بہار شریف (پریس ریلیز): مؤرخہ 12 اپریل بروز اتوار دس بجے دن خانقاہ بشیریہ اصدقیہ چشتیہ،چشتی چمن، پیر بیگھہ شریف نالندہ میں شیخ طریقت حضرت علامہ سید شاہ رکن الدین اصدق چشتی علیہ الرحمہ کے عرسِ چہلم کے بابرکت موقع پر ایک روح پرور اور تاریخی تقریب کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس موقع پر ہندوستان کے طول و عرض سے تشریف لائے ہوئے مشائخین طریقت اور اکابرینِ اہلِ سنت کی موجودگی میں حضرت کے شہزادۂ اکبر، حضرت سید شاہ سیف الدین اصدق چشتی کی باقاعدہ طور پر رسمِ سجادگی ادا کی گئی۔ تقریب میں عقیدت مندوں، مریدین و متوسلین کے علاوہ علماء و مشائخ کی کثیر تعداد شریک رہی، جس سے خانقاہ کا ماحول روحانی کیف و سرور سے معمور نظر آیا۔ اس بابرکت موقع پر متعدد جید شخصیات نے شرکت فرما کر اپنے اپنے بزرگوں کے فیوض و برکات سے حاضرین کو مستفید کیا۔ شرکاء میں بالخصوص حضرت سید شاہ مشاہد اصدق چشتی سجادہ نشیں خانقاہ اصدقیہ پیر بیگھ شریف، جناب حضور سید شاہ سیف الدین احمد فردوسی سجادہ نشیں خانقاہ معظم بہار شریف،حضرت سید شاہ مصباح الحق عمادی سجادہ نشیں خانقاہ عمادیہ، پٹنہ، حضرت سید شاہ شمیم الدین منعمی سجادہ نشیں خانقاہ منعمیہ پٹنہ، حضرت سید شاہ عین الدین چشتی سجادہ نشیں خانقاہ چشتیہ، شیخ پورہ نوادہ ،حضرت سید شاہ صباح الدین منعمی سجادہ نشیں خانقاہ چشتیہ منعمیہ گیا، حضرت سید شاہ طارق عنایت اللہ فردوسی سجادہ نشیں خانقاہ منیر شریف، مولانا سید عبدالرزاق حسین قادری ولی عہد خانقاہ قادریہ محمدیہ امجھر شریف، حضرت سید جمال الدین عابد قادری خانقاہ محمدیہ امجھر شریف، حضرت سید شاہ مشہود قادری مجیبی سجادہ نشیں خانقاہ سلیمانیہ پھلواری شریف، حضرت سید شاہ نیر سہروردی سجادہ نشیں مخدوم احمد چرم پوش امبیر شریف، حضرت سید شاہ حامد رضا قادری صاحب امجھرشریف، حضرت شاہ بلال رضوی خانقاہ چشتیہ نظامی داناپور،حضرت مولانا شاہ عارفین اصدق غوثی سجادہ نشیں خانقاہ غوثیہ شہودیہ سہسرام،حضرت سیدشاہ ارشد افضلی سجادہ نشیں خانقاہ افضلیہ نوادہ، حضرت سید احمد غزالی سجادہ نشیں خانقاہ بلخیہ شرفیہ بہار شریف، حضرت سید شاہ غلام رسول نقشبندی سجادہ نشیں خانقاہ نقشبندیہ اعظم گڑھ، حضرت سید شاہ اطہر امام اصدقی سجادہ نشیں خانقاہ نوریہ اصدقیہ ارمئی شریف گملا، سید شاہ غلام مرتضی قادری خانقاہ قادریہ جوڑا مسجد گیا، مولانا قاضی فرید اختر صاحب سجادہ نشیں خانقاہ قادریہ غازی پور، مفتی منظر حسن اشرفی خانقاہ اشرفیہ ممبئی، مولانا ذیشان مصباحی نمائندہ خانقاہ عارفیہ سید سراواں، سید شاہ ابو الحسانات شیرازی درگاہ جمعہ پیر سہسرام، شاہ عیان ابو العلائی ولی عہد خانقاہ سجادیہ داناپور، سید سلمان فریدی ولی عہد خانقاہ فریدیہ سہسرام، شاہ خورشید افضلی خانقاہ سلیمیہ افضلیہ پتراتو، مولانا سیدشاہ علقمہ شبلی خانقاہ کیراپ شریف، شاہ ذیشان حسین، خانقاہ شاہ ارزانی پٹنہ، نمائندہ خانقاہ خلوت مخدوم جہاں بہار شریف، سید شاہ عامر شاہد خانقاہ بارگاہ عشق پٹنہ، سید انور مجیب نمائندہ خانقاہ سجادیہ اصدقیہ بڑوسر، سید شاہ سعیدالدین غازی فردوسی سجادہ نشیں خانقاہ قلندریہ فردوسیہ بہار شریف دیگر نمائندہ، اس موقع پر مشائخِ عظام کے بیانات بھی ہوئے۔ بالخصوص حضرت سید شاہ شمیم الدین احمد منعمی خانقاہ منعمیہ پٹنہ نے علامہ اصدق علیہ الرحمہ کی سوانحِ حیات اور سجادگی کے موضوع پر مختصر مگر نہایت جامع اور پُرمغز خطاب فرمایا۔ اسی طرح حضرت علامہ اصدق علیہ الرحمہ کے صاحبزادے، حضرت سید شاہ نور الدین اصدق چشتی نے اپنے والدِ گرامی کی حیاتِ طیبہ اور دینی و روحانی خدمات پر ایک مدلل اور جامع بیان پیش کیا، جسے حاضرین نے بڑی توجہ اور عقیدت کے ساتھ سنا۔ بعد ازاں صلوٰۃ و سلام پیش کیا گیا، پھر مشائخِ طریقت نے متفقہ طور پر حضرت سید شاہ سیف الدین اصدق چشتی مدظلہ العالی کے سر پر دستار باندھی۔ یہ منظر نہایت روح پرور اور ایمان افروز تھا، جس نے حاضرین کے قلوب کو سرشار کردیا۔ اس کے ساتھ ہی رسمِ سجادگی باضابطہ طور پر مکمل ہوئی۔ آخر میں محفلِ سماع کا اہتمام کیا گیا اور پھر اجتماعی دعا کے ساتھ قبل نمازِ ظہر بابرکت مجلس کا اختتام عمل میں آیا، بعدہ حضرت شیخ الجن والانس سیّدنا خواجہ شاہ قیام اصدق الصادقی الچشتی رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر چادر پوشی کی گئی۔ بعدِ نمازِ مغرب شہر بہار شریف میں شیخ طریقت حضرت علامہ سید شاہ رکن الدین اصدق چشتی رحمۃ اللہ علیہ کے مزار پر انوار پر چادر پوشی و گل اندازی کی رسم ادا کی گئی جس میں امتِ مسلمہ کی فلاح، ملک میں امن و سلامتی اور سلسلۂ عالیہ کی ترقی و استحکام کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ بعدِ نمازِ عشاء اور جلسہ عام منعقد ہوا جس میں مولانا سید سلمان چشتی نے سلسلہ چشتیہ کے حوالے سے خطاب کیا، قاری شبیر عالم اصدقی گریڈیہوی نعتیہ کلام و منقبت کے اشعار پڑھے، مولانا عمر نورانی گیاوی نے کہا حضرت علامہ سید رکن الدین اصدق ایک فرد کا نام نہیں بلکہ ایک انجمن کا نام ہے، قاری ارشد اقبال نے نعتیہ کلام کے اشعار پڑھے، حضرت سید احمد رضا نوری ادارہ شرعیہ پٹنہ نے کہا حضرت علامہ سید رکن الدین اصدق صرف سنی نہیں بلکہ سنی گر ہیں کروڑوں کو انہوں نے سنی بنایا، جلسے کی نظامت حضرت مولانا سید ارشد افضلی فریدی اصدقی خانقاہ افضلیہ فریدیہ اصدقیہ نوادہ نے کی، حضرت علامہ نعمان اختر فائق الجمالی مہتمم دارالعلوم فیض الباری نوادہ نے کہا کہ حضرت علامہ سید رکن الدین اصدق نابغۂ روزگار شخصیت تھے جو صدیوں میں پیدا ہوتی ہے ، مولانا حسام الدین فردوسی ولی عہد خانقاہ معظم نے کہا کہ ہم نے اپنے والد بزرگوار سے سنا کہ علامہ اصدق علیہ الرحمہ کا اخلاق انتہائی وسیع بلند اور انسانیت کے لیے اعلیٰ نمونے تھے، حضرت ڈاکٹر ذاکر حسین گیاوی نے کہا حضرت علامہ سید شاہ رکن الدین اصدق چشتی بیک وقت مبلغ ، محرر ، اور مقرر تھے مرتا وہ ہے جو اپنے لیے جیتا ہے اور جو قوم کے لیے جیتا وہ کبھی نہیں مرتا لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے، مولانا محمد تبارک حسین رضوی نے کہا حضرت علامہ اصدق علیہ الرحمہ نے جو کام کیا وہ قیامت تک باقی رہنے والی ہے آپ نے دین متین کی عظیم خدمات انجام دی، حضرت علامہ ذیشان احمد مصباحی سید سراواں الہ آباد نے کہا حضرت نے ایک ایسی جگہ کو آباد کیا جو بالکل غیر آباد تھا حضرت علامہ اصدق علیہ الرحمہ نے کہا تھا بہار شریف میں خود نہیں آیا سرکار مخدوم جہاں نے مجھے بلایا ہے، حضرت مفتی محمد مظفر حسین گیاوی نے کہا کہ حضرت علامہ سید رکن الدین اصدق ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے آپ کی تصنیفات لوگوں کے لئے مشعلِ راہ ہے، حضرت علامہ مفتی منظر حسن خاں اشرفی ممبئی نے کہا حضرت سید رکن الدین اصدق ایسے پاکباز تھے اور انہوں نے کہا کہ علی کا بیٹا سنی نہیں ہے تو کون سنی ہوگا، حضرت علامہ سید سیف الدین اصدق چشتی نے والد بزرگوار کی وصیت نامہ پڑھ کر سنایا سن کر لوگوں کے آنکھوں نے آنسوؤں کا نذرانہ پیش کرنے لگی، نعیم ملت حضرت مولانا محمد نعیم الدین استاذ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور اعظم گڑھ نے کہا حضرت علامہ سید رکن الدین اصدق چشتی علیہ الرحمہ کا اخلاق اعلٰی تھا پہلی ملاقات مراداباد میں ہوئی آپ ہمارے دادا حضور حافظ ملت علیہ الرحمہ کے خاص شاگردوں میں تھے، عزیز ملت حضرت علامہ عبد الحفیظ ناظم اعلیٰ الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور نے کہا حضرت علامہ سید شاہ رکن الدین اصدق چشتی مدرسہ قائم کرکے لوگوں پر بڑا احسان کیا ہے ، وہ دنیا چھوڑ گئے مگر ان کا مشن زندہ ہے ، ان کا مشن وہی مشن ہے جو حضور حافظ ملت کا مشن تھا۔ حضرت مولانا سید نورالدین اصدق چشتی نے آئے ہوئے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا، اس موقع پر حضرت علامہ شبیر ملک مصباحی کولکاتہ، حضرت مولانا ڈاکٹر امجد رضا امجد ادارہ شرعیہ سلطان گنج پٹنہ، حضرت علامہ مفتی حسن رضا نوری ادارہ شرعیہ سلطان گنج پٹنہ، حضرت مولانا اختر رضا نوری ادارہ شرعیہ پٹنہ، حضرت قاری محبوب اصدق قادری ممبئی، حضرت مولانا انوار احمد مصباحی گریڈیہوی، مولانا مجاہد الاسلام نوادہ، مولانا منور حسین اصدقی کرناٹک، ڈاکٹر طارق انور بھاگلپوری، مولانا قاسم گریڈیہوی، مولانا رونق القادری گریڈیہوی، نواز احمد سعیدی غازی پوری وغیرہم موجود تھے دو بجے شب صلاۃ و سلام اور رقت آمیز دعاؤں پر محفل اختتام کو پہنچا۔












