علی گڑھ،سماج نیوز سروس: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) نے ویمنس کالج، اے ایم یو کی ممتاز سابق طالبہ اور ملک کی نامور پارلیمنٹیرین محسنہ قدوائی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے، جنہوں نے کئی دہائیوں تک ملک کی خدمت کی۔ اتر پردیش کے ضلع بارہ بنکی میں پیدا ہونے والی محسنہ قدوائی نے اے ایم یو سے اپنی تعلیمی زندگی کا آغاز کیا اور بعد ازاں قومی سطح پر اہم عہدوں تک پہنچیں۔ انہوں نے سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کی کابینہ میں بطور مرکزی وزیر خدمات انجام دیں اور صحت، دیہی ترقی، شہری ترقی اور ٹرانسپورٹ جیسے اہم قلمدان سنبھالے۔ وہ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں کی رکن رہیں اور انڈین نیشنل کانگریس میں متعدد اہم تنظیمی ذمہ داریاں بھی سنبھالیں۔ اے ایم یو کی وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایسی رہنما تھیں جن کی زندگی عوامی خدمت، جامع ترقی اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے وقف رہی۔ پروفیسر خاتون نے کہا کہ محسنہ قدوائی کا اے ایم یو سے تعلق ہمیشہ مضبوط رہا اور وہ اس ادارے سے اپنی وابستگی کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھیں۔ انہوں نے کئی مرتبہ کیمپس کا دورہ کیا اور ویمنس کالج کی طالبات سے ملاقات کر کے انھیں اپنے تجربات سے مستفید کیا، ساتھ ہی طالبات کو اعتماد اور دیانت کے ساتھ قیادت کے میدان میں آگے بڑھنے کی ترغیب دی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ محسنہ قدوائی نے سال 2012 میں یوم سر سید کی تقریبات میں بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی تھی، جہاں انہوں نے طلبہ کو سائنسی اور معقول فکر اپنانے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کی تلقین کی۔ پروفیسر خاتون نے مزید کہا کہ محسنہ قدوائی اکثر اے ایم یو میں اپنے زمانہ طالب علمی کو محبت سے یاد کرتی تھیں اور اپنی شخصیت اور اقدار کی تشکیل کا سہرا اسی ادارے کو دیتی تھیں۔ اے ایم یو سے ان کی وابستگی اس وقت بھی برقرار رہی جب انہوں نے یونیورسٹی کورٹ کی رکن کے طور پر خدمات انجام دیں۔ پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خاں نے بھی محسنہ قدوائی کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک معزز قومی رہنما تھیں جن کی قومی خدمات کو طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔ ان کی زندگی بالخصوص ان طالبات کے لیے مشعلِ راہ ہے جو عوامی زندگی میں نمایاں مقام حاصل کرنا چاہتی ہیں۔












