دیوبند ،سماج نیوز سروس:گزشتہ شب فردوس گارڈن میں ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی کی کتاب تہافۃ الملاحدہ کی تقریب رسم اجراء دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی کی صدارت اور قاری عبداللہ سلیم قاسمی بانی وشیخ الاسلام معہد تعلیم الاسلام شکاگو کی سرپرستی میں منعقد ہوا۔پروگرام کا آغاز قاری محمد واصف عثمانی کی تلاوت کلام اللہ سے ہوا۔اس موقع پر ملک وبیرون ملک کے ممتاز اہل علماءوفضلاء نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور مفتی یاسر ندیم الواجدی کو مبارکباد دی ۔ دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم مولانا محمد سفیان قاسمی نے کہا کہ افسو کا مقام یہ ہے کہ مصلحین امت کے قول وفعل میں تضاد پائے جانے کی وجہ سے نوجوان ذہنی انتشار کا شکار ہیں ،انہوں نے کہا کہ آج ہم لوگوں کے اندر مغرب تقلید جامد کا رجحان پیدا ہورہا ہے،مغرب سے آئی ہو ہر چیز کو ہم بلا پس وپیش قبول کررہے ہیں اس رویہ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔دارالعلوم ندوۃ العلماء کے استاذ حدیث مولانا عتیق الرحمن بستوی نے کہا کہ کسی بھی فکرو نظریے کی تردید کے لئے اس نظریے کا مطالعہ اتنی گہرائی سے کرنا چاہئے کہ اس فکر کے داعی سے زیادہ آپ کے پاس مطالعہ حکمت عملی اور سنجیدگی ہو۔الخیر فاؤنڈیشن برطانیہ کے چیئرمین مولانا قاسم رشید نے کہامفتی یاسر ہم سب کی جانب سے شکریہ کے مستحق ہیں،علماء اور طلباء کو چاہئے کہ ان کو مبارکباد دیں اور ان سے استفادہ کریں۔ دارالعلوم کے سابق شیخ القراء مولانا قاری عبداللہ سلیم قاسمی کہاکہ حفاظت اسلام ودفاع اسلام کا کرنے والوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ دین تو محفوظ ہے،اللہ رب العزت اس کا محافظ ہے،ہم دین کی حفاظت کا کام نہیں کررہے ہیں بلکہ پراگندہ اور تشکیک زدہ اذہان کی فکر کو بچانے کا کام کررہے ہیں۔دارالعلوم دیوبند کے استاذ حدیث مولانا شوکت قاسمی بستوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ مولانا یاسر ندیم الواجدی کا یہ کام امام غزالی کے تہافۃ الفلاسفہ کا تسلسل ہے،اسلام اپنے امن پسند نظریات اور جامع تعلیمات کی بنا پر پوری دنیا میں تیزی سے پھیل رہا ہے،اسلام دشمن طاقتوں نے یہ دیکھ کر مسلمانوں کے درمیان فکری انتشار کا طریقہ اختیار کیااور ان کو عقیدے کے طور پر کمزور کرنے کی کوششیں شروع کی،مولانا یاسر ندیم الواجدی ہمارے شکریہ کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس دور میں اسلام دشمن طاقتوں کی جانب سے پھیلائے گئے اعتراضات،اشکالات اور دیگر سازشوں کا بہترین انداز م میں جواب دیا۔جمعیت علماء ہند کے نائب صدر مولانا سلمان بجنوری نے کہا کہ جماعت دیوبند کے ایک فرد نے اکابر کی روایت کو زندہ رکھتے ہوئے اس دور کے بڑے فتنوں کی سرکوبی کی خدمت انجام دی وہ پوری جماعت کی طرف سے شکریہ اور مبارکباد کے مستحق ہیں انہوں نے کہا کہ یہ دور عقیدے کی کمزوری کا دور ہے،ایک حدیث مبارکہ کے مفہوم کے مطابق ایسے لوگ بھی پائے جائیں گے جن کی نماز وتلاوت پر عام لوگ رشک کریں گے،مگر اسلام ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا اور اس دور میں ایسے لوگ موجود ہیں جن کے خلاف کام کرنے کی ضرورت ہے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے کہا کہ ہم لوگوں کو ملحدین ومغربی نظریات کا رد کرتے ہوئے دفاع میں تاویل اور مرعوبیت کی ضرورت نہیں۔












