امریکہ ۔ اسرائیل اور ایران کے بیچ 28 فروری سے چل رہی جنگ کو ختم کرنے کے لئے پاکستان کی ثالثی میں اسلام آباد مذاکرات بے نتیجہ ختم ہو گیے ۔ 21 گھنٹہ چلی گفتگو کے باوجود امریکہ اور ایران کسی بھی ایشو پر متفق نہیں ہو سکے ۔ حالانکہ امریکہ اور ایران 1979 کے بعد دوسری مرتبہ ایک میز پر بیٹھے تھے ۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو دنیا کے نقشہ سے مٹانے کا دعویٰ کیا تھا لیکن چند گھنٹوں بعد ایران کی تمام شرائط مان لیں اور چودہ دن کے سیز فائر کا اعللان کر دیا ۔ یہ بات کسی کے بھی گلے نہیں اتری اور نہ بھروسہ ہو اکہ ایک انتہائی طاقتور ملک نے مقابل نہایت کمزور کا ہر مطالبہ کیوں مان لیا؟ جنگ کی حکمت عملی یہ بھی ہوتی ہے کہ دو قدم پیچھے ہٹا لیے جائیں تاکہ مخالف خوش فہمی میں مبتلا ہو جائے ، وہ اسے اپنی فتح گرداننے لگے ۔ اس غفلت کا فائدہ اٹھا کر دشمن اچانک ایسا حملہ کرتا ہے کہ بچنے کا موقع نہ مل سکے ۔
اس جنگ میں امریکہ اسرائیل نےایران کے 12000 سے زیادہ علاقوں پر بم گرائے جن میں 700 سے زیادہ اسکول 275 اسپتال مٹی میں مل گئے ۔ یونیورسٹیاں ،کالج اور ریلوے لائں وپل بھی اس کی زد سے محفوظ نہیں رہے ۔ 50000 سے زیادہ زخمی اور 9000 لوگوں کے ہلاک ہونے کی خبر ہے ۔ 61000 گھر تباہ ہو گئے ، وہیں ایران کے دفاعی حملوں میں 13 سے زیادہ امریکی فوجی ہلاک اور 365 سے زیادہ زخمی ہوئے ۔ امریکہ کے 17 انتہائی مہلک اور مہنگے جہاز ایران نے تباہ کر دیئے ۔ 80 فیصد امریکی عوام اس جنگ کے خلاف ہیں ۔ امریکہ میں 3300جگہ اس جنگ کے خلاف مظاہرے ہوئے جن میں قریب ایک کروڑ لوگ شریک ہوئے ۔ جنگ میں اسرئیل میں بھی بڑی تباہی ہوئی ہے لیکن خبریں باہر نہ آنے کی وجہ سے نقصان کا اندازہ لگانا مشکل ہے ۔ نتین یاہو کے خلاف اسرائیل میں اور یورپ کے دیشوں میں بھی جنگ کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے ۔ ایران اس تباہ کن جنگ کی وجہ سے دس سے پندرہ سال پیچھے ہو گیا ہے ۔
خیر جو بھی ہو تمام تر اگر مگر کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان نے دنیا کو اس جنگ سے کچھ راحت دی ہے، جس نے نہ صرف برسرِ پیکار فریقین بلکہ پوری دنیا کے لوگوں کی روزمرہ زندگی کو گہرے طور پر متاثر کیا۔ بلاشبہ اس جنگ نے مغربی ایشیا کے اسٹریٹجک منظرنامے کو یکسر بدلنے کے ساتھ عالمی سفارت کاری پر بھی اثر ڈالا ہے۔ ایک ماہ سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی اس جنگ میں تباہ کن فضائی حملوں، آبنائے ہرمز کی مؤثر ناکہ بندی اور تہذیب کی تباہی کے خدشات کے بعد اب ایک عارضی وقفے نے پوری دنیا کو کچھ سکون دیا ہے۔ اگرچہ یہ جنگ امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان لڑی جا رہی تھی، لیکن اس نے دنیا بھر کے ممالک کے شہریوں، عالمی منڈیوں اور توانائی پر انحصار کرنے والی معیشتوں کو بری طرح متاثر کیا۔ ان کے لیے یہ عارضی جنگ بندی یقیناً ایک راحت بخش خبر ہے، تاہم اس کے باوجود حقیقت یہ ہے کہ اس نازک امن کے پسِ پشت کئی تشویشناک حقائق پوشیدہ ہیں۔ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ جن مقاصد کے تحت امریکہ-اسرائیل نے یہ جنگ شروع کی تھی، وہ کہیں سے بھی پورے ہوتے نظر نہیں آتے۔ البتہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بار بار اہداف کے حصول کا دعویٰ کرتے رہتے ہیں، جبکہ ایران بھی اس جنگ بندی کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ دراصل ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ بندی کو امریکی عسکری بالادستی کے ثبوت اور ایران کی جوہری خواہشات کے خاتمے کے طور پر پیش کر رہے ہیں، جبکہ ایران اسے اپنی ایک اسٹریٹجک فتح قرار دیتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے دنیا کی سپر پاور امریکہ اور جارح اسرائیل کی افواج کے حملوں کا تنہا مقابلہ کیا اور عالمی تیل کی فراہمی پر اپنے اثر و رسوخ کو بھی ظاہر کیا ہے۔ ایسے میں سفارتی ماہرین کو خدشہ ہے کہ یہ متضاد بیانات مستقل امن کی جانب کوئی مؤثر قدم نہیں بلکہ محض حکمت عملی میں تبدیلی کا اشارہ ہیں۔
موجودہ حالات اور مسلسل حساس پیش رفت کے درمیان یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ جنگ بندی کسی منطقی انجام تک پہنچ پائے گی۔ یہ بھی واضح نہیں کہ جنگ بندی کے باوجود اسرائیل پڑوسی ممالک پر حملے روک دے گا یا نہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ لبنان پر اس کے حملے جاری رہیں گے، جبکہ پاکستان نے بتایا تھا کہ معاہدے کے مسودے میں لبنان پر اسرائیلی حملوں کا خاتمہ بھی شامل ہے۔ ایک طرف امریکی صدر کی لمحہ بہ لمحہ بدلتی ہوئی بیاناتی پالیسی اور دوسری طرف اسرائیل کی جارحانہ حکمت عملی مستقل امن کی راہ میں شکوک و شبہات پیدا کر رہی ہے۔ ایران نے بھی واضح کیا ہے کہ اگر اس پر اسرائیلی حملے جاری رہے تو وہ سرحدوں سے باہر بھی تنازع کو وسعت دے گا، جو یقیناً تشویش کا باعث ہے۔ جنگ بندی کی خبروں کے درمیان اسرائیل کی جانب سے لبنان میں حزب اللہ کو نشانہ بنانے اور ان حملوں میں شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات نے عالمی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ لبنان میں محاذ سرگرم رہے گا، جنگ بندی کی حدود کو واضح کرتا ہے۔ امریکہ-ایران جنگ کے متوازی جاری تنازعات کو نظرانداز کرنے والی یہ جنگ بندی کتنی پائیدار ہوگی، اس پر شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
ایران نے مذاکرات سے پہلے ہی کہا تھا کہ بات چیت امریکہ کی وجہ سے ہی ناکام ہوگی ۔ اس نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ امن چاہتا ہے ، ساتھ ہی ریل لائنیں اور پل ٹھیک کرکے ان پر ریل گاڑیاں ثلا کر یہ دکھا دیا کہ وہ ہر چیلنج کے لئے تیار ہے ۔ پاکستان کی ثالثی مین امریکہ نے یورینیم افزودگی ، میزائل پروگرام پر روک اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول ختم کرنے یا مل کر ٹیکس وصول کرنے کی شرط رکھی تھی جس کی وجہ سے یہ مذاکرات ناکام ہو گئے ۔ امریکہ کی نیت کا اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ بات چیت کے دوران ہی ہرمز کو کھولنے کے لئے اس نے دو جہاز بھیج دیئے جنہیں ایران کی نیوی نے روک دیا ۔ اس معاملہ میں پاکستان کا رول بھی مشکوک رہا ، ایک طرف مذاکرات چل رہے تھے دوسری طرف اس نے اپنی ایک فوجی ٹکڑی سعودی عرب بھیج دی ۔ پھر ایران نے جو دس شرائط رکھی تھیں ان میں لبنان میں حزب اللہ اور اس کے حامیوں کے ساتھ جنگ بندی ، یورینیم افزودگی پروگرام کو جاری رکھنا اور ایران کے ہوائی راستہ کا احترام شامل تھا ۔ لیکن ان تینوں کی خلاف ورزی ہوئی جس کی وجہ سے جنگ بندی کے دیر پا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔امریکہ کی جانب سے جس طرح کی شرائط رکھی گئی ہیں اگر ایران انہیں مان لیتا ہے تو وہ آئندہ اپنی دفاع کرنے کے قابل بھی نہیں رہے گا ۔ اس لئے وہ ایسی کوئی بھی شرط منظور نہیں کرے گا جو اس کے وجود کے لئے خطرہ بنے ۔ دراصل یہ جنگ بندی برسرِ پیکار فریقین کے ارادوں کا امتحان بھی ہے۔ بلاشبہ موجودہ صورتحال مذاکرات کے لیے ایک محدود موقع فراہم کرتی ہے ۔اس لئے یہ سوال پیدا ہو رہا ہے کہ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد کیا دوبارہ جنگ ہوگی ؟
ترکی نے کہا ہے کہ اگر اب جنگ ہوتی ہے تو وہ ایران کا ساتھ دیگا ، دوسری طرف امریکہ لبنان اور اسرائیل کو ساتھ بیٹھا کر صلح کرانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ اسی دوران چین نے بھی جنگ بندی کے لئے چار نکاتی فارمولہ پیش کر دیا ہے ۔ امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ ہرمز سے جو بھی جہاز پاس ہوگا اسے امریکہ روکے گا لیکن چین کے جہازوں کو نہیں روکا گیا ۔ اگر اس کے جہاز روکے جاتے تو جنگ میں چین کے شامل ہونے کا امکان تھا ۔ ایران کو چین ، روس اور نارتھ کوریہ کی حمایت حاصل ہے یہ سب جانتے ہیں ۔ چین اور روس ایران کی فوجی و تکنیکی مدد بھی کر رہے ہیں ۔ اس صورتحال میں یہ مانا جا رہا ہے کہ جنگ کے بجائے ابھی مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا ۔ جس کے مرکز میں ہرمز رہے گا کیونکہ اس سے ایشیاء اور یورپ کے ممالک اور ان کی معیشت سیدھے طور پر متاثر ہو رہی ہے ۔ اس جنگ سے اسرائیل ، امریکہ کو کچھ ملا یا نہیں لیکن ایران دنیا کے دوسرے نمبر کے طاقتور ممالک میں شامل ہو گیا ہے جو اس کے لئے بڑی کامیابی ہے –












