میڈرڈ، (یو این آئی )اسپین کے اسٹار ونگر لامین یمال نے مصر کے خلاف دوستانہ میچ کے دوران شائقین کی جانب سے کیے جانے والے اسلام فوبیا اور نسل پرستانہ نعروں کی شدید مذمت کی ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب اسپین 2030 کے ورلڈ کپ فائنل کی میزبانی حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہے، لیکن اس تنازع نے اسپین کی ساکھ کو عالمی سطح پر نقصان پہنچایا ہے۔ بازیبارسلونا میں مصر کے خلاف کھیلے گئے میچ (جو 0-0 پر ختم ہوا) کے دوران تماشائیوں کے ایک حصے نے توہین آمیز نعرے لگائے۔”جو نہیں اچھلے گا وہ مسلمان ہے۔حکام نے اسٹیڈیم میں وارننگ جاری کی اور ویڈیو اسکرین پر نسل پرستی کے خلاف قانون کی یاد دہانی کرائی، لیکن شائقین نے اسے بھی مسترد کر دیا۔۔ الجزیرہ کے مطابق مصر کے قومی ترانے کے دوران بھی اسٹیڈیم میں سیٹیاں بجا کر خلل ڈالا گیا۔ل۔خود ایک مسلمان ہونے کے ناطے اور مراکشی پس منظر رکھنے والے لامین یمال نے انسٹاگرام پر ایک جذباتی پیغام شیئر کیا:”میں ایک مسلمان ہوں۔ اسٹیڈیم میں لگنے والا نعرہ کسی مذہب کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے اور یہ ناقابلِ برداشت ہے۔ جو لوگ ایسی حرکتیں کرتے ہیں، وہ جاہل اور نسل پرست ہیں۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ اسپین کے معاشرے میں گہری جڑوں تک پھیلی ہوئی نسل پرستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔2024-25 کے سیزن میں 33,400 نفرت انگیز پیغامات رپورٹ ہوئے، جن میں سے 62% فیس بک پر تھے۔بچوں کی رائےایک سرکاری رپورٹ کے مطابق 40% بچوں کا ماننا ہے کہ اسکولوں اور کھیلوں میں سیاہ فام بچوں کے ساتھ مختلف سلوک ہوتا ہے۔دائیں بازو کی جماعت ‘Vox’ کے صدر سانتیاگو اباسکل نے ان نعروں کا دفاع کرتے ہوئے اسے "شناخت کا اظہار” قرار دیا۔اسپین، مراکش اور پرتگال کے ساتھ مل کر 2030 ورلڈ کپ کی میزبانی کر رہا ہے، لیکن فائنل کس ملک میں ہوگا اس کا فیصلہ فیفا نے کرنا ہے۔ فیفا نسل پرستی کے خلاف سخت پالیسی رکھتا ہے۔ ایسے واقعات فائنل کی میزبانی اسپین کے ہاتھ سے چھین کر مراکش یا پرتگال کو دلا سکتے ہیں۔ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے "تنگ نظر اقلیت” کی کارروائی قرار دیا، لیکن عالمی سطح پر اسپین کی تصویر ایک ‘غیر محفوظ ملک کے طور پر ابھر رہی ہے۔ماضی کے واقعاتیہ پہلا موقع نہیں ہے؛ ریال میڈرڈ کے برازیلی اسٹار وینیشیس جونیئر بھی مسلسل نسل پرستی کا شکار رہے ہیں۔ 2025 میں پہلی بار اسپین کی ایک عدالت نے اسٹیڈیم میں نسلی گالی گلوچ کرنے والے پانچ افراد کو "نفرت انگیز جرم” کا مرتکب قرار دیتے ہوئے سزا سنائی تھی۔ برطانوی صحافی گراہم ہنٹر کے مطابق اسپین میں فٹ بال میڈیا اب نسل پرستی کے خلاف زیادہ سخت موقف اختیار کر رہا ہے (جیسے اخبار مرکا کا سیاہ فرنٹ پیج)، لیکن معاشرے میں موجود دائیں بازو کی انتہا پسندی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔












