دیوبند ،سماج نیوز سروس: فتوی آن موبائل سروس کے چیئر مین مفتی محمد ارشد فاروقی نے پریس کو جاری اپنے ایک بیان میں کہا کہ بر صغیر کے دینی مدارس کے تعلیمی آغاز موسم بہار کے موقع پر سیدنا امام شافعی کے سنہرے حروف سے لکھے جانے والی تحصیل علم کے متعلق چھ باتوں کا تذکرہ مفید اور نافع ثمر آور ہے امام شافعی فرماتے ہیں کہ برادر علم کی ثریا تک چھ چیزوں کے ذریعہ پہنچ سکتے ہیں نمبر 1ذہانت پہلی چیز علم حاصل کرنے کی صلاحیت ذہانت جس کے ذریعہ علم کی حقیقت سمجھی جا سکتی ہے انسان کے اندر کسی چیز کو سمجھنے کی مختلف صلاحیتیں ہوتی ہیں اور ان صلاحیتوں کا ایک دوسرے سے باہمی تفاوت بھی ہوتا ہے، لیکن عام طور پر انسانی ذہن اشیاء کو سمجھنے، برتنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہ صلاحیت کے مختلف درجات ہوتے ہیںسیدنا امام شافعی فرماتے ہیں کہ جو شخص علم کا حصول چاہے تو ضروری ہے کہ وہ عقل سے مالا مال ہو ذکاوت کی دولت سے نوازا گیا ہو- علم کے حصول کے لیے سب سے پہلی شرط عقل اور ذہنی فکری صلاحیت کا ہونا ہے۔ ماہرین کا تجزیہ ہے کہ جب انسان عقل کا استعمال کرتا ہے تو اس کی ذہنی اور فکری صلاحیت میں روز بروز اضافہ ہوتا ہے اور اگر عقل کا استعمال نہ ہو تو وہ کند ذہنی کا شکار ہو جاتا ہے۔علم کے حصول کے لیے عقل و فہم کا استعمال ضروری ہے ۔نمبر2طلب علم۔دوسری شرط ہے طلب علم، علم کے حصول کے لیے کوشاں ہونا اور علمی میدان میں ترقیات کے لیے آمادہ ہونا جب انسان کے اندر کسی چیز کی طلب ہوتی ہے تب ہی وہ اس کے حصول کی طرف بڑھتا ہے اور اس کے لیے کوشش کرتا ہے یہ بھی عجیب بات ہے کہ علم کے حاصل کرنے والے کا نام ہی طالب علم ہے جسے علم کی طلب ہو اسے طالب علم کہتے ہیں علم کی طلب تو کم سے کم ایسی ہونی چاہیے جیسے انسان کو پانی کی طلب ہوتی ہے بھوکے کو کھانے کی طلب ہوتی ہے۔وہ طالب علم کہلانے کا مستحق ہے جو علم کے حصول کے لیے طلب چاہت جذبہ شوق فراواں ہونا ضروری ہے ۔نمبر3 محنت ۔میدان علم میں اترنے والے کے لیے ضروری ہے کہ وہ محنت کرے محنت کرے جافشانی اور اپنی ساری توانائی علمی حصول پر مرکوز رکھے اور راہ طلب علم میں آنے والی مشقتوں مصیبتوں اور آفتوں کو جھیلنے کے لیے تیار رہے ۔علم کی راہ صبر کی راہ مشقت کی راہ سے گزر کر راحت کی راہ بنتی ہے۔ نمبر4 دولت۔علم کے حصول کے لیے چوتھی بات یہ ہے کہ طالب علم، علم کے حصول کے سلسلے میں ہونے والے اخراجات کو برداشت کرنے کی قوت رکھتا ہو اج کے زمانے میں طلبہ مدارس کی دو قسمیں کی جاتی ہیں ایک وہ جو اپنے اخراجات خود اٹھا سکتے ہیں۔دوسرے وہ جو اپنے اخراجات نہیں اٹھا سکتے ان کی کفالت اصحاب خیر مدارس کے ذریعہ کرتے ہیں ۔اس سلسلے میں ایک بنیادی بات تو یہ ہونی چاہیے کہ طلبہ میں یہ بات معروف نہ ہو کہ کون مستطیع ہے اور کون غیر مستطیع اسے صیغہ راز ارباب اہتمام رکھیں تو طلباء کی ذہنیت پر اس کا اچھا اثر پڑے پھر اج کے دور کے مطابق جو ایک عام انسان کی زندگی ہوتی ہے اور اس کے مصارف ہوتے ہیں اسی کے مطابق مدارس کے نظام میں کھانے پینے رہنے سہنے کے انتظامات مہیا کیے جائیں تاکہ طلباء یکسو ہو کر طلب علم میں مصروف ہوں اور انہیں کسی قسم کی دقت پیش نہ آئے۔












