سنگھواڑہ: محمد رفیع ساگر : سنگھواڑہ تھانہ حلقہ کے تحت واقع گاؤں استھوا میں بین ذات محبت کی شادی کے بعد پیش آئے قتل کے معاملے میں درج ایف آئی آر میں لڑکی کے اہل خانہ سمیت 4 افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے چاروں ملزموں کو گرفتار کر لیا، جن میں سے 3 ملزموں کو عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا گیا ہے جبکہ ایک زخمی ملزم کا علاج پولیس نگرانی میں جاری ہے۔بتایا جاتا ہے کہ مقتول شیوشنکر کمار ٹھاکر کے بھائی پنٹو ٹھاکر کے بیان پر سنگھواڑہ تھانہ میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق مقتول نے تقریباً 20 دن قبل گاؤں کے گلاب رائے کی بیٹی گایتری کماری سے اپنی مرضی سے بین ذات محبت کی شادی کی تھی۔ اس شادی سے لڑکی کے گھر والے ناراض تھے اور مسلسل دھمکیاں دے رہے تھے۔الزام ہے کہ 28 مارچ کی رات تقریباً 10 بجے لڑکی کے بھائی آلوک رائے اور چچیرے بھائی جیتو رائے شیوشنکر کو گھر سے باہر بلا کر جھگڑا کرنے لگے۔ اسی دوران لڑکی کے والد گلاب رائے اور والدہ متھیلیش دیوی بھی وہاں پہنچ گئے اور حملہ آور ہو گئے۔ الزام کے مطابق آلوک رائے نے چاقو سے حملہ کر کے شیوشنکر کمار ٹھاکر کو شدید زخمی کر دیا۔زخمی حالت میں اسے علاج کے لیے دربھنگہ میڈیکل کالج اسپتال (DMCH) لے جایا گیا جہاں سے حالت نازک ہونے پر ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا، لیکن علاج کے دوران 29 مارچ کی صبح تقریباً 4 بجے ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔اس واقعہ میں بیچ بچاؤ کے دوران مقتول کے بھائی پنٹو ٹھاکر اور گاؤں کے شیوم ٹھاکر بھی زخمی ہو گئے جن کا علاج جاری ہے۔ادھر تھانیدار بسنت کمار نے بتایا کہ معاملے میں نامزد 4 ملزموں میں سے 3 کو عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا گیا ہے جبکہ زخمی ملزم آلوک کمار کا علاج پٹنہ میڈیکل کالج اسپتال (PMCH) میں پولیس نگرانی میں چل رہا ہے۔واقعہ کے بعد مقتول کی بیوہ گایتری دیوی اپنے ساس سسر کے ساتھ استھوا گاؤں میں ہی رہ رہی ہے۔ علاقے میں کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے پولیس گشت بڑھا دی گئی ہے اور ایک مقامی چوکیدار کو لڑکے والوں کے گھر کے پاس تعینات کر دیا گیا ہے۔ فی الحال گاؤں میں صورتحال معمول پر ہے، تاہم اس طرح کے واقعہ نے پورے علاقے کو چونکا دیا ہے اور اطراف میں اس کی چرچا جاری ہے۔












