نئی دہلی،(یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے الزام لگایا ہے کہ مودی حکومت خواتین کی حفاظت کو لے کر سنجیدہ نہیں ہے اور سب کچھ اطمینان بخش کہہ کر پارلیمنٹ میں پوچھے گئے ہر سوال پر گمراہ کرتی ہے۔مسٹر گاندھی نے لوک سبھا میں 27 مارچ کو خواتین اور اطفال کی ترقی کی وزارت سے خواتین کی حفاظت سے متعلق پوچھے گئے اپنے ایک سوال کے ملے جواب کی بنیاد پر الزام لگایا کہ حکومت خواتین کی حفاظت پر ٹھوس حقائق کے ساتھ جواب نہیں دیتی اور ہر چیز کو تسلی بخش بتا کر معاملہ ختم کر دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تشدد کا شکار خواتین جب مدد کے لیے خواتین کے تحفظ اور ون اسٹاپ سینٹرز (او ایس سی) کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہیں تو مدد کے بجائے انہیں بند دروازے اور نامکمل انتظامات ملتے ہیں۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں اٹھائے گئے اپنے سوال اور اس کے جواب کی کاپی بھی پوسٹ کی اور کہا کہ انہوں نے حکومت سے پوچھا تھا کہ او ایس سی مراکز میں عملے کی شدید ہے اور ملک بھر سے آرہی شکایات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ مسٹر گاندھی نے کہا کہ اس پر انہیں حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ سب کچھ "اطمینان بخش” ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سب کچھ ٹھیک ہے تو ان مراکز سے متعلق مسائل کی مسلسل خبریں کیں سامنے آرہی ہیں۔کانگریس لیڈر نے الزام عائد کیا "ہر پانچ میں سے تین خواتین کو اب بھی مدد نہیں مل رہی ہے اور خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت کے بجٹ میں اوایس سی کے لیے بہت کم خرچ کیا جارہا ہے۔ خواتین کی حفاظت کوئی اسکیم نہیں ہے بلکہ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ ہر معاملے کو اطمینان بخش کہنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت عام لوگوں کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں سن رہی ہے۔دریں اثنا لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے اتوار کو آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما پر اسمبلی انتخابات کے دوران حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے عوام انہیں کبھی معاف نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر سرما کے جیل جانے کی الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔ مسٹر گاندھی نے آسام کے وشوناتھ اسمبلی حلقے میں ایک بڑی عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مسٹر سرما نہ صرف سب سے زیادہ بدعنوان بلکہ سب سے زیادہ فرقہ پرست وزیر اعلیٰ ہیں جو مسلسل نفرت پھیلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور آسام کے عوام انہیں قانون کے مطابق سزا دلائیں گے۔ راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی پر بھی نشانہ لگاتے ہوئے کہا کہ آسام کی حکومت دہلی سے چلائی جا رہی ہے اور ریاست کو "اے ٹی ایم” کی طرح استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بڑے صنعتکاروں جیسے مکیش امبانی، گوتم اڈانی اور بابا رام دیو کو زمینیں دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بی جے پی حکومت کے وعدوں، جیسے سستا گیس سلنڈر فراہم کرنے اور چائے باغان مزدوروں کی اجرت بڑھانے کے وعدے کو ادھورا بتایا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس حکومت بننے پر خواتین کو مالی امداد فراہم کی جائے گی، مزدوری 450 روپے مقرر کی جائے گی، پنشن میں اضافہ ہوگا، زمین کے پٹّے دیے جائیں گے اور 25 لاکھ روپے تک صحت بیمہ فراہم کیا جائے گا۔ راہل گاندھی نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں ملک کا "سب سے بدعنوان وزیر اعلیٰ” قرار دیا ہے۔ راہل گاندھی نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ سرما نہ صرف سب سے بدعنوان بلکہ سب سے زیادہ فرقہ پرست وزیر اعلیٰ بھی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سرما نے آسام کی عوام کو دھوکہ دیا اور گمراہ کیا ہے، جس کے ثبوت عوام کے سامنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آسام کے لوگ ان کے بدعنوانی کے معاملات کو کبھی معاف نہیں کریں گے اور انہیں اس کی سزا ضرور ملے گی۔ قابل ذکر ہے کہ آسام میں 9 اپریل کو ووٹنگ ہوگی جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ ریاست میں اسمبلی کی کل 126 نشستیں ہیں اور موجودہ اسمبلی کی مدت 20 مئی 2026 تک ہے۔ انتخابات کے پیش نظر ریاست میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں، جہاں مختلف جماعتیں مہم چلا رہی ہیں اور لیڈروں کے دورے جاری ہیں۔












