رائے پور، (یو این آئی) ہندوستانی خواتین فٹ بال ٹیم کی فل بیک کرن پسڈا نے پختہ عزم ظاہر کیا ہے کہ ‘بلیو ٹائیگریس (ہندوستانی ٹیم) میں وہ تمام صلاحیتیں موجود ہیں جو انہیں 2027 میں برازیل میں ہونے والے ویمنز ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کروا سکیں۔رائے پور میں جاری کھیلو انڈیا ٹرائبل گیمز 2026 کے موقع پر یو این آئی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے 24 سالہ کرن نے کہا: "ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کرنا ہمارا اصل ہدف ہے اور اے ایف سی کوالیفائر اس سمت پہلا قدم تھا۔ ٹیم میں بے پناہ اتحاد اور خود اعتمادی ہے۔ ہم سخت محنت کریں گے اور ہم یہ کر سکتے ہیں۔” واضح رہے کہ ہندوستان کی سینئر مرد یا خواتین ٹیموں میں سے کسی نے بھی اب تک ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہیں کیا ہے۔ تاہم، ہندوستانی خواتین ٹیم نے 23 سال کے طویل وقفے کے بعد 2026 اے ایف سی ویمنز ایشین کپ کے لیے کوالیفائی کر کے نئی امیدیں جگا دی ہیں۔ ہندوستان نے تھائی لینڈ، منگولیا، تیمور لیستے اور عراق کو ہرا کر اپنے گروپ میں ٹاپ کیا تھا۔آسٹریلیا میں ہونے والے 2026 اے ایف سی ویمنز ایشین کپ کی سیمی فائنلسٹ ٹیمیں براہِ راست 2027 کے فیفا ویمنز ورلڈ کپ (برازیل) کے لیے کوالیفائی کر لیں گی۔ اگر ہندوستان کوارٹر فائنل میں ہار جاتا ہے، تب بھی ان کے پاس ‘پلے ان میچوں اور پلے آف کے ذریعے کوالیفائی کرنے کا موقع رہے گا۔ اوڈیشہ ایف سی کی کھلاڑی کرن نے تھائی لینڈ کے خلاف میچ کو اپنے کیریئر کا بہترین لمحہ قرار دیا۔کروشیا کے کلب ‘جی این کے ڈائنامو زغرب کے لیے ایک سیزن کھیلنے والی کرن نے ہندوستانی فٹ بال کے ڈھانچے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں نچلی سطح کے پروگرام کو مزید بہتر بنانا ہوگا۔ انہوں نے کہا: یورپ میں بچے 7-8 سال کی عمر میں وہ مہارتیں سیکھ لیتے ہیں جو ہم 15-16 سال کی عمر میں سیکھتے ہیں۔ ہمیں کم عمری سے ہی کھلاڑیوں کی تیاری شروع کرنی ہوگی۔”لیونل میسی کی مداح کرن پسڈا نے بتایا کہ مختلف پوزیشنز پر کھیلنے کی صلاحیت ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز اسٹرائیکر کے طور پر کیا، لیکن کیرالہ بلاسٹرز کے لیے مڈ فیلڈ میں کھیلا اور اب ہندوستانی ٹیم میں وہ فل بیک کی ذمہ داری نبھا رہی ہیں۔ انہوں نے اپنی کامیابی کا سہرا اپنے بھائی اور اسکول کے سر باندھا جہاں سے انہوں نے فٹ بال کھیلنا شروع کیا۔جب ان سے شمالی امریکہ میں ہونے والے آئندہ فیفا ورلڈ کپ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ان کا دل ارجنٹائن کے ساتھ ہے لیکن دماغ کہتا ہے کہ اسپین سب سے مضبوط ٹیم ہے اور وہی خطاب کی اصل دعویدار ہے۔












