ناظم بیگ
بلند شہر ،سماج نیوز سروس: مدرسہ احسن العلوم مو ضع جڑودہ ضلع میرٹھ میں حضرت مولانا عبداللہ مغیثی کے جانشین اور صاحبزادہ محترم حضرت مولانا عبدالمالک مغیثی مہتمم جامعہ گلزار حسینیہ اجراڑہ کی آمد کے موقع پر استقبالیہ پروگرام منعقد کیا گیا۔قبل ازیں مدرسہ احسن العلوم کے مہتمم مولانا محمد اقبال قا سمی اور با شندگان جڑودہ نے مولانا عبد المالک مغیثی کا پھول ما لائیں پہناکر استقبال کیا ۔ اس مو قع پر حاضر ین سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبدالمالک مغیثی نے کہا کہ ہمیں اپنی زبان اور دل کو اللہ کے ذکر سے ہر وقت معطر رکھنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ جس طرح سے جسم کو بیماریوں سے صاف کرنے کے لیے دواؤں کا استعمال ضروری ہے بالکل اسی طرح روحانی بیماریوں سے دل کو صاف کرنے کے لیے اللہ کا ذکر انتہائی ضروری ہے نیز ہمیں اسلامی تعلیمات کو مکمل طور پر اپنی زندگی کا دستور عمل بنانا چاہیے ۔جامعہ گلزار حسینیہ اجراڑہ کے شیخ الحدیث مولانا عقیل احمد صاحب قاسمی نے کہا کہ موت ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس کی سچائی سے کسی کو انکار نہیں اور موت اللہ کی جانب سے مومن کے لیے اچھی چیز ہے مگر اپنوں کی جدائی انسان کو مغموم کر دیتی ہے۔ حضرت مولانا عبداللہ صاحب اپنے رب حقیقی سے جا ملے ۔حضرت کی جدائی سے دل مغموم ہے مگر ساتھ ہی ان کی زندگی سے ہمیں بہت بڑا پیغام یہ ملتا ہے کہ ہم دینی اوردنیاوی تعلیم کو عام کریں ۔مولانا آس محمد گلزار قاسمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت مولانا عبداللہ مغیثی نے جس طرح سے اخلاص نیت کے ساتھ قوم و ملت کے لیے کام کیا ہے ہمیں بھی حضرت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قوم و ملت کی خدمات اخلاص نیت کے ساتھ کرنی چاہیے ۔کٹھور اسمبلی حلقے کے ایم ایل اے شاہد منظورنے بھی تعلیم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جس قوم میں تعلیم کا فروغ ہوتا ہے وہ قوم ترقی کرتی ہے اور جو قوم تعلیم سے نا آشنا ہوتی ہے وہ وہ غلامی کی زندگی گزارتی ہے ۔ہمیں دنیا اور آخرت کی بہتری کے لیے دونوں تعلیم کو اپنی زندگی کا مشن بنانا ہوگا۔ مدرسہ احسن العلوم جڑودہ کے مہتمم مولانا محمداقبال صاحب قاسمی نے مع اہل بستی کے مولانا عبدالمالک مغیثی کو جامعہ گلزارحسینیہ اجراڑہ کا مہتمم بننے پر مبارکباد پیش کی اور جڑودہ آمد پر شکریہ اداکیا ۔












