لندن، (یو این آئی) تھامس ٹوشیل اور ان کی انگلش ٹیم کو جاپان کے خلاف کھیلے گئے میچ میں اس تلخ حقیقت کا سامنا کرنا پڑا کہ کپتان ہیری کین کے بغیر ٹیم کی صورتحال کیسی ہوگی۔ ویمبلے اسٹیڈیم میں جاپان کے ہاتھوں شکست کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ 32 سالہ ریکارڈ گول اسکورر کی موجودگی ہی اس موسم گرما میں ہونے والے ورلڈ کپ میں انگلینڈ کی کامیابی اور ناکامی کے درمیان واحد فرق ہوگی۔ٹریننگ کے دوران معمولی انجری کے باعث کین جاپان کے خلاف میچ کا حصہ نہیں تھے۔ اگرچہ وہ اسٹیڈیم میں موجود تھے، لیکن انہیں آرام دیا گیا تھا۔ بی بی سی اسپورٹس کے مطابق، ان 90 منٹوں کی کارکردگی نے انگلش شائقین کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، کیونکہ کسی بڑے ٹورنامنٹ میں کین کی عدم موجودگی انگلینڈ کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن سکتی ہے۔ ورلڈ کپ میں کروشیا کے خلاف اپنے پہلے میچ سے محض 78 دن قبل، انگلینڈ کے واحد عالمی معیار کے اسٹرائیکر کی اہمیت کو کسی صورت کم نہیں کیا جا سکتا۔ ہیری کین یوروگوئے کے خلاف ڈرا اور اب جاپان کے خلاف اس شکست میں ٹیم کا حصہ نہیں تھے، اور ان کے بغیر انگلینڈ کا حملہ مکمل طور پر بے اثر نظر آیا۔کین کی غیر موجودگی میں انگلینڈ کی ٹیم میں وہ تخلیقی صلاحیت اور جارحیت نظر نہیں آئی جو ان کی پہچان ہے۔ ہیڈ کوچ تھامس ٹوشیل بھی اس مسئلے کا حل نکالنے میں جدوجہد کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اس کیمپ کے دوران مختلف متبادلات آزمائے گئے، لیکن ڈومینک سولانکے اور ڈومینک کالورٹ لیون جیسے روایتی نمبر 9 بلے باز (اسٹرائیکرز) اپنی جگہ بنانے میں ناکام رہے۔جاپان کے خلاف فل فوڈن کو ‘فالس نائن کے طور پر آزمانے کا تجربہ بھی بری طرح ناکام رہا، جسے ٹوشیل نے ایک گھنٹے کے اندر ہی ختم کر دیا۔ ٹوشیل کے لیے اب یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ جون میں ہونے والے ورلڈ کپ کے لیے ہیری کین کا فٹ ہونا انتہائی ناگزیر ہے، ورنہ انگلینڈ کی ورلڈ کپ کی مہم خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ یہ صورتحال اب انگلش فٹ بال کے لیے ایک نئی پہچان بنتی جا رہی ہے کہ ٹیم اپنے کپتان پر حد سے زیادہ انحصار کر رہی ہے۔












