چودھری آفتاب احمد
سابق وزیر و ہریانہ اسمبلی میں ڈپٹی اپوزیشن لیڈر
سیاست حکومت کرنے کا ایک جمہوری طریقہ ہے،سیاست کے اس طریقہ سے سیاسی پارٹیوں کے ذریعہ عوام کو لبھانے والی پالیسیاں اور ایجنڈے بناکر متاثر کیا جاتا ہے،ایسا سیکولر،سوشلسٹ اور بائیں بازو کی پارٹیاںکرتی ہیں،مگرسیاست میں کئی باردائیں بازو کی پارٹی کے ذریعہ لوگوں کی ووٹوں کے پو لرائیزیشن کے لئے غلط حربوں کا استعمال بھی ہوتا ہے،سیاسی پارٹیوں کے اپنے اپنے نظریات ہوتے ہیں،یہ نظریات اس پارٹی سے وابستہ کسی اہم شخصیات کے خیالات اور ان کی سیاسی پالیسیوںوایجنڈوں پر مشتمل ہوتے ہیں، سیاسی پارٹیاں ان کو فولوکرتی ہیں،جیسے ہندوستان میں کانگریس مہاتما گاندھی کے نظریات کو فولو کرتی ہے،اسے سیکولر نظریہ کہتے ہیں،یعنی سب کو ساتھ لے کر چلنے والا اور سب کوبرابر کا حق دینے والا نظریہ ،اسی طرح بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی)ونائک دامودر ساورکر کے نظریہ کو فولوکرتی ہے ،یہ نظریہ قوم پرستی کی بات کرتا ہے،یعنی ہندو راشٹر بنانے کی بات،
بی جے پی کے اس نظریہ میں تضاد ہے،تضاد یہ ہے کہ یہ پارٹی ہندو راشٹر بنانے کی بات تو کرتی ہے،مگر ہے دائی بازو کی پارٹی،یعنی سرمایہ داروں کی پارٹی،اب سرمایہ دار تو پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں پر جوپیسہ خرچ کرتا ہے وہ منافع کے ساتھ اس کی واپسی چاہتا ہے،یعنی اس نے جو پارٹی میں فنڈنگ کی ہے اس کے بدلہ میں وہ اس سے پیسہ کمانا چاہتا ہے،گویا وہ پارٹی اس کی کسی کمپنی کی طرح ہی پیسہ کمانے کاایک ذریعہ بھرہے ،نہ کہ عوام کی خدمت اور ملک کی سلامتی کا ذریعہ،اب سرمایہ داروں کے اس کاروبارسے غریب عوام مہنگائی میں ایسی پستی ہے کہ وہ اور غریب ہوجاتی ہے ،اور پارٹی میں فنڈنگ کرنے والا سرمایہ دارمزید امیر ہوجاتا ہے،بھارت میں ایسا ہی ہورہا ہے،مگر عوام ہے کہ اس پارٹی کے نظریہ میں چھپے سرمایہ داری پالیسی اور اس کے ایجنڈوں کو سمجھنے کو تیارہی نہیں ہے،بس یہ لوگ اس ملک کو مستقبل کا ہندو راشٹر بننے کا محض ایک خواب دیکھ رہے ہیں،
بی جے پی خودکوہندوؤں کی دائیں بازو کی ہندووادی پارٹی بتاکر سرمایہ داروں کو مالامال کررہی ہے،گویا یہ پارٹی ہندوؤں ہی کے ساتھ دھوکہ کررہی ہے،اس پارٹی کی جننی آر ایس ایس کی حرکتوں پرحیرت تو تب ہوتی ہے ،جب یہ ہندو راشٹر کی آواز سے آگے بڑھ کر اکھنڈ بھارت کی بات کرنے لگتی ہے،سوال اٹھتا ہے کہ اگرآر ایس ایس بی جے پی سے ہندو راشٹر بنواتی ہے تو غیر ہندوؤں کا کیا ہوگا ؟کیا انھیں ملک بدر کردیاجائے گا ؟جب آر ایس ایس اور اس کی سیاسی ونگ بی جے پی ملک کے اندر پہلے ہی مسلمانوں کو برداشت نہیں کررہی ہے تو پھر اکھنڈ بھارت بناکر کیا اس اکھنڈ بھارت میں مسلمانوں کی آبادی بڑھانے کی آر ایس ایس بات نہیں کررہی ہے؟ اکھنڈ بھارت کا مطلب ہے بھارت میںسارک ممالک یعنی نیپال،بھوٹان،سری لنکا، افغانستان،پاکستان، بنگلہ دیش اور مالدیپ کو شامل کرنا،نیپال،بھوٹان اور سری لنکا میں کم ہی صحیح مسلمان تو وہاں بھی ہیں،لیکن ان سے بھی بڑھ کر افغانستان،پاکستان اور مالدیپ تو مسلم اکثریتی ملک ہی ہیں،ان ممالک کو بھارت میں شامل کرکے اکھنڈ بھارت بنانے سے کیا اس ملک کی ہندو اکثریت کا توازن نہیں بگڑے گا؟بھارت تو پہلے ہی بنگلہ دیشیوں کو درانداز، پاکستان کو دشمن ملک اور افغانستان کی طالبان حکومت کو دہشت گرد سمجھتا ہے ،پھر کیا یہ محض دائیں بازو کی پارٹی کے لئے ہندوؤں کی ووٹ لینے کا آر ایس ایس کا حربہ بھر نہیںہے؟
سیاست کے اس میدان میں جیسے سیاسی پارٹیاں عوام کے بیچ میں مقبولیت حاصل کرنا چاہتی ہیں،ٹھیک اسی طرح سیاسی لیڈر بھی سیاست کے ماہر ہوکر سیاسی میدان میں اترنا چاہتے ہیں،یعنی وہ سیاست کے ہنر سیکھنا چاہتے ہیں، تاکہ اپنی ہنرمندی سے عوام کے دلوںپرراج کرسکیں اور ان کی امیدوں پر کھرا اترسکیں،ویسے تو صحیح معنی میں سیاست کرنے کا تجربہ سیاسی میدان میں آکرہی ہوتا ہے،لیکن اب زمانہ ایسا آگیا ہے کہ سیاست داں بھی سیاسی ہنر سیکھنے کے لئے ٹریننگ لینے لگے ہیں،اور ایسی کمپنیوں کو ہائر کررہے ہیں جو سیاست کے داؤں پینچ سکھانے کا کام کرتی ہیں،تقریباً گزشتہ ایک دہائی سے سیاسی لیڈروں نے اپنی سیاسی پرسنالٹی کو سنوارنے کے لئے ان کمپنیوں کی مدد لی ہے،جن لیڈروں نے ان کمپنیوں کی مدد لی ہے ان میں وزیراعظم نریندر مودی،اترپردیش کے سابق وزیراعلی اکھلیش یادو،تمل ناڈو کے وزیر اعلی ایم کے اسٹالن،مغربی بنگال کی وزیراعلی ممتا بنرجی اور تیلنگانہ کے وزیراعلی کے چندرشیکھر راؤ کے نام قابل ذکر ہیں،اگرچہ یہ لیڈر سیاست کے داؤں پینچ سیکھ کر جمہوری طریقہ سے سیاست کے میدان میں سیاست کرتے ہیں،مگر پھر بھی ووٹوں کا پولرائیزیشن کرنے کے لئے ان میں سے بعض دائیں بازو کے لیڈر غیر جمہوری بیان بازیوں پر بھی اتر آتے ہیں،
اپنی سیاست کو نکھارنے کے لئے اور عوام میں مقبول ہونے کے لئے سیاسی لیڈر جلسے جلوس تو کرتے ہی رہتے ہیں،لیکن کبھی کبھی انھیں عوام کو ان کے مسائل اور ضرورتوں کے تئیں جگانے کے لئے پیدل یاترا ئیں بھی کرنی پڑتی ہیں،بابائے قوم مہاتما گاندھی نے بھی 1930میں ڈانڈی یاترا نکالی تھی،مہاتما گاندھی کی اس یاترا کے اثر میں آکرمجاہد آزادی اور مشہور سماجی کارکن ونوبا بھاوے،آندھرا پردیش کے سابق وزیراعلی آنجہانی این ٹی راماراؤ،سابق وزیراعظم آنجہانی چندر شیکھرسمیت ملک کے کئی بڑے لیڈروں نے پیدل یاترائیں کی ہیں،کانگریس لیڈر راہل گاندھی لوگوں کے دلوں سے منافرت کو مٹانے دلوں کو جوڑنے اور ایک خوشحال بھارت بنانے کے لئے کنیا کماری سے کشمیر یعنی جنوب سے شمال تک پدیاترا کررہے ہیں،اس یاترا سے جہاں راہل گاندھی میں حقیقی بھارت اور بھارتیوں کو قریب سے دیکھ کر سیاسی حوصلہ مل رہا ہے، وہیں اس یاترا سے لوگوں میں بھی اپنے حقوق کے تئیں بیداری آرہی ہے،وہ کانگریس کے سیکرازم اور مہاتما گاندھی کے سیکولر نظریہ کوراہل گاندھی سے مل کر سمجھ رہے ہیں ،راہل گاندھی کی اس بھارت جوڈو یاترا سے دائیں بازو کی پارٹی کے ذریعہ پھیلائی گئی بھارتیہ سماجوں میںمزہبی منافرت کو مٹانے میں مدد مل رہی ہے،اس یاترا سے راہل گاندھی نفرت پر محبت کا پیغام دے رہے ہیں،
سال رواں میں ملک کی نو ریاستوں میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں،ان اسمبلی انتخابات کے ختم ہونے کے بعد آئندہ برس کے شروع میں لوک سبھا کے عام انتخابات بھی ہونے ہیں ،اس وقت ملک کے معاشی حالات اچھے نہیں ہیں،انٹرنیشنل کمپنیاں اپنا بوریا بستر باندھ کر روانہ ہورہی ہیں،سویدیشی کمپنیوں کے دروازے بھی لوگوں کی ملازمت کے لئے بند ہورہے ہیں، حالانکہ اقتدار میں آنے سے پہلے برسراقتدار پارٹی نے سویدیشی کو بڑھاوا دینے کا خوب ڈھنڈورہ پیٹا تھا،حکومت نے محکموں کا پرائیویٹائیزیشن کرکے سرکاری ملازتوں کو بھی محدود کردیا ہے،روزگار ختم کے دہانے پر ہیں اور مہنگائی نے لوگوں کا برا حال کیا ہوا ہے،ملک کی عوام اس وقت پیدا ہوئے برے حالات سے راحت چاہتی ہیں،ملک کے اقتدار میں بیٹھی دائیں بازو کی پارٹی کی سرمایہ دارانہ پالیسی اور مزہبی منافرت کے پروپیگنڈوںسے عوام پریشان آگئی ہے،لوگ اتنے پریشان ہوگئے ہیں کہ وہ اپنے پرانے دنوں کو یاد کرنے لگے ہیں،انھیں سیکولر پارٹی اور گاندھی وادی نظریہ کی یاد آنے لگی ہے،وہ چاہتے ہیں کہ اب سیاست کے اس جمہوری طریقہ کو ہی اپنایا جائے جو ملک میں ترقی ،خوشحالی امن چین اور روزگار کے مواقع پیداکرنے والی ہو۔
موبائیل نمبر۔












