بہارشریف (ایم ایم عالم) نالندہ ضلع کے نور سرائے واقعہ سیاسی رنگ اختیار کر گیا ہے اور اس شرمناک اور نازیبا واقعہ کو لے کر ضلع،ریاست سے لے کر دہلی پارلیمنٹ تک آواز اٹھائی گئی ہے۔اس واقعہ کے متاثرہ سے ملنے کے لیے سیاسی جماعتوں کا آنے کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔دراصل نالندہ ضلع کے نور سرائے تھانہ علاقے کے اجے پور گاؤں میں چھیڑ چھاڑ اور وائرل ویڈیو کے انتہائی متنازعہ واقعے نے پورے علاقے کو چونکا دیا ہے۔جمعہ کے روز جن ادھیکار پارٹی کے سپریمو اور ممبر پارلیمنٹ پپو یادو نے مقامی حامیوں کے ساتھ متاثرہ کے گھر کا دورہ کیا۔گاؤں پہنچ کر پپو یادو نے متاثرہ خاتون اور اس کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور واقعہ کے بارے میں تفصیل سے دریافت کیا۔انہوں نے اہل خانہ کو تسلی دی اور انہیں ہر ممکن مدد کا یقین دلایا۔انہوں نے کہا کہ واقعے کی ویڈیو جس طرح منظر عام پر آئی ہے وہ انتہائی شرمناک اور معاشرے کا آئینہ دار ہے۔یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ ایک خاتون کے ساتھ کھلے عام بدفعلی ہو رہی ہے،جبکہ دیکھنے والے اسے روکنے کے بجائے تماشائی بنے ہوئے ہیں اور ویڈیو بنا رہے ہیں۔مزید انہوں نے کہا کہ اس واقعہ سے انسانیت پوری طرح شرمندہ ہوئی ہے۔انہوں نے واضح طور پر کہا کہ کسی بھی خاتون کے کردار پر سوال اٹھانا یا اسے غیر اخلاقی کہنا سراسر غلط ہے۔ایسی سوچ رکھنے والوں کو معاشرے میں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔انہوں نے سخت لفظوں میں کہا کہ اگر معاشرہ ایسے واقعات پر خاموش رہے تو یہ اجتماعی بے حسی کی علامت ہے۔ایم پی نے وضاحت کی کہ متاثرہ اور ایک نوجوان کو پہلے ایک کمرے میں بند کیا گیا،پھر انہیں گھسیٹنے کے لیے ایک ہجوم اکٹھا کیا گیا اور خاتون کے ساتھ بدفعلی کی گئی۔اس غیر انسانی فعل کی ویڈیو بنا کر وائرل کرنا جرم کو مزید بڑھا دیتا ہے۔پپو یادیو نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اس کیس میں ملوث تمام ملزمان کی فوری گرفتاری کو یقینی بنایا جائے اور انہیں اسپیڈ ٹرائل چلا کر سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ ایسے واقعات کا اعادہ نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک خاتون کا معاملہ نہیں ہے بلکہ پورے معاشرے کی عزت اور حفاظت کا معاملہ ہے۔اس موقع پر انہوں نے متاثرہ خاتون کو خود انحصار بنانے کے مقصد سے کاروبار شروع کرنے کے لیے 50 ہزار روپے کی مالی امداد بھی دی۔












