ہم تعلیم سے اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ اچھی صحت سے ہم اپنے اور اپنے سماج کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم سماجی طور پر ایک دوسرے سے زیادہ سے زیادہ منسلک ہوں اور ایک دوسرے کے خوشی و غم میں برابر کے شریک ہوں۔ ان خیالات کا اظہار کل جمعرات کی شام کو دہلی ودھان سبھا، سِوِل لائن کے کانفرنس ہال میں منعقد سیمینار بعنوان "اقلیتوں کے مسائل اور ان کا حل” میں دہلی حکومت کے اسپیکر عزت مآب جناب رام نواس گوئل جی نے اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔ آپ نے اپنے خطاب میں مزید یہ بھی کہا کہ مسلمانوں کا سب سے بڑا مسئلہ ناخواندگی ہے۔ آج بھی ہندوستان کی راجدھانی دہلی جیسے مقام پر مسلمانوں کی بچیاں بارہویں میں 96 فیصد حاصل کرنے کے باوجود بھی ان کے والدین انہیں آگے کی تعلیم جاری نہیں رکھنے دیتے۔ یہ بہت ہی زیادہ افسوس کی بات ہے۔ ہم لوگوں کو اپنے اندر ابھی بہت زیادہ تعلیمی بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
اس سیمینار میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے، دہلی حکومت کے وزیر خوراک و رسد عزت مآب جناب عمران حسین نے کہا کہ ہمیں اپنے محلوں میں گھوم گھوم کر بچوں کی تعلیم کے لیے کام کرنا چاہیئے، ہمیں خدمتِ خلق اور انسانیت کے لیے بڑھ چڑھ کر جد وجہد کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنے علاقے کے لوگوں کے لیے کچھ نہ کچھ وقت ضرور نکالنا چاہئیے، کیونکہ خدمت سے خدا ملتا ہے۔
دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین جناب ذاکر خان منصوری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہلی حکومت نے آپ کے لیے بہت ساری سہولیات دے رکھیں ہیں، جیسے اقلیتی طلبا کے لیے پرائیویٹ اسکولوں میں ہر ماہ کی چار ہزار تعلیمی فیس جو 48 ہزار سال کے آخر میں یک مشت طلباء کے اکاؤنٹ میں براہِ راست بھیجی جاتی ہے، 18 ہزار سے 25 ہزاروں تک وظیفہ، دہلی حکومت کی طرف سے آگاہی پروگرام منعقد کراتی رہتی ہے۔ دہلی حکومت نے ہم اقلیتوں کے لیے تین کروڑ بیس لاکھ روپے کا بجٹ بھی منظور کر دیا ہے۔
اس سیمینار میں بہت سارے لوگوں نے اپنے اپنے تاثرات کا اظہار کیا کسی نے کہا کہ آج تعلیم کے شعبوں میں ہمیں زیادہ سے زیادہ آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کسی نےکہا کہ دہلی گورنمنٹ جس طرح اسکولی نظامِ تعلیم کی بہتری میں مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ مدارس کے طلباء کو ماڈرن ایجوکیشن اور کمپیوٹر ایجوکیشن میں آگے بڑھنے میں تعاون دیں۔ میڈیا پرواز گروپ کے چیئرمین جناب شمیم احمد نے سب لوگوں کو مل جل کر رہنے کی تلقین کی۔ کسی نے یہ بات کہی کہ اقلیتوں کے مسائل پر گفتگو ہوتی رہنی چاہیے کیونکہ جب بات ہوگی تبھی ان کا حل ہوگا۔ کسی نے کہا کہ موجودہ حکومت نے 34 ہزار طلبا کا داخلہ مختلف یونیورسٹیوں میں کروایا۔ دہلی اقلیتی کمیشن نے اقلیتوں کو احساس کمتری اور خوف سے نکالنے کا کام کیا ہے۔ ہم لوگ اگر اخلاص سے اپنا کاموں کو کرنا شروع کردیں تو ہمارے سبھی مسائل کا اختتام ہوجائے گا۔ اسی مناسبت سے مزید کئی شرکاء نے بھی اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا۔
اس موقع پر دہلی حکومت کے اسپیکر عزت مآب رام نواس گوئل جی اور دہلی حکومت کے وزیرِ خوراک و رسد عزت مآب عمران حسین کو دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین جناب ذاکر خان منصوری نے خیر مقدم کیا۔
اس پروگرام میں نظامت کے فرائض جناب سید شاداب حسین رضوی اشرفی، رکن دہلی حج کمیٹی نے انجام دئیے۔ واضح رہے کہ یہ پروگرام دہلی اقلیتی کمیشن کی جانب سے دہلی ودھان سبھا کے کانفرس ہال میں جمعرات کی شام کو چھے بجے منعقد کیا گیا تھا۔ اس سیمینار میں دہلی کے جعفر آباد، سیلم پور، گو وند پوری، سیما پوری اور اوکھلا سمیت مختلف علاقوں سے علماء اور سماجی و رفاہی تنظیموں کے کارکنان وغیرہ نے شرکت کی۔ جن میں سے پرواز میڈیا گروپ کے چیئرمین شمیم احمد خان، جامعہ ہمدرد کے سابق چانسلر اور ہمدرد ایجوکیشن ٹرسٹ کے موجودہ جنرل سیکریٹری جناب حامد، حاجی ارشاد احمد، مولانا محمد عارف قاسمی، قاری عبد السمیع، مولانا جاوید قاسمی، مولانا ضیاء اللّٰه، قاری احرار، مولانا محمد ہارون، حاجی محمد ارقم اور مشکور وغیرہ کے نام خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہیں۔












