کا ڈر دکھا کرمستقل طور پر امریکی اسلحہ خریدنے کے لئے مجبور کیا جاتا رہے۔ انقلاب ایران کے بعد سے ۱۹۹۰تک عراق امریکہ کا وفادار علاقائی دوست اور اس کے تزویراتی منصوبوں میں قابل اعتماد حصہ دار تھا۔ امریکہ اور ایران اس دوران ایک دوسرے کو اپنا سب سے بڑا دشمن گردانتے رہے، اس کے باوجود امریکہ نے ایران پر کوئی کاروائی کرنے کے بجائے صدام حسین کو اپنے سیاسی جال میں پھنسا کر اس کا قتل کیا، عراقی عوام پر بے پناہ ظلم کئے اور قدرتی تیل سے مالامال عراق پر قبضہ کرلیا جو بالواسطہ طور پر آج بھی برقرار ہے۔ وینزویلا پر تو امریکہ کا قبضہ بغیر کسی بڑے خون خرابے کے آسانی کے ساتھ ہوگیا لیکن عراق اور لیبیا جیسے سنی اکثریتی ممالک پر قبضہ کیلئے جس طرح وہاں کے حکمرانوں اور ساتھ ہی عوام پر ظلم و ستم پہاڑ توڑے گئے وہ اپنے آپ میں امریکی سیاست کی مسلم دشمنی کو واضح کرنے کے لئے کافی ہیں۔ موجودہ وقت میں سعودی عرب ایران کے مقابلے میں ایک کمتر فوجی طاقت اور تزویراتی حیثیت سے کم اہمیت کا ملک ہے اور اس کی مشرقی سرحد سعودی مخالف شیعہ طاقتوں سے گھرگئی ہے۔ جنوب میں یمن کی ایران نواز حوثی ملیشیا نے سعودی عرب سے سالہا سال جنگ کی اور سعودی عرب کی جنوبی سرحد پر یہ شیعہ ملیشیا سعودی عرب کیلئے ایک مستقل درد سر ہے۔ ماضی میں ایران کی دفاعی ترقی، اس کا مستحکم سیکیوریٹی نظام نیز علاقائی سیاست میں اس کا بڑھتا ہواعمل دخل امریکہ کی مرضی کے بغیر ہوا ہو ، ایسا ممکن ہونا عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر ہے، ساتھ ہی یہ حقیقت بھی محل نظر ہے کہ مشرق وسطی کی فوجی و دفاعی سیاست میں فوجی لحاظ سے طاقتور ایران امریکہ کے علاقائی فوجی مفاد کے لئے بھی بہت ضروری تھا کیونکہ سعودی عرب سمیت دیگر سنی ریاستوں میں امریکی فوجی ساز و سامان کی کھپت بڑھانے اور اپنی مخصوص فوجی اڈوں کی افادیت ثابت کرنےکے لئے ایران کا طاقتور ہونا بہت ضروری تھااور امریکہ اس سارے کھیل کی ڈور اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتا تھا۔ اسلئے امریکہ اور اسرائیل کا ایران کو بار بار ایک دشمن ملک یا بدی کے محور کے طور پر مشتہر کرنا ایک سیاسی بازیگری اور گریٹر اسرائیل کے اپنے مزعومہ مقصد کے حصول کی منصوبہ بندی کےسوا کچھ نہیں ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ خطہ میں امریکہ کی فیصلہ کن موجودگی میں اسکا دشمن تو لگاتار فوجی اور معاشی طور ایک علاقائی دفاعی سپر پاور کے طور پر مضبوط سے مضبوط ہوتا رہے اور امریکہ و اسرائیل کے دوست ممالک مستقل طور پر اس کے مقابلے عسکری اور دفاعی لحاظ سے کمزور سے کمزور تر ہوتے جارہے تھے۔ یہ تصویر کا ایک رخ ہے جس میں پچھلی تین دہائیوں میں مشرق وسطی کی سیاست میں ایران کا عمل دخل بغیر کسی قابل ذکر رکاوٹ کے آگے ہی بڑھتا رہا ہے اس میں ایران کے داخلی سیاست کے ساتھ مغربی طاقتوں کی ان دیکھی بھی ذمہ دار ہے امریکہ اور اسرائیل خواہ کچھ بھی کہیں۔ موجودہ اسرائیل۔ امریکہ۔ ایران جنگ کے پس پشت کئی قلیل اور کچھ طویل مدتی مقاصد ہیں۔ غزہ جنگ کے بعد اسرائیل کی ڈوبتی معیشت، بیرونی امداد اور سرمایہ کاری میں کمی ، اندرونی سیاست میں نیتن یاہو کی بدعنوانیاں اور اس کی خراب تر ہوتی امیج، عدالت میں اس کے اوپر کرپشن کے مختلف الزامات، مقدمات اور برطرفی کا سامنا، ایپسٹین فائلز میں ڈونالڈٹرمپ کی تہ در تہ شمولیت اور اس پر جنسی درندگی کے شواہد، خود امریکہ کے اندر ٹرمپ کی شدید مخالفت اور مڈٹرم انتخابات کا خطرہ جیسے موجودہ حالات نے ان دونوں بازیگروں کو اس بات پر متحد کردیا کہ ایران پر حملہ کرنے سے شاید انکی اندرون ملک تصویر کچھ بہتر ہوجائے اور اپنے اپنے ملک میں انہیں مزید کچھ اور مہلت مل جائے۔ دوسری طرف اسرائیل اور امریکہ دونوں جگہوں پر اسے ایک مذہبی جنگ کا رنگ دینے کی بھی بھر پور کوشش کی گئی۔ نیتن یاہو مسجد اقصیٰ کی جگہ یہودی ہیکل کی تعمیر کروا کر تاریخ میں امر ہونا چاہتا ہے جس کیلئے فلسطین کا عدم وجود اور مسلم ملکوں کی دفاعی قوت کا کمزور ہونا بہت ضروری ہے۔ دوسری طرف امریکی فوجیوں کو اس بات کا بھی یقین دلایا گیا کہ مسیح موعود کی آمد کو یقینی بنانے کے لئے مسلمانوں کے ساتھ یہ جنگ ناگزیر ہے اور فتح یاب ہونے کی صورت میں یہ دونوں کام آسان ہو سکتے ہیں۔
ایران تو ہر حال میں بات چیت اور مذاکرات کے لئے تیار تھا اور امریکہ کے ساتھ مستقل تعاون اور مفاہمت کے لئے بھی تیار تھا اس نے عمانی مذاکرات کاروں کو اپنے نیوکلیئر پروگرام میں کمی کا بھی عندیہ دے دیا تھا لیکن ایسا لگتا ہے کہ ایران کا مفاہمتی رویہ اسرائیل امریکہ کے لئے زیادہ سودمند نہیں ہو سکتاتھااس لئے عین مذاکرات کے دوران اچانک حملہ کر کے ایران کو جنگ کے لئے مجبور کیا گیااور اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ جائے رفتن نہ پائے ماندن کے مصداق مزعومہ عالمی اعلی دماغ اور عالمی اعلی سپاہ کی سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ایران کو کس طرح صلح اور جنگ بندی کیلئے راضی کیا جائے۔ بظاہر یہ جنگ ایرانی قیادت کی تبدیلی اور اس کی فوجی قوت توڑنے کے نام پر شروع ہوئی لیکن اصلاً یہ امریکا اور اسرائیل کے اندرونی سیاسی حالات کی خراب سے خراب تر ہوتی صورتحال سے عالمی میڈیا اور خود اپنے عوام کا دھیان بھٹکانے کی منصوبہ بند کوشش ہی لگ رہی ہے۔عالمی دفاعی معاملات اور اسلحوں کی سودے بازیاں پیچ در پیچ اتنی گنجلک اور اس کی زیریں لہریں اتنی تہ در تہ ہوتی ہیں کہ حقیقی صورتحال کا پتہ لگ پانا ایک بہت مشکل کام ہوتا ہے۔ ابھی چند مہینے پہلے ٹرمپ کے خلیجی ممالک کے دورے کے دوران ان ملکوں کے حکمرانوں نے ٹرمپ کو اربوں ڈالر کے تحائف، دفاعی سودوں اور سرمایہ کاری کے معاہدوں سے پاٹ دیا تھا لیکن اس جنگ میں جیسے ہی ایران حاوی ہونا شروع ہوا اور اس نے ان ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنانا شروع کیا، امریکا اپنے علاقائی حواریوں کو بے یارومددگار چھوڑ کر اسرائیل کی مدد کے لئے یہاں سے الگ ہوگیا۔ اس بات کا احساس اب عربوں کو اچھی طرح ہو چکا ہے کہ امریکا سے کیا جانے والا دفاعی معاہدہ نہایت ناقابل بھروسہ ہے اور وہ عین موقع پر ساتھ چھوڑ کر بھاگ جانے والا پارٹنر ہے لیکن اقتدار کا لالچ اور دولت کی ہوس انہیں امریکہ کے خلاف کوئی بھی بڑا قدم اٹھانے کی اجازت نہیں دیتی۔ اسی بیچ متحدہ عرب امارات یمن کے معاملے میں جس طرح سعودیوں کو چھوڑ کر اسرائیل کی گود میں بیٹھ گیا ہے یہ بھی سعودی عرب کے لئے ایک بڑا درد سر ہے۔












