نئی دہلی،سماج نیوز سروس: ملک کی پانچ اہم ریاستوں—مغربی بنگال، آسام، کیرالہ، تمل ناڈو اور پڈوچیری—میں ہونے والے اسمبلی انتخابات 2026 کے پیش نظر مسلم راشٹریہ منچ نے اس بار پوری طاقت جھونک دی ہے اور نئی توانائی کے ساتھ انتخابی میدان میں اتر گیا ہے۔ تنظیم ہر انتخاب کی طرح اس بار بھی زمینی سطح پر عام آدمی کو جوڑنے، جمہوریت کی اہمیت سمجھانے اور ووٹنگ کے لیے بیداری پیدا کرنے کے مقصد سے گاؤں گاؤں، قصبوں اور شہروں تک ایک وسیع مہم چلا رہی ہے۔ کارکنوں کی ٹیمیں مسلسل گھر گھر پہنچ کر لوگوں سے براہ راست رابطہ کر رہی ہیں اور انہیں یہ باور کرا رہی ہیں کہ جمہوریت میں ہر شہری کی شرکت کتنی ضروری ہے۔گزشتہ انتخابات کی طرح اس بار بھی مسلم راشٹریہ منچ نے ایک خصوصی ٹاسک فورس تشکیل دی ہے، جو پورے مہم کی حکمت عملی، ہم آہنگی اور مؤثر عمل درآمد کی ذمہ داری سنبھال رہی ہے۔ یہ ٹاسک فورس مرکزی سطح پر سرگرم رہتے ہوئے مختلف ریاستوں میں جاری کاموں کی نگرانی، جائزہ اور ضروری اصلاحات کو یقینی بنا رہی ہے، تاکہ مہم زیادہ منظم، مقصد پر مبنی اور مؤثر بن سکے۔ اس اقدام سے تنظیم کی تیاری پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور پیشہ ورانہ نظر آ رہی ہے۔اس مہم کی سب سے بڑی طاقت مرکزی ٹیم اور ریاستی سطح کی ٹیموں کے درمیان مضبوط اور مؤثر ہم آہنگی ہے۔ جہاں علاقائی ٹیمیں اپنے اپنے ریاستوں کے سماجی، معاشی اور سیاسی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کام کر رہی ہیں، وہیں مرکزی ٹیم کے اراکین مسلسل ریاستوں کا دورہ کر کے رہنمائی فراہم کر رہے ہیں اور مہم کی رفتار برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس بہتر تال میل کے باعث مہم میں یکسانیت برقرار ہے اور ہر ریاست میں کارکنوں کا جوش اور سرگرمی صاف نظر آ رہی ہے۔مسلم راشٹریہ منچ کی مرکزی ٹیم کے اہم اراکین—محمد افضال، ڈاکٹر شاہد اختر، گریش جویال، وراگ پاچپور، ابو بکر نقوی، ڈاکٹر شالینی علی، ڈاکٹر ماجد تالیکوٹی اور شاہد سعید—اپنی اپنی ذمہ داریوں کو پوری سرگرمی اور ذمہ داری کے ساتھ نبھا رہے ہیں۔ ریاست وار ذمہ داریاں واضح طور پر طے کر دی گئی ہیں تاکہ کام میں شفافیت اور جوابدہی برقرار رہے۔ مغربی بنگال کی ذمہ داری محمد افضال کو دی گئی ہے، آسام میں ڈاکٹر شاہد اختر قیادت کر رہے ہیں، تمل ناڈو کا چارج ابو بکر نقوی کے پاس ہے، کیرالہ میں ڈاکٹر ماجد تالیکوٹی قیادت کر رہے ہیں جبکہ پڈوچیری کی ذمہ داری الیاس احمد کو سونپی گئی ہے۔مہم کو مزید وسیع اور مؤثر بنانے کے لیے مختلف شعبوں کے لیے خصوصی ذمہ داریاں بھی مقرر کی گئی ہیں۔ خواتین ٹیم کی قیادت ڈاکٹر شالینی علی کر رہی ہیں، جو خواتین میں جا کر انہیں ووٹنگ اور سماجی شرکت کے لیے متحرک کر رہی ہیں۔ سوشل میڈیا ٹیم کی کمان وراگ پاچپور کے پاس ہے، جو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوانوں اور نئے ووٹروں تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔ جبکہ میڈیا سے متعلق تمام ذمہ داریاں شاہد سعید سنبھال رہے ہیں، جو تنظیم کی سرگرمیوں اور پیغام کو وسیع سطح پر پہنچانے کے ساتھ ساتھ منصوبہ بندی اور حکمت عملی میں بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ہر ریاست کے مختلف سماجی اور سیاسی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلم راشٹریہ منچ نے ایک ہی حکمت عملی اپنانے کے بجائے ریاست وار الگ الگ منصوبے تیار کیے ہیں۔ کہیں تعلیم اور روزگار اہم مسئلہ ہے تو کہیں سماجی ہم آہنگی اور ترقی پر زور دیا جا رہا ہے۔ کارکنوں کو واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ مقامی ضروریات اور مسائل کو سمجھ کر اسی کے مطابق اپنی حکمت عملی اپنائیں تاکہ لوگوں سے مضبوط اور براہ راست رابطہ قائم ہو سکے اور مہم زیادہ مؤثر ثابت ہو۔زمینی سطح پر مہم کو مضبوط بنانے کے لیے ہر ریاست میں علاقائی کوآرڈینیٹرز بھی مقرر کیے گئے ہیں۔ آسام میں حبیب چودھری، تمل ناڈو میں محمد رئیس الدین، پڈوچیری میں محمد امان اللہ اور مغربی بنگال میں ایڈووکیٹ علی چاند یہ ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ یہ تمام افراد مقامی کارکنوں کے ساتھ مل کر بوتھ سطح تک رسائی حاصل کر رہے ہیں اور یہ یقینی بنا رہے ہیں کہ مہم ہر طبقے اور ہر علاقے تک پہنچے۔مسلم راشٹریہ منچ کا واضح کہنا ہے کہ اس کا مقصد کسی سیاسی جماعت کی حمایت کرنا نہیں بلکہ جمہوریت کو مضبوط بنانا اور لوگوں میں ووٹنگ کے حوالے سے بیداری پیدا کرنا ہے۔ تنظیم کا ماننا ہے کہ جب زیادہ سے زیادہ شہری ووٹ ڈالیں گے تو جمہوری نظام مضبوط ہوگا اور ملک کا مستقبل محفوظ رہے گا۔جیسے جیسے انتخابات قریب آ رہے ہیں، تنظیم کی سرگرمیاں بھی تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ مسلسل میٹنگز، عوامی رابطہ مہمات، سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ اور مقامی سطح پر پروگراموں کے ذریعے مسلم راشٹریہ منچ اپنی گرفت کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔ واضح اشارے ہیں کہ تنظیم صرف نظریات تک محدود نہیں بلکہ زمینی سطح پر ایک مؤثر اور فعال کردار ادا کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔












